Wednesday, May 29, 2024
homeاہم خبریںکناڈا سے تنازع اور خالصتان تحریک

کناڈا سے تنازع اور خالصتان تحریک

انصاف نیوز آن لائن

کینیڈا کی جانب سے اپنے ایک شہری اور سکھ رہنما کے قتل کا الزام بھارت پر عائد کرنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

سکھوں کے لیے ایک علیحدہ وطن ’خالصتان‘ کے قیام کے لیے سرگرم ہردیپ سنگھ نجر کو رواں برس جون میں کینیڈا کے شہر وینکوور میں قتل کر دیا گیا تھا۔ کینیڈین سیکیورٹی ادارے گزشتہ کئی ماہ سے اس قتل کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

خالصتان تحریک کی تاریخ بھارت کی آزادی سے جا ملتی ہے۔ اس تحریک سے وابستہ افراد پر بھارت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے قتل اور ایک مسافر طیارے کو دھماکے سے اڑانے جیسے الزامات بھی ہیں۔

بھارت میں اس تحریک سے وابستہ افراد کے خلاف 1980 کی دہائی میں ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد بہت سے سکھ رہنما اور کارکن مغربی ممالک میں پناہ گزین ہو گئے تھے جن کی بیرونِ ملک سرگرمیوں پر بھارت کے مغربی ممالک سے تنازعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان ممالک میں کینیڈا سرِ فہرست ہے جس کی حکومت سے نئی دہلی سکھ علیحدگی پسندوں کے خلاف سخت کارروائی اور اقدامات کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔

کینیڈا اور بھارت کے درمیان حالیہ سفارتی تنازع کا محور بننے والی خالصتان کی تحریک طویل تاریخی پس منظر رکھتی ہے۔

خالصتان کی تحریک کیا ہے؟

سکھ مت برِصغیر کا ایک اقلیتی مذہب ہے جس پر ہندو مت اور اسلام دونوں کے اثرات ہیں۔ اس مذہب کی ابتدا پندرھویں صدی عیسوی میں شمالی ہندوستان سے ہوئی۔ بھارت کی تقریباً ایک ارب 40 کروڑ آبادی میں سکھوں کی تعداد لگ بھگ دو فی صد ہے اور ان کی تقریباً 60 فی صد آبادی بھارتی ریاست پنجاب میں آباد ہے۔

پنجاب سکھ مت کا مرکز ہے۔ 1699 میں سکھوں کے گرو گوبند سنگھ نے سکھوں کی اپنے مذہب سے وابستگی کے لیے کچھ اصول وضع کیے اور ان اصولوں کی سختی سے پابندی کرنے والوں کو ‘خالصہ’ قرار دیا۔ گرو گوبند سنگھ نے ہی پنجاب پر سکھوں کی حکمرانی کے مذہبی حق کا تصور بھی دیا۔ اس کے بعد سے سکھوں نے پنجاب اور اس سے ملحقہ خطوں میں اپنی ریاست کے قیام کے لیے مہمات کا آغاز کیا۔

انسائیکلو پیڈیا آف برٹینیکا کے مطابق 1710 میں گرو گوبند سنگھ کے پیروکاروں میں شامل بندہ سنگھ بہادر نے مغل حکومت کو دہلی کے نواحی علاقوں اور لاہور سے پسپا کر کے اپنی الگ ریاست قائم کی۔

بندہ سنگھ بہادر نے اپنے زیرِ تسلط علاقوں کے لیے الگ سکے اور فرمان جاری کیے جن میں خدا اور گرو کے احکامات نافذ کرنے کا اعلان تھا۔ اسی دور میں سکھ مت کے نعروں اور دعاؤں میں ’راج کرو گا خالصہ‘ کا اضافہ ہوا۔

بندہ سنگھ بہادر کی حکومت زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکی۔ تاہم 1780 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی لاہور میں قائم کی گئی حکومت سے ہندوستان میں سکھوں کے عروج کا آغاز ہوا۔ یہ ریاست 1849 تک قائم رہی اور اس کے خاتمے کے بعد سکھ کسی خطے میں ’خالصہ راج‘ قائم نہیں کر سکے۔

سکھوں نے 1920 میں شرومنی اکالی دل کے نام سے سیاسی جماعت بنائی جسے سکھ رہنما ماسٹر تارا سنگھ کی رہنمائی میں تیزی سے مقبولیت حاصل ہوئی۔ اکالی دل ہندوستان میں سکھوں کی نمائندہ پارٹی تھی اور اس نے 1947 میں پنجاب صوبہ تحریک بھی چلائی۔ یہ تحریک پنجاب میں ’خالصتان‘ کے نام سےسکھوں کے لیے علیحدہ وطن بنانے کا مطالبہ بھی کرتی تھی۔

لیکن جس خطے کو وہ اپنا الگ ملک بنانے کے خواہش مند تھے وہاں عددی اکثریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اکالی دل کم سے کم پنجاب کو متحد رکھنا چاہتی تھی۔ لیکن برطانوی حکومت کے پیش کیے گئے تقسیم کے منصوبے کے تحت ایسا ممکن نہیں ہوسکا جس کے بعد تارا سنگھ نےپاکستان کے قیام کی مخالفت کی اور کانگریس سے اتحاد کرلیا۔

سن 1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے وقت خوں ریز فسادات ہوئے۔ پاکستان اور بھارت کی نو قائم شدہ ریاستوں کی جانب نقل مکانی کرنے والے مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کی ایک بڑی تعداد ان فسادات میں ماری گئی جن کی تعداد کم و بیش 10 لاکھ تھی۔

دو ممالک کے قیام کے وقت پنجاب بھی دو حصوں میں تقسیم ہوگیا اور سب سے زیادہ فسادات بھی اسی خطے میں ہوئے۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کی جائے پیدائش اور دیگر کئی مقدس مقامات پاکستانی پنجاب میں شامل ہوگئے۔

بھارت کے قیام کے بعد اکالی دل نے ایک بار پھر مذہبی بنیادوں پر سکھوں کے لیے الگ صوبے کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔ 1961 میں ماسٹر تارا سنگھ نے اپنے مطالبے کے حق میں بھوک ہڑتال بھی کی لیکن بھارتی وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے یہ کہہ کر یہ مطالبہ رد کردیا کہ مذہبی بنیاد پر صوبے کا قیام بھارت کے سیکیولر آئین کے خلاف ہوگا اور ایسا کرنا پنجاب کے ہندوؤں سے بھی نا انصافی ہوگی۔

اس کے بعد 1966 میں بھارت نے پنجاب صوبے کو ہریانہ اور پنجاب کی دو الگ ریاستوں میں تقسیم کردیا۔ اسی طرح پنجاب کے بعض حصے ہماچل پردیش میں شامل کردیے گئے۔ پنجاب کی اس تقسیم کے بعد سکھوں میں علیحدہ وطن خالصتان کی تحریک نے ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کیا۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں خالصتان کے لیے چلنے والی علیحدگی پسند تحریک سے وابستہ بعض عناصر پر تشدد کارروائیوں میں بھی ملوث رہے۔

خالصتان تحریک اور پرتشدد کارروائیاں

سن 1980 کی دہائی میں آل انڈیا سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن خالصتان کے قیام کی حمایت میں سرگرم تھی۔ اسی دوران ایک سکھ رہنما سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالا کی قیادت میں خالصتان کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔

سنت جرنیل سنگھ ایک بنیاد پرست مذہبی رہنما تھے اور خالصتان کے حصول کے لیے مسلح کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ بھنڈرانوالا کے پیروکاروں پر متعدد ہندو شہریوں کو قتل کرنے کے الزامات بھی لگے۔

بھنڈرانوالا نے 1982 میں امرتسر میں واقع گردوارہ ہرمندر سنگھ (گولڈن ٹیمپل) کو اپنا مرکز بنا لیا اور وہاں اسلحہ جمع کرنا شروع کر دیا۔ گولڈن ٹیمپل کو سکھوں کے مقدس ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔

علیحدگی پسندوں کی سرگرمیاں بڑھنے پر بھارتی حکومت نے بالآخر 1984 میں اس گردوارے کی عمارت پر فوجی کارروائی کی جسے ‘آپریشن بلیو اسٹار’ کا نام دیا گیا تھا۔ اس آپریشن میں جرنیل سنگھ بھنڈرانوالا سمیت گولڈن ٹیمپل میں ان کے ساتھ موجود سینکڑوں افراد مارے گئے۔

اس آپریشن کے چند ماہ بعد ہی 31 اکتوبر 1984 کو بھارت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کو ان کے اپنے ہی دو سکھ محافظوں نے گولڈن ٹیمپل پر آپریشن کا انتقام لینے کے لیے قتل کر دیا۔

اندرا گاندھی کے قتل کے بعد نئی دہلی سمیت بھارت کے مختلف حصوں میں فسادات پھوٹ پڑے جس میں ہزاروں سکھ قتل ہوئے۔ بعد ازاں اندرا گاندھی کو قتل کرنے والے اہلکار خالصتان کے حامیوں کے ہیرو کے طور پر سامنے آئے اور گولڈن ٹیمپل میں بننے والے میوزیم میں ان کی تصاویر بھی رکھی گئیں۔

گولڈن ٹیمپل پر کارروائی کے بعد اگلی ایک دہائی کے دوران بھارت نے خالصتان کی مسلح تحریک پر قابو پالیا۔ گو کہ اس کے بعد بھی سکھ علیحدگی پسندوں کی اکا دکا کارروائیاں جاری رہیں اور بھارتی حکومت کے مطابق اس تحریک وابستہ افراد دہشت گردی کے مختلف واقعات میں ملوث رہے۔

اسی دور میں بھارتی حکومت نے خالصتان تحریک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر کالعدم کر دیا جب کہ اس مطالبے کے حامی کئی دیگر گروپس کو بھارتی حکومت دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔

خالصتان تحریک کے حامیوں پر بھارت کی حدود سے باہر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی ہیں۔ کینیڈا میں مقیم سکھ شدت پسندوں پر 1985 میں بھارتی فضائی کمپنی ایئر انڈیا کے طیارے کو دھماکے سے اڑانے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔ اس حملے میں 329 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

خالصتان کے لیے ہونے والی مسلح مزاحمت ختم ہونے کے بعد بھارتی پنجاب میں کم ہی اس کی حمایت سامنے آتی ہے۔ بھارت میں اگر کہیں اس مطالبے کی بنیاد پر کوئی گروپ منظم ہونے کی کوشش بھی کرے تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جاتی ہے۔

خالصتان تحریک کے لیے سب سے زیادہ فعال کردار کرنے والے کارکنان اس وقت دیگر ممالک میں مقیم ہیں جن میں کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا سرِ فہرست ہیں۔ کینیڈا کو علیحدگی پسند سکھ تنظیموں اور رہنماؤں کی سرگرمیوں کا سب سے بڑ مرکز قرار دیا جاتا ہے۔

بھارتی حکومت اس خدشے کا اظہار کرتی رہی ہے کہ مغربی ممالک میں سرگرم خالصتان کے حامی گروپس مقامی سطح پر دم توڑ چکی مسلح مزاحمت کو پھر سے زندہ کرنا چاہتے ہیں۔ بھارتی حکام یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ بیرونِ ملک مقیم خالصتان کے حامی ان علیحدگی پسند گروپس کو مالی مدد بھی فراہم کرتے ہیں۔ بھارت ماضی میں پاکستان اور چین پر بھی خالصتان تحریک کے حامیوں کی مالی اور اسلحے کے ذریعے مدد کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

کینیڈا کی 2021 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی کل آبادی میں 2.1 فی سکھ ہیں اور سکھ مت کینیڈا کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا مذہب ہے۔ بھارت کے بعد کینیڈا میں سکھوں کی سب سے زیادہ آبادی ہے۔ کینیڈا کی حکومت میں کئی سکھ اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہیں۔

کینیڈا میں خالصتان کے لیے کام کرنے والے سکھ گروپس سے متعلق بھارت گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ 1982 میں وزیرِ اعظم اندرا گاندھی نے اس وقت کے کینیڈین وزیرِ اعظم پیری ٹروڈو کو خالصتان کے حامی گروپس کی سرگرمیوں سے متعلق بھارت کے تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔ پیری ٹروڈو کینیڈا کے موجودہ وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کے والد تھے۔

خالصتان تحریک کے حامی گروپس سکھوں کے الگ وطن کے قیام کے لیے کینیڈا میں ریفرینڈم کا انعقاد کرتے رہے ہیں۔ رواں برس جون میں کینیڈا نے ایک ایسی پریڈ کی اجازت بھی دی تھی جس میں اندرا گاندھی کے قتل کے مناظر کو ڈرامائی صورت میں اسٹیج کیا گیا تھا۔ بھارت کی وزارتِ خارجہ نے اس پریڈ پر کینیڈا سے شدید احتجاج بھی کیا تھا۔

بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر نے رواں برس جون میں الزام عائد کیا تھا کہ کینیڈا میں ووٹ بینک کی سیاست کی وجہ سے خالصتان کے شدت پسند حامیوں کے خلاف کارروائی میں نرمی برتی جا رہی ہے۔ البتہ کینیڈین حکام اس تاثر کی تردید کرتے ہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں بھارت میں فروغ پانے والی ہندو قوم پرستی کے ردِ عمل میں مغربی ممالک میں خالصتان کے حامی گروپس کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ رواں برس کے آغاز میں خالصتان کے حامیوں نے امریکہ اور برطانیہ میں بھارتی قونصل خانوں کے باہر پرتشدد احتجاج بھی کیا تھا جب کہ بعض مقامات پر ہندو قوم پرستوں اور خالصتان کے حامیوں کے درمیان تصادم کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین