تری پورہ میں ابھیشیک بنرجی کی جوشیلی تقریر میں مسلمانوں پر ہندو انتہاپسندوں کے تانڈو کا کوئی ذکر نہیں ——- تری پورہ کے مسلمانوں میں مایوسی کہ تری پورہ میں اقتدار تک پہنچنے کا خواب دیکھنے والی ترنمول کانگریس کےلئے 8.5فیصدمسلمانوں کی فکر نہیں

0
127

کلکتہ (انصاف نیوز آن لائن)
تری پورہ میں گزشتہ ایک ہفتے میں فرقہ پرستوں نے ایک درجن سےزاید مساجد ، درجنوں مکانات میں آگ لگادی، حالات اتنے خراب تھے کہ تری پورہ ہائی کورٹ نے سوموٹو نوٹس لیتے ہوئے تری پورہ حکومت سے اس معاملے میں حلف نامہ طلب کیا ہے۔

درگا پوجا کے موقع پر بنگلہ دیش میں قرآن کریم کی توہین کےبعد فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات رونما ہوئے ، بنگلہ دیش میں کئی مندروں میں آگ لگانے کی خبر آئی ۔بنگلہ دیش تشدد کی ملک کے تمام شہریوں کے ساتھ ہندوستانی مسلمان نے برسرعام مذمت کی ۔اس کے باوجود وشوہندو پریشد، بجرنگ دل اور آر ایس ایس نے تری پورہ جہاں مسلمانوں کی 8فیصد آبادی ہے میں ہفتوں تک جلوس نکالتی رہی اور ہرایک جلوس کا اختتام مسجد یا پھر مسلمانوں کے جائداد پر حملے سے ہوتا تھا۔ایک رپورٹ کے مطابق ایک ایک درجن سے زاید مسجدوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔قرآن کریم کو جلایا گیا۔تری پورہ کی مسلم آبادی اس ظلم کو برداشت کرتی رہی۔چند دنوں تک اپنے گھروں میں بند رہ کر یہ تماشا دیکھتی رہی۔سول سائٹی کی رپورٹ کےمطابق مسلمانوں کے دوکانوں کو پہلے ہی نشان زد کردیا گیا تھا اور اس کے بعد نقصان پہنچایا گیا ۔آسام سے متصل اضلاع میں مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر خواتین کےساتھ زیادتی بھی کی گئی اور پولس میں اس معاملے میں شکایت بھی کی گئی۔

تری پورہ کے واقعات پر جہاں بی جے پی سرے سے تردید کرتی رہی کہ یہاں اقلیتوں کے خلاف زیادتی کے واقعات نہیں ہورہے ہیں ۔تاہم بعد چند دنوں بعد کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ٹوئیٹ کرکے تری پورہ میں مسلمانوں کے خلاف ہورہے زیادتی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ہندئوں کو بھڑکا یاجارہا ہے ۔تین دہائیوں تک تری پورہ میں برسراقتدار سی پی آئی ایم نے بھی تری پورہ میں ہندو انتہا پسند جماعتوں کے تانڈوں کی محتاط انداز میں مذمت کی۔

راہل گاندھی کے بیان کے بعد تری پورہ کانگریس نے مسلمانوں کے خلاف زیادتی کے واقعات کے خلاف اگرتلہ میں حکومت کے خلاف دھرنا دیا۔مگر حیرت انگیز طور پر ترنمول کانگریس نے اس پورے معاملے میں خاموشی اختیار کی۔نہ ممتا بنرجی نے اور نہ ترنمول کانگریس کے جنرل سیکریٹری نے ایک ٹوئیٹ کرکے تری پورہ میں فرقہ وارانہ فسادات پر کوئی بیان جاری کیا۔جب کہ ترنمول کانگریس میں شامل ایڈوکیٹ عبدا لباسط کے گھر میں توڑ پھوڑ بھی ہوئی۔

تری پورہ میں آج ترنمول کانگریس کے جنرل سیکریٹر ابھیشیک بنرجی تری پورہ میں ایک بڑے پروگرام سے خطاب کیا۔جس میں بنگال ترنمول کانگریس کے کئی سینئر لیڈران موجود تھے۔انہوں نے پرجوش طویل تقریر میں تری پورہ کے وزیر بلب دیو اور وزیر اعظم مودی کوچیلنج کیا اور کہا کہ 2023میں تری پورہ کی بی جے پی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کا عزم دہرایا ۔انہوں نے کہا کہ تری پورہ کی بی جے پی حکومت ہر محاذ پر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنگال کی طرح تری پورہ میں ترقی اور امن و امان کا ماحول قائم کیا جائے گا۔
ابھیشک بنرجی نے اپنے طویل تقریر میں تری پورہ میں گزشتہ ہفتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد پر ایک لفظ بھی بولنا گوارہ نہیں کیا۔ایک طرف جہاں تری پورہ کی ہائی کورٹ نے اس پر نوٹس لیااور حکومت سے جواب طلب کیا مگر انہیں بھی تری پورہ کی بی جے پی حکومت کی طرح تری پورہ میں فرقہ وارانہ فسادات کا کوئی بڑُا مسئلہ نہیں معلوم ہوا۔تری پورہ کے مقامی مسلمانوں نے بتایا کہ تری پورہ میں ترنمول کانگریس کا جو طریقہ کار ہے اس کی وجہ سے کوئی تعجب نہیں ہوا۔وہ شروعات سے ہی تری پورہ کے مسلمانوں اور ان کے مسائل پر بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔

تری پورہ کی کل 42 لاکھ کی آبادی میں70 فیصد بنگالی ہیں۔ ان میں83 فیصد یعنی 30 لاکھ 63 ہزار 903 ہندو ہیں جن میں 14 لاکھ بنگلہ دیشی ہیں۔ مسلمان ساڑھے آٹھ فیصد یعنی تین لاکھ 16ہزار 42 ہیں۔اس کے علاوہ عیسائی ایک لاکھ 59 ہزار 882 اور بدھشٹ ایک لاکھ 25 ہزار 385 ہیں۔۔ ہندئووں کی 83 فیصد تعداد میں 6 لاکھ قبائلی بھی شامل ہیں جو 14 لاکھ بنگلہ دیشیوں کے سخت مخالف بلکہ ’جانی دشمن‘ ہیں۔اس اعتبار سے بنگلہ دیشی پناہ گزین ہندو ہی تری پورہ میں اکثریت میں ہیں۔ قبائلی ان بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو ’غیر ملکی‘ کہتے ہیں اور انہیں باہر نکالنا چاہتے ہیں۔ان کا مطالبہ ہے کہ تری پورہ میں باہر سے آکر بس جانے والوں کی جائز حد 1949 کو مانا جائے۔ تری پورہ کی 54 سالہ سیاسی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ نکتہ سامنے آیا کہ یہ قبائلی بنیادی طور پر کانگریس کے حامی رہے ہیں۔ان قبائلیوں کے نوجوانوں کی الگ تنظیم ’تری پورہ اپجاتی جوبا سمیتی‘ ہے۔۔ 1988 میں اس نے کانگریس کے ساتھ مل کر الیکشن لڑا تھا جس میں اس اتحاد کو 60 میں سے 31سیٹیں ملی تھیں۔ اتحاد کی حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد سے یہ قبائلی مسلسل کوشش کرتے رہے کہ بائیں بازو کی حکومت کو برخاست کردیا جائے۔

نڈیا ٹوڈے کے صحافی سمت مترا کی وہ رپورٹ پڑھنے کے لایق ہے جو انہوں نے پہلی بار 15جولائی 1980 کو لکھی تھی۔۔ اس کے بعد یہ رپورٹ 22 جنوری 2014 کو ’اپڈیٹ‘ کی گئی تھی۔اس رپورٹ میں 8 جون 1980 کو تری پورہ میں پھوٹ پڑنے والے فسادات کی تفصیلات درج ہیں۔یہ فسادات بڑے بھیانک تھے۔۔ اس رپورٹ کا اختصار یہ ہے کہ 14 لاکھ بنگلہ دیشی ہندو پناہ گزینوں نے‘ 6 لاکھ قبائلی آبادی پردہشت مچا رکھی ہے۔۔ یہ پناہ گزین ان قبائلیوں پر سماجی زیادتیاں کرتے ہیں۔تری پورہ میں دو دہائیوں سے زیادہ مدت تک انہی بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کے سہارے بایاں بازو حکومت کرتا رہا۔۔ یہ پناہ گزین ہندو‘ عیسائی مشنری سے بھی ’لڑتے بھڑتے‘ رہتے ہیں۔ 6جون 1980 کو انہوں نے 20 قبائلی لڑکوں کو قتل کردیا تھا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور قبائلیوں نے تری پورہ کی راجدھانی اگر تلہ سے 30 کلو میٹر دور مندھائی کے 600 خاندانوں پر مشتمل ایک پورے گائوں کو آگ لگادی اورڈھائی سو لوگوں کو قتل کردیا۔اس وقت کے کمیونسٹ وزیر اعلی نرپن چکرورتی نے کہا تھا کہ یہ نسلی قتل عام ہے۔
تری پورہ میں وشوہندو پریشد کے غنڈوں کے نشانے پر مسلم خواتین– حملے کے دوران جنسی زیادتی کی کوشش
تری پورہ کی پوری سیاسی اور سماجی تاریخ میں ایسا کوئی ایک بڑا واقعہ نہیں ملتا کہ جس کی بنیاد پر یہ شک بھی کیا جاسکے کہ وہاں کے مسلمان کبھی بنگلہ دیشی پناہ گزین ہندئوں یا قبائلیوں کے نشانہ پر تھے۔۔ پھر اچانک یہ کیا ہوا؟اس کا کچھ جواب انڈین ایکسپریس کی ایشا رائے کی اس رپورٹ سے ملتا ہے جو اس نے یہاں بی جے پی کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد 26جون 2018 کو لکھی تھی۔’
تری پورہ کو کیسے جیتا گیا‘کے عنوان سے تحریر اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2014 میں تری پورہ میں آر ایس ایس کی کل 60 شاکھائیں تھیں جبکہ آج ان کی تعداد 265 ہوگئی ہے۔ ایشا رائے نے بتایا تھا کہ شمال مشرق کی ریاستوں کو ’فتح‘ کرنے کیلئے تری پورہ کی فتح آر ایس ایس کے عظیم منصوبہ کا حصہ تھی۔25 نومبر کو تری پورہ میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ فروری 2023 تک وہاں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔
تری پورہ میں مسلمانوں پر مظالم اور مساجد میں توڑ پھوڑ پر ترنمول کانگریس اور بائیں محاذ کی مجرمانہ خاموشی—– تشدد کی آڑ میں منصوبہ بند طریقے سے تری پورہ کے 8.6فیصد مسلم آبادی کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش
ماہرین بتاتے ہیں کہ ترنمول کانگریس کے سیاسی منظرنامے میں داخل ہونے سے بی جے پی کو خدشہ ہے کہ کہیں بنگالی ووٹروں کا ایک طبقہ ممتا بنرجی کی طرف نہ چلاجائے ۔کیوںکہ ممتا بنرجی خود کو بنگالیوں کا چمپئن قرار دیتی ہیں ۔دراصل یہ فرقہ وارانہ فسادات بنگالی ہندو اور مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔دوسری طرف ترنمول کانگریس اس خوف سے بنگالی مسلمانوں کا ایشو نہیں اٹھارہی ہے اس کی وجہ سے انہیں بنگالی ہندئوں کی ناراضگی نہ سہنی پڑے۔اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ تری پورہ کے مسلمانوں کو ممتا بنرجی کی آمد کی قیمت چکانی پڑرہی ہے۔