Friday, July 19, 2024
homeاہم خبریںمیانمار میں ایک اور مرتبہ روہنگیائی مسلمانوں کی نشل کشی کا خطرہ!

میانمار میں ایک اور مرتبہ روہنگیائی مسلمانوں کی نشل کشی کا خطرہ!

خونریز خانہ جنگی میں روہنگیائی مسلمانوں کوایندھن بنانے کی کوشش بنگلہ دیش کے کاکس بازار کے کیمپو ں میں آبادروہنگیائی نوجوانوں کا جبراً فوج میں بھرتی اور اغوا کیا جارہا ہے۔کیمپوں کے مکین رات بھر جاگ کر اپنے نوجوانوں کی حفاظت کررہے ہیں ۔روہنگیائی شہری میانمار کی فوج اور باغی گروپ کے درمیان پھنس گئے ہیں اقوم متحدہ اور سلامتی کونسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر خاموشی۔روہنگیائی مسلمانوں کیلئے نسل کشی کیلئے اقوام متحدہ ذمہ دار:بروک

نور اللہ جاوید

فروری 2021میں فوجی بغاوت کے ذریعہ نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی قیادت والی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ہی میانمار بدترین خانہ جنگی کا شکار ہے۔ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور سیکڑوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں تین سال کی طویل خانہ جنگی کے نتیجے میں میانمار کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔صورت حال یہ ہے کہ کئی صوبے فوجی قیادت کے ہاتھوں سے نکل گئے ہیں اور باغی گروپ نے اپنے کنٹرول میں کرلیا ہے۔عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹ کے مطابق میانمار کی معیشت کی شرح نمو ایک فیصد سے بھی کم رہنے کی توقع ہے۔میانمار کی خانہ جنگی کے اثرات سے بھارت کی کئی ریاستیں متاثر ہوئی ہیں ۔منی پور، میزورم میں بڑی تعداد میں میانمار کے باشندے پناہ گزیں ہورہے ہیں ۔ اس وقت آسام اور منی پور کے جیلوں میںسیکڑوں میانمار کے شہری جیل میں بند ہے۔حال ہی میں ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ منی پور اورآسام کے جیلوں میں میانمار کے قیدی انسانی حقوق سے محروم ہیں ۔جیل کی مدت اور جرمانہ ادا کرنے کےباوجود انہیں رہانہیں کیا جارہا ہے۔میانمار کی سیاسی صورت حال اور اس خانہ جنگی کا کیا نتیجہ نکلے گا اور کیا فوجی قیادت ملک کی سالمیت کے خاطر بیرکوں میں واپس چلی جائے گی اور حکومت سویلین کے ہاتھوں سونپ دی جائے گی ۔ساتھ ہی یہ سوال بھی اہم ہے کہ فوجی جنتاکے خلاف ہتھیار اٹھانے والے باغی گروپ کیا جمہوریت کا حصہ بنیں گے ؟ ۔ان سوالوں کاجواب اس وقت نہیں دیا جاسکتا ہے۔یہ اس لئے بھی ہے کہ عالمی طاقتیں خانہ جنگی کا خاتمہ نہیں چاہتی ہیں ۔چین اور امریکہ اپنے مفادات کے تناظر میں میانمار کی صورت حال کو دیکھ رہی ہے۔میانمار بھارت کا پڑوسی ملک ہے اور اگر میانمار میں صورت حال مزید بدترین ہوتے ہیں تو اس کا سیدھااثر بھارت پر بھی پڑسکتا ہے۔یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کو رکوانے کا دعویٰ کرنے والے ’وشو گرومودی جی بھی کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آرہے ہیں ۔تاہم اس خونریز خانہ جنگی کا اُس طبقے کو ایندھن بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جنہیں گزشتہ نصف صدی سے بھی زائد عرصے سے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

میانمار کی خانہ جنگی میں بظاہر روہنگیائی مسلمانوں کا کوئی کردار نظر نہیں آتا ہے۔تاہم حالیہ دنوں میں جورپورٹیں آئی ہیں اس میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ میانمار کی خا نہ جنگی نے روہنگیائی شہریوں کیلئے مشکلات ومصائب کا ایک نیا باب کھول دیا ہے۔برطانیہ سے تعلق رکھنے والی حقوق انسانی کی ایک تنظیم برمی روہنگیا آرگنائزیشن UK (BROUK نے میانمار کی بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر واقع ساحلی قصبے مونگ ڈاؤ میں اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے فوڈ اسٹورز میں آتشزدگی اور لوٹ مار کے بعدانتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ فوج اور ارکان آرمی کے درمیان جاری خانہ جنگی میں میانمار میں رہ جانے والے روہنگیائی مسلمان دشمنی کا مرکز بن گئے ہیں اور ایک بار پھر بڑے پیمانے پر نسل کشی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔برمی روہنگیا آرگنائزیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک کی فوج اور ایک طاقتور نسلی مسلح گروپ کے درمیان لڑائی مغربی رکھائن کی طرف بڑھ رہی اور اس کے نتیجے میں روہنگیائی اقلیت کی ’’نسل کشی ‘‘ بڑھ گئی ہے۔

میانمار کی فوج نےگزشتہ 46برسوں سے مرحلہ وار راکھین صوبے سے روہنگیا ئی مسلمانوں کے انخلا میں اہم کردار اداکیا ہے اور اس کے بعد انہیں شہریت اور ووٹ دینے کے حق سے بھی محروم کردیا ۔آج وہی میانمار کی فوج بنگلہ دیش کے کیمپوں میں جاکر روہنگیائی مسلم نوجوانوں کو فوجی میں شامل ہونے کی ترغیب ہی نہیں بلکہ ان کا اغوااور فوج میں جبری بھرتی کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں ۔ایشیاء پیسفک خطے کے لیے بین الاقوامی حالات حاضرہ سے متعلق مشہور میگزین ’’دی ڈپلومیٹ‘‘ڈینا سانتانا پیریز کی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بنگلہ دیش کے کاکس بازارمیں روہنگیائی کیمپوں میں آباد نوجوانوں کی جبراً بھرتی سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے۔میگزین کے مطابق جیسے جیسے میانمار کی فوج کمزور ہورہی ہے اس کے ساتھ ہی کاکس بازار کے کیمپوں میں جبراً بھرتی کی کارروائی تیز ہوگئی ہے۔بی بی سی کی ایک اور تحقیقاتی رپورٹ میں میانمار کے کیمپوں میں مقیم روہنگیائی نوجوانوں کو فوج میں جبراً شامل کئے جانے پر احوال درج کئے گئے ہیں ۔

روہنگیائی مسلمانوں کو بے وطن کرنے میں صرف میانمارکی فوجی جنتا تنہا مجرم نہیں ہے بلکہ اس میں بدھشٹ انتہاپسند اور میانمار کی سیاسی جماعتیں یہاں تک کہ حقوق انسانی کی چمپئن اور نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی بھی شامل ہیں ۔اقوام متحد ہ کی رپورٹ کے مطابق پوری دنیامیں سب سے زیادہ مظلوم طبقہ روہنگیائی مسلمان ہیں ۔دراصل یہ ایسا طبقہ ہے جنہیں پہلے اپنے حق رائے دہی سے محروم کیا گیا اور اس کے بعد شہریت چھین لی گئی اور بے وطن کردیا گیا ۔1978 میں آپریشن ڈریگن کنگ (ناگامین) کے ذریعے تقریباً300,000(3لاکھ)روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔ 1982 میں شہریت کا قانون پاس کیا گیا اور راتوں رات روہنگیا مسلمانوں کی شہریت چھین لی گئی۔ صحت کی خدمات، تعلیم اور جائیداد کے حق جیسے بنیادی حقوق سے محروم روہنگیا کو تشدد اور ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑا۔جنرل تھان شوے نے اسی طرح 1991-1992 میں آپریشن کلین اینڈ بیوٹیفل نیشن کے ساتھ200,000(دو لاکھ)سے زائد روہنگیائی شہریوں جس میں مڈل کلاس طبقے کی اچھی خاصی تعداد تھی کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔صدر تھین سین، جو 2011 سے 2016 تک فوج کے سربراہ رہے نے بھی120,000روہنگیا ئی مسلمانوں کو منظم پالیسیوں کے تحت بے گھر کیا۔ان میں سے تقریباً 100,000اندرونی طور پر بے گھر افراد کے کیمپوں میں رہتے ہیں۔ اراکانی مسلمانوں کے یہ حقوق، جنہیں 1948 میں آزادی سے لے کر 2015 تک ووٹ ڈالنے اور منتخب ہونے کا حق تھا، مکمل طور پر چھین لیا گیا ۔2016 اور 2017 کے درمیان، نسل کشی کی دو اور بڑی مہمیں چلائی گئیں۔ان دو مہموں کی وجہ سے، اراکان (ریاست راکھین) کی 75 فیصد آبادی بے گھر ہو کر بنگلہ دیش میں پناہ کے متلاشی بن گئی۔جن علاقوں میں یہ روہنگیائی آباد تھے ان علاقوں کو فوج کی ملکیت قرار دےدیا گیا ہے۔روہنگیا، جو کبھی میانمار کے مساوی شہری تھے، اب شہریت، اپنے گھروں اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔1962سے اب تک جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں ان سب کی ایک پالیسی رہی ہے کہ کسی بھی صورت میں روہنگیاؤں کو میانمار کا شہری تسلیم نہیں کیا جائے ۔ میانمار کے دیگر علاقے اور ریاستوں میں آباد مسلمانوں کو وہ صو رت حال کا سامنا نہیں ہے جو روہنگیائی شہریوں کو ہے۔تاہم گزشتہ ایک دہائی میں بدھ بھکشوؤں نے مسلمانوں کے خلاف جو نفرت پھیلائی ہے اس کی وجہ سے دیگرعلاقے میں رہنے والے مسلمانوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔خانہ جنگی کی وجہ سے مسلمانوں کے دیگر طبقات متاثر ہوئے ہیں ۔تاہم ان کی شہریت محفوظ ہے اور یہی چیز ان کیلئے اطمینان بخش ہے۔

میانمار کا صوبہ راکھین وہ صوبہ جہاں سے سب سے زیادہ روہنگیائی مسلمانوں کا انخلا ہوا ہے ۔اس صوبے میں بدھشٹ اکثریت آبادی ہے اور خانہ جنگی کی شروعات کے بعد یہاں کی مسلح گروپ راکھین کی خود مختاری کیلئے جدو جہد کررہے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں میانمار کی فوجی جنتا شکست کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 17جون کو اقوام متحدہ کے فوڈ پروگرام کے دفتر میں آتشزدگی اور لوٹ مار سے قبل موڈ ڈائو کے علاقے سے روہنگیائی شہریوں کو علاقے خالی کرنے کی ہدایات دی گئی تھی ۔اس کے بعد ہزاروں روہنگیائی بھاگنے پر مجبور ہیں ۔روہنگیا ئی مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ میانمار کی فوجی جنتا اور راکھین آرمی دونوں چاہتے ہیں کہ روہنگیائی ان کی طرف سے جنگ کا حصہ بنیں ماضی میں بدھشٹ اور فوج کی ملی بھگت کے نتیجے میں ہی2017میں بڑے پیمانے پر روہنگیائی مسلمانوں کا قتل عام ، خواتین کی عصمت اور نقل مکانی پر مجبور ہوئے 2017 میںتقریبا750,000افراد کو بنگلہ دیش میں ڈھکیل دیا گیا ۔بروک نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ6لاکھ روہنگیائی جو رکھائن صوبے میں مقیم ہیں گزشتہ سال اکتوبر میں فوج اوررکھائن کی مسلح گروپ اے اے کے درمیان لڑائی تیز ہونے کے بعد دونوں کے نشانے پر روہنگیائی مسلمان ہیں ۔رپورٹ کے مطابق انہیں’’ آہستہ آہستہ موت ‘‘کے دہانے پر پہنچایا جارہا ہے۔ خوراک، پانی، پناہ گاہ، صفائی ستھرائی اور طبی دیکھ بھال سمیت بقا کے لیے ناگزیر وسائل سے محروم جبراً محروم کیا جارہا ہے۔دوسری طرف روہنگیائی نوجوانوں اور 14سے بھی کم بچوں کا اغوام کرکے جنگ میں جھونکا جارہا ہے۔

بروک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ میانمار کی فوج اور مسلح گروپ دونوں روہنگیائی مسلمانوں کے قتل، تشدد، ظالمانہ سلوک، ماورائے عدالت پھانسی، جنسی تشدد، عصمت دری، یرغمال بنانے، بچوں کو بھرتی کرنا اور استعمال کرنا، لوٹ مار کرنا، اور شہریوں پر جان بوجھ کر حملہ کرنےجیسے جنگی جرائم کا ارتکاب کررہے یں ۔بروک کے صدر تون کھن کہتے ہیں کہ رکھائن ریاست میں باقی رہ جانے والے روہنگیا کو یا تو میانمار کی فوج یا اراکان آرمی کے ہاتھوں تیزی سے موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا زندگی کی بنیادی ضروریات سے منظم طریقے سے محروم کئے جانے کی وجہ سے بتدریج موت کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔

جبری بھرتی، قتل و غارت گری ، حملے کے شکار صرف میانمار میںرہنے والے 6لاکھ روہنگیائ مسلمان نہیں ہورہے ہیں ۔زندگی کی خاطر اپنا وطن چھوڑ کر بنگلہ دیش میں کسمپرسی کی حالت میں روہنگیائی رفیوجیوں کو بھی اسی طرح کی صورت حال کا سامنا ہے۔اس وقت دس لاکھ سے زائد افراد بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں لگائے گئے کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزاررہے ہیں۔دس لاکھ پناہ گزینوں کی کفالت کرنا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔مگر ان کیمپوں کا دورہ کرنے والے بین الاقوامی صحافی برادری کی رپورٹوں سے انداز ہ ہوتا ہے کہ کیمپوں میں مقیم روہنگیائی صورت حال انتہائی خراب ہے ۔جب کہ روہنگیائی نام پر پوری دنیا سے بنگلہ دیش کو عطیات مل رہے ہیں مگر یہ عطیات ان روہنگیائی تک نہیں پہنچ رہے ہیں ۔بنگلہ دیش کی حسینہ حکومت ان روہنگیائی شہریوں کو بے یارو مدگار چھوڑ دیا ہے۔ایک طرف رپورٹنگ کرنے کیلئے صحافیوں کو کیمپوں تک آزادانہ رسائی نہیں دی جارہی ہے تو دوسری طرف کیمپوں میں میانمار کی فوجی جنتاکےاہلکار کیمپوں میں جاکر روہنگیائی نوجوانوں کو جنگ میں شامل ہونے کیلئے دھمکی آمیز ترغیب دے رہے ہیں ۔بلکہ اغوا اور جبری بھرتی بھی کئے جارہی ہے۔ایسے میں بنگلہ دیش کی سیکورٹی انتظامیہ بھی سوالوں کی زد میں ہے؟۔سوال یہ ہے بھی ہے کہ کی بنگلہ دیش حکومت کی مرضی کے بغیر میانمار جنتا کے اہلکاروں کی کاکس بازار تک رسائی کیسے ہوئی ۔بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں مقیم روہنگیائی انسانی حقوق کے کارکن اور کمیونٹی لیڈرہیتوے لائن کہتے ہیں کہ’’بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزین، جو پہلے ہی بے پناہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اب فوج کی طرف سے ان کے پراکسیز بھرتی کا نشانہ بن رہے ہیں۔کئی نوجوان بھرتی سے بچنے کے لیے کیمپ سے فرار ہو گئے ہیں، جبکہ دیگر رجسٹرڈ رفیوجی کیمپ سیٹلمنٹ میں واقع خاندان اور دوستوں کی پناہ گاہوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔کیوں کہ یہاں گینگ کی سرگرمیاں سب سے کم ہیں ۔میانمار فوج کی مسلح گروپ سے متعلق سماجی کارکن نے بتایا کہ ’’وہ چاہتے ہیں کہ ہم میانمار میں جا کر لڑیں۔ وہ روہنگیا کمیونٹی کے تمام نوجوانوں کو اکٹھا کر رہے ہیں اور انہیں ارکان آرمی کے خلاف میانمار کی فوج میں شامل ہونے پر مجبور کر رہے ہیں۔ہم جانا نہیں چاہتے لیکن وہ ہمیں روزانہ دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ابھی کیمپ میں رہنا پہلے سے کہیں زیادہ خوفناک ہے‘‘۔جون اور مئی میں ان کی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔کوتوپالونگ کیمپ میں رہنے والے حقوق انسانی کے کارکن محمود کہتے ہیں کہ مسلح گروپ چوبیس گھنٹے گرفتاریاں کرتا ہے، کسی کو نشانہ بناتا ہے، خاص طور پر ہماری کمیونٹی کے رضاکار کارکنوں، جیسے اساتذہ اور انسانی امداد کے کارکنان۔ وہ اس مقصد کے لیے ہر کیمپ میں میٹنگیں کر رہے ہیں۔

علاقائی نیوز سروس ریڈیو فری ایشیا کے مطابق مئی سے15جون تک 500 سے زیادہ روہنگیا پناہ گزینوں پر مبینہ طور پر مسلح گروہوں نے میانمار میں جاری جنگ میں جبرا شامل کرلیا ہے ۔جو لوگ راکھن ریاست میں جنتا فوج میں بھرتی اور مدد سے انکار کرتے ہیں انہیں مار پیٹ اور بعض صورتوں میں مہلک نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ روہنگیا رجسٹرڈ پناہ گزین کیمپ میں رہنے والی ایک انسانی حقوق کی ایک اور کارکن ثمینہ اسلام نے بتایا کہ بہت سے روہنگیا جو حقوق انسانی کی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں انہیں سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں ۔خطرے کی وجہ سے کام پر نہیں جا رہے ہیں۔ ثمینہ کہتی ہیں کہ مسلح گروہ کمیونٹی کو ڈرانے کے لیے کچھ کیمپوں میں آگ بھی لگا رہے ہیں۔مئی میں روہنگیائی کیمپوں میں بڑے پیمانے پر آتشزدگی کا ایک بڑا واقعہ پیش آیا تھا۔مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ اس آتشزدگی کے پیچھے بھی اسی گروپ کا ہاتھ تھا۔ ثمینہ اسلام کہتی ہیں کہ ہم اچھی طرح سو نہیں پاتے اور اکثر اندھیرے کے بعد گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔یہ گینگ زیادہ تر رات کو لوگوں کو لے جاتے ہیں، لیکن بعض اوقات دن کے وقت بھی، اس لیے ہم کبھی بھی خود کومحفوظ محسوس نہیں کر تے ہیں۔جبرا ً بھرتی کی کارروائی فروری سے جاری ہے ۔مگر المیہ یہ ہے کہ جن نوجوانوں کو میانمار لے جایا گیا ہے ان میں سے کسی کو بھی شہریت کارڈ نہیں دیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ جسے شائینا باؤشنرنے تیار کی ہےمیں کہا گیا ہے کہ ’’میانمار کی فوج جس نے کئی دہائیوں سے روہنگیا کے خلاف مظالم کئےاورشہریت دینے سے انکار کیا ہے، اب انہیں اپنی طرف سے لڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔روہنگیائی نوجوانوں کو صرف میانمارکی فوجی جنتا ہی جبراً بھرتی نہیں کررہی ہے بلکہ بین الاقوامی ایجنسیوں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روہنگیا سالویشن آرگنائزیشن (RSO)، اراکان روہنگیا آرمی (ARA) اور اراکان روہنگیا سالویشن آرمی (ARSA) بھی بڑے پیمانے پر روہنگیائی مسلم نوجوانوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کےلئے تشدد اور اغواکا سہار بھی لیا جارہا ہے۔کبھی کبھی ان مسلح گروپوں کے درمیان بھی مقابلہ آرائی ہوتی ہے اور ان تمام کی کوشش صرف یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ روہنگیائی نوجوانو ں کی بھرتی کریں۔کاکس بازار کوتو پالنگ کیمپ میں گزشتہ دنوں بڑے پیمانے پر آتشزدگی کا جوواقعہ پیش آیا وہ کوئی حادثاتی نہیں تھا بلکہ کیمپ کے اندر بدامنی کا دانستہ ردعمل تھا ۔ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کی آرمڈ پولیس بٹالین گینگ بھرتی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ بنگلہ دیشی پولیس گروہوں کی پرتشدد اور دھمکی آمیز سرگرمیوں پر آنکھیں بند کر رہی ہے، مجرموں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ میانمار کی بدترین اور خونریزخانہ جنگی میں روہنگیائی مسلمان کہاں کھڑے ہیں ۔آج بھی بڑی تعداد راکھین صو بے کیمپوں میں روہنگیائی آبادہیں۔

ان کیمپوں میں رہنے والوں کی حالت مزید بدترین ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق میانمار کی ریاست راکھین میں 1000سے زیادہ روہنگیا ئی مردوں کو اغوا کر لیا گیا ہے اور انہیں میانمار کی فوج نے اپنی طرف سے باغی گروپ اراکان آرمی (AA) کے خلاف لڑنے کے لیے زبردستی بھرتی کیا ہے۔ روہنگیا مردوں اور ان کے خاندان کے افراد کو راکھین ریاست میں جنتا کے تنازعے کی حمایت کرنے کے لیے بھرتی کرنے اور فوجی تربیت لینے سے انکار کرنے پر مار پیٹ اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بھرتی کی کوششوں سے بچنے کے لیےایک لاکھ سے زائد نوجوان اپنے گھروں سے بھاگ گئے ہیں۔میانمار میں قانون ہے کہ ہنگامی صورت حال میں ہرایک شہری کو فوج کا حصہ بننا پڑے گا ۔مگر سوال یہ ہے کہ جب روہنگیائیوں کو میانما ر کا شہری تسلیم نہیں کیا جارہے تو پھر ان پر یہ قانون کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے۔1982میں پاس شہریت قانون کے مطابق روہنگیائی میانمار کے شہری نہیں ہیں ۔بی بی بی سی نے ایسے کئی نوجوانوں کا انٹرویو کیا ہے جنہیں جنتا فوج نے شہریت کا لالچ دے کر بھرتی کیا مگر جنگ میں حصہ لینے کے بعد اس وعدے کے مطابق انہیں شہریت نہیں دی گئی ۔بی بی سی کی رپور ٹ کے مطابق فوجی افسران کیمپوں میں گھوم رہے ہیں اور نوجوانوں کو فوجی تربیت کے لیے رپورٹ کرنے کا حکم دے رہے ہیں۔2012 میں ہزاروں روہنگیائی مسلمانوں کو راکھین ریاست کی مخلوط آبادیوں سے بے دخل کر دیا گیا، اور انہیں کیمپوں میں رہنے پر مجبور کیا گیا۔ پانچ سال بعد اگست 2017 میں جب فوج نے ان کے خلاف وحشیانہ کلیئرنس آپریشن شروع کیاتو ,000 700روہنگیائی پڑوسی ملک بنگلہ دیش بھاگ گئے۔

آپریشن کے دوران ہزاروں افراد کا قتل اورخواتین کی عصمت دری اور ان کے گھروں کو جلا دیا۔ ان میں سے کوئی600,000روہنگیائی اب بھی میانمار کے راکھین کے کیمپوں میں مقیم ہیں ۔انسانی حقوق کے گروپ فورٹیفائی رائٹس سے تعلق رکھنے والے میتھیو اسمتھ اپنی رپورٹ میں کہتے ہیں کہ یہ بھرتی مہم غیر قانونی اور جبری مشقت کے مترادف ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سفاکانہ مہم کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔فوج ایک ملک گیر جمہوری انقلاب کو روکنے کی کوشش میں روہنگیا نسل کشی کے متاثرین کی بھرتی کر رہی ہے۔ اس حکومت کو انسانی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔2012اور 2017میں راکھین میں روہنگیائیوں کے خلاف جونسل کشی پرمبنی جو آپریشن چلایا گیا تھا اس میں میانمار کی فوجی جنتا کو بدھشت انتہاپسندوں اور راکھین آرمی کی حمایت حاصل تھی۔اب صورت حال ہے کہ تینوں آپس میں دست و گریباں ہیں ۔راکھین صوبہ فوج کی ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے۔ایسے میں راکھین آرمی جو میانمار کی فوج کے مقابل ہے نے راکھین صوبے میں مقیم ہرایک فرد کو شہریت دینے کی بات کی ہے۔اس کے بعد سے یہ امید جاگ گئی تھی کہ حالات بہتر ہونے کے بعد تمام بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیای شہریوں کی واپسی ہوسکتی ہے۔ مگر روہنگیائی شہریوں کی میانمار جنتاکی فوج کی شمولیت کی خبروں نے ایک بار پھر راکھین آرمی کو روہنگیائی سے بدظن کردیا ہے اور وہ اب شہریت دینے کے وعدے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ روہنگیا اب ایک ایسی فوج کے لیے لڑنے پر مجبور ہیں جو میانمار میں ان کے رہنے کے حق کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔دوسری طرف نسلی باغیوں سے دور ہو گئے ہیں جو جلد ہی رکھائن کے بیشتر حصے پر قابض ہو سکتے ہیں۔ روہنگیائی مسلمان دونوں گروپ کے درمیان پھنس گے ہیں ۔

عالمی برادری میانمار اور روہنگیائی مسلمانوں سے منھ موڑ لیا ہے!
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اقوام متحدہ مکمل طور پر ناکام ادارہ بن چکا ہے۔گزشتہ 9مہینوں سےفلسطین پر اسرائیلی جارحیت جاری ہے۔40ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں مگرعالمی برادری اسرائیلی جارحیت پر انگشت لگانے میں فیل ہوچکی ہے۔جوش انتقام میں اسرائیل اس قدر اندھا ہوچکاہے وہ لگاتار بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے اور عالمی برادری خاموش تماشائی ہے۔صورت حال یہ ہے کہ اس جنگ سے امریکہ اور یورپ کے عوام تنگ آچکے ہیں اور اس کے نتیجے میں تعلیمی اداروں میں طلبا احتجاج کررہے ہیں ۔حقوق انسانی کا چمپئن اور ٹھیکدار سمجھنے والا امریکہ اسرائیل کے سامنے کس قدر پست ہے کہ اس اندازہ اس سے لگایاجاسکتا ہے کہ پہلے صدارتی مباحثہ میں جوبائیڈن اور ٹرمپ دونوں اسرائیل کی حمایت میں بڑھ چڑھ کربول رہے تھے۔اخلاقی دیوالیہ پن یہ ہے کہ فلسطین میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر دونوں میں سے کوئی بولنے کو روادار نہیں تھے۔بھارت ناوابستہ تحریک کا محرک اول رہا ہے۔وہ بھی اسرائیلی جارحیت میں حصہ دار بن چکا ہے ۔اسرائیل کو ہتھیار فراہم کررہا ہے۔چیختے و چلاتے ، روتے بلکتے بچوں کی آوازوںکے باوجود عالمی ضمیر مردہ ہوچکا ہے۔یوکرین میں روسی جارحیت جاری ہے۔عالمی طاقتیں دوونوں ممالک کو بیٹھاکر جنگ بندی کرانے میں ناکام ہوچکی ہیں۔عالمی برادری کی ناکامی کا بین ثبوت میانمار بھی ہے جہاں نصف صدی سے زائد عرصے سے اقلیتی آبادی پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑا جارہا ہے۔عالمی عدالت کے فیصلے باجوود میانمار کی فوجی جنتا اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں ہے۔چناں چہ بروک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ میانمار کی صورت حال بین الاقوامی برادری کی ناکامی کا نتیجہ ہے ۔بروک کی رپورٹ کے مطابق تقریبا2لاکھ روہنگیائی میانمار میں بے گھر ہو چکے ہیں اب مزید جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے۔بروک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے میانمار اور روہنگیاکی صورت حال پر اجلاس طلب کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت کی ہدایت کی بار بار خلاف ورزی پر وقت آگیا ہے کہ میانمار کو سزا دی جائے ۔

بروک نے اپنی رپورٹ میں عالمی برادری کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ میانمار میں روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کوئی ناگزیر نہیں تھابلکہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے یہ سب جان بوجھ کر ہونے دیا ۔بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں مگر اقوام متحدہ اس پر کارروائی کرنے کی کوئی پہل نہیں کی۔میانمار میں روہنگیائی شہریوں کے قتل مکان ، جبری نقل مکانی اور خواتین کے ساتھ عصمت دری اور بچوں کے اغوا کے واردارت کے بعد بھی اگر میانمار کی آمر حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے تو اس کا واضح مطلب ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل دنیابھر کی آمرانہ حکومتوں کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ اقلیتوں ، کمزور طبقات اور سیاسی مخالفین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے کے بعد بھی وہ کارروائی سے بچ سکتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ پرامن دنیا کیلئے یہ انتہائی خطرناک صورت حال ہے۔آمر اور استعماری قوتوں کے سامنے تمام بین الاقوامی اداروں اور تنظیمیں پست ہوچکی ہیں ۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین