اتراکھنڈ کے کاشی میں مسلمانوں کا ناطقہ بند

اتراکھنڈ :ہندوتو تنظیموں کا مسلمانوں کےخلاف مظاہرہ ،شہر چھوڑ کر جانے کی دھمکی-ہندو لڑکی کو بھگانے کے الزام میں عبید خان اور جتیندر سینی گرفتار مگر ہندو تنظیموں نے شہر کے مسلمانوں کے خلاف مورچہ کھول دیا ،دس دنوں میں 30 سے زائد مسلمان اپنا دکان بن کر کے شہر چھوڑنے پر مجبور

0
136

نئی دہلی،06 جون :۔

اتراکھنڈ کے اتر کاشی میں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسی شدت پسند اور مسلم مخالف تنظیموں نے مسلمانوں کے خلاف مورچہ کھول رکھا ہے ۔شہر کے مسلمان دکانداروں کو اپنی دکان بند کر کے شہر چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔اترکاشی کے پرولا علاقے میں گزشتہ ماہ ایک ہندو لڑکی کو بھگانے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سے ایک کانام عبید خان ہے جبکہ دوسرے کا نام جتیندر سینی ہے ۔رپورٹ کے مطابق دونوں کی گرفتاری کے بعد علاقے میں حالات خراب ہو گئے ہیں۔

گرفتار ملزمین میں جتیندر سینی بھی شامل ہے مگر ہندو شدت پسند تنظیموں نے صرف مسلمانوں کے خلاف مہم شروع کر رکھا ہے ۔اور انہیں شہر چھوڑ کر جانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے مسلمانوں کی بند دکانوں پر پوسٹر چسپاں کر کے انہیں کاروبار بند کرنے اور شہر چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔ پولیس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے نامعلوم افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے دکانوں سے پوسٹرز بھی ہٹا دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہفتہ کو دائیں بازو کے گروپوں کی جانب سے منعقدہ احتجاج کے بعد اتوار کو شدت پسندوں نے مسلمانوں کی بند دکانوں پر پوسٹر چسپاں کر دیے۔ اس پوسٹر کے ذریعے انہیں 15 جون کو ہونے والی مہاپنچایت سے پہلے اپنا کاروبار بند کرنے اور شہر چھوڑنے کی دھمکی دی گئی۔ بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ کئی جگہوں پر کچھ دکانوں پر سیاہ کراس کے نشانات تھے۔ پولس کو پیر کے روز لگائے جانے والے پوسٹروں کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے ان پوسٹروں کو تمام جگہوں سے ہٹا دیا۔

پرولا کے باہر ایسا ہی ایک واقعہ ہفتہ کو برکوٹ میں دیکھنے میں آیا۔ یہاں ایک مقامی ہندو تنظیم کی قیادت میں ایک احتجاجی ریلی کے دوران مسلمانوں کی دکانوں پر کالی کراس کا نشان لگادیا گیا ۔ کچھ نامعلوم افراد نے دکانوں کے بورڈز بھی اتار دیئے۔ پرولا بازار کے ایک مقامی تاجر، امروز نے کہا، “ہمیں پوسٹرز لگا کر ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شہر چھوڑ دیں یا کارروائی کا سامنا کریں۔ شہر میں 26 مئی سے 30 سے ​​زائد دکانیں بند ہیں۔

ایک اور دکان کے مالک نے بتایا کہ وہ اب اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ساتھ ہی پرولا ٹریڈرس ایسوسی ایشن کے صدر برج موہن چوہان نے کہا کہ ان کی تنظیم نے کبھی کسی کو اپنی دکانیں خالی کرنے یا شہر چھوڑنے کو نہیں کہا ہے۔ اترکاشی کے سرکل آفیسر انوج کمار نے پیر کو کہا کہ ہم نے تین دکانوں سے پوسٹر ہٹا دیے ہیں اور آئی پی سی کی دفعہ 505 اور 295 (A) کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اسکین کرنے کے بعد ملزم کی تلاش جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ہی شدت پسندوں کی دھمکی کے بعد مسلم برادری کے 42 دکانداروں نے احتجاج اور لوگوں کے غصے کو دیکھتے ہوئے راتوں رات دکانیں بند کر کے اور پرولا مین بازار سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔