Friday, July 19, 2024
homeدنیالولوشاپنگ مال میں نماز: 18 سیکنڈ کی جماعت میں ’امام اور نمازیوں...

لولوشاپنگ مال میں نماز: 18 سیکنڈ کی جماعت میں ’امام اور نمازیوں کا رخ الگ الگ سمت میں

عام طور پر کسی شہر میں ایک نئے مال کا کھلنا کوئی اہم خبر نہیں ہوتا ہے لیکن لکھنؤ میں حال ہی میں کھولے گئے ایک مال میں چند افراد کی جانب سے ‘نماز’ ادا کرنے کی ایک ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد دائیں بازو کے ہندوؤں نے ایک تنازع کھڑا کر دیا ہے جس کے بعد مال کے مسلمان مالک کو یہ بیان جاری کرنا پڑا کہ ان ’نمازیوں‘ کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

لیکن اس کہانی میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی میڈیا کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ان ’نمازیوں‘ نے محض 18 سیکنڈ میں ہی نماز ختم کر دی۔

مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ویڈیو کے مطابق ان میں سے ایک شخص، جو کہ مبینہ طور پر امام ہے، اس نے تو اپنا ڑخ بھی قبلے کی جانب نہیں رکھا تھا۔

مال کے گیٹ سے لے کر سڑک پر لگے سی سی ٹی وی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ‘نمازی’ پیدل ہی شاپنگ مال کے اندر آئے تھے۔ انھوں پہلے گراؤنڈ فلور پر نماز پڑھنے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی گارڈ نے انھیں روکا تو انھوں نے دوسری منزل پر جا کر ایک کونے میں ’نماز‘ پڑھی۔ مبینہ طور پر انہی کے ساتھیوں نے اس کی ویڈیو بھی بنائی۔

سی سی ٹی وی فوٹیج اب اس شبہ کی تصدیق کر رہی ہے کہ یہ مال کو بدنام کرنے اور دونوں فرقوں کے درمیان دشمنی اور نفرت پیدا کرنے کے لیے ایک سازش ہے ۔ مال کی جانب سے شیئر کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں آٹھ افراد کو ایک ساتھ مال میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی مال کے ارد گرد دیکھنے یا کسی شوروم میں جانے کی کوئی کوشش نہیں کرتا۔ اس نے نہ تو کچھ خریدا اور نہ ہی اسے مال میں سیلفیاں لینے میں دلچسپی تھی۔ وہ جلدی جلدی بیٹھ جاتے ہیں اور نماز پڑھنے کے لیے جگہ تلاش کرنے لگتے ہیں۔ انہوں نے پہلے تہہ خانے، پھر گراؤنڈ فلور اور پہلی منزل پر کوشش کی۔ جہاں سیکورٹی گارڈز نے انہیں روکا۔ پھر وہ دوسری منزل پر چلے گئے جہاں نسبتاً کم ہجوم تھا۔ چھ افراد فوراً نماز پڑھنے کے لیے بیٹھ گئے، جب کہ باقی دو ویڈیو ریکارڈنگ اور تصاویر لینے میں مصروف ہوگئے۔ سنیچر کی دیر شام، ڈی سی پی (جنوبی) اور سوشانت گالف سٹی انسپکٹر کو جھگڑے کے آغاز میں سی سی ٹی وی فوٹیج اسکین کرنے میں ناکامی کی وجہ سے تبدیل کر دیا گیا۔ مال انتظامیہ نے فوٹیج اسکین کرنے کے لیے وقت مانگا تھا اور قابل اعتراض فوٹیج پولیس کے ساتھ شیئر کی تھی۔ جہاں لکھنؤ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور گنگا جمنی ثقافت کا مرکز رہا ہے، وہیں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کے لیے یہ جان بوجھ کر کی جانے والی شرارت اب بھی تشویش کا باعث ہے۔
لولو مال مشہور کیوں ہے؟
لولو مال کے مالک دبئی میں مقیم یوسف علی ایم اے نامور ایک انڈین تاجر ہیں۔ لولو گروپ کے مطابق ان کا 8 بلین امریکی ڈالر کے سالانہ کاروبار ہے اور ان کے لیے 60,000 سے زیادہ افراد خلیجی ممالک، مشرقی ایشیا، یورپ، امریکہ اور انڈیا میں کام کرتے ہیں۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان کا لکھنؤ مال 15,000 سے زیادہ مقامی لوگوں کو براہ راست اور بالواسطہ طریقے سے ملازمتیں فراہم کرے گا۔ یہ 2,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے بنایا گیا ہے اور 2.2 ملین مربع فٹ پر پھیلا ہوا ہے، جسے لکھنو کا سب سے بڑا مال بتایا جا رہا
پورا معاملہ کیا ہے؟

واضح رہے کہ مال کا افتتاح عید الاضحیٰ کے دن اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کیا تھا، جن کا مسلمان مخالف موقف اکثر تنقید کا نشانہ رہا ہے۔

اگرچہ انھوں نے مال میں کوئی تقریر یا بیان نہیں دیا لیکن اس افتتاح میں ان کے ساتھ حکومتی رہنما اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

مقامی میڈیا میں اس کے افتتاح کی خبر وسیع پیمانے پر ہوئی تھی۔ تمام بڑے اخبارات میں کئی صفحات پر مشتمل اشتہارات شائع ہوئے تھے۔ بی بی سی ہندی کے مطابق لکھنؤ کی تاریخ میں شاذ و نادر ہی کسی مال کے آغاز سے متعلق اتنی تشہیر مقامی اور قومی میڈیا میں دیکھنے میں آئی ہے۔

مال کے مالک یوسف علی نے خود وزیر اعلیٰ کو گولف کارٹ پر بیٹھا کر 400 میٹر لمبا دو منزلہ مال دکھایا۔

اس کے افتتاح کے چند ہی دن بعد کچھ افراد کی 16جولائی کو مال میں نماز ادا کرنے کی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی۔

تنازعے کے بعد ایک گروپ نے مال کو بلڈوزر سے توڑنے کا مطالبہ کیا۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ کو بلڈوزر سے متعلق سیاست کرنے سے انتخابی فائدہ ہوا ہے۔ ان کے مداح انہیں ’بلڈوزر بابا‘ کہتے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی تعمیرات اور مجرموں پر حملے کے نام پر مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔

معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ’دی ٹیلی گراف‘ اخبار نے لکھا کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس مال کا افتتاح کیا تھا لیکن اب وہ خود اس کے لیے حملے کی زد میں آگئے ہیں۔ ’بدمعاشوں پر بلڈوزر چلانے کی بات کرنے والے وزیر اعلیٰ سے اب ہندو تنظیمیں لولو مال پر بلڈوزر چلانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔‘

اس دوران مال انتظامیہ نے ’نماز‘ پڑھنے والے لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔ پولیس کو لکھے گئے خط میں مال انتظامیہ نے یہ واضح کیا کہ ’مال کے عہدیداروں کے ذریعے کی گئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ لولو مال میں تعینات کوئی افسر یا ملازم نماز میں شامل نہیں تھا۔‘

پولیس نے پورے معاملے کی جانچ کے لیے چند افراد کو حراست میں لیا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی چند لوگوں نے مطالبہ کیا کہ اگر مال میں نماز کی اجازت ہے تو دوسرے مذاہب کی پوجا کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

مال میں نماز کے خلاف احتجاج کرنے والی ایک تنظیم کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ بدھ کو مال میں سر عام نماز ادا کی گئی۔ اگر ایسا ہے تو پھر ہم وہاں سندر کانڈ اور ہنومان چالیسہ پڑھنا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے الزام لگایا کہ ‘ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مال کے 70 فیصد ملازمین مسلمان اور 30 فیصد ہندو ہیں۔ مال مسلمانوں اور اسلام کو فروغ دے رہا ہے۔‘

چند سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس طرح کا الزام لگایا کہ اس میں 80 فیصد ملازم مسلم مرد ہیں اور 20 فیصد ہندو خاتون ہیں اور یہ کہا کہ یہ لو جہاد کی کوشش ہے۔

مال نے ایک بیانیہ جاری کر اس خبر کی تردید کی ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین