کورونا بحران میں کلکتہ کی مسلم خواتین مثال قائم کررہی ہیں———— انصاف نیوز آن لائن کے زیر اہتمام آن لائن پینل ڈسکشن کا انعقاد

0
107

کلکتہ 2 جون
کورونا بحران نے نہ صرف صحت کے شعبے کو متاثر کیا ہے بلکہ روزگار اور عام لوگوں کی زندگی کوبھی متاثر کیا ہے۔کورونا کی روک تھام کےلئے نافذ لاک ڈائون نے یومیہ مزدوری اور غیر منظم سیکٹر میں کام کرنے والے افراد کے خاندان پوری طرح سے متاثر کردیا گیا ہے۔بالخصوص شہروں میں فٹ پاتھ اور کچی بستیوں میںرہنے والے افراد کےلئے زندگی گزارنا ہی کافی مشکل ہوگیا ہے ۔اس بحرانی دور میں کلکتہ شہر میں چند مسلم خواتین اپنے این اوز کے ذریعہ فلاحی و امدادی کاموں کے ذریعہ مثال قائم کررہی ہیں ۔
خیال رہے کہ کئی مسلم خواتین کی قیادت والی این جی اوز کورونا بحران میں مفت کھانا تقسیم کے ساتھ ساتھ آکسیجن ،دوائی اور کورونا سے متاثر مریضوں کو اسپتال پہنچانے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں ۔


’’کورنا بحران اور کلکتہ کی مسلم خواتین ‘‘کے عنوان سے منعقد آن لائن پینل ڈسکشن میں حصہ لیتے ہوئے عالیہ یونیورسٹی کی شعبہ صحافت کی پروفیسر اور آکاش فائونڈیشن کی نائب صدر غزالہ یاسمین نے کہا کہ کورونا بحران میں کلکتہ کی مسلم خواتین کا ایک نیا روپ سامنے آیا ہے اور یہ خوش آئند بات بھی ہے کہ آج کی خواتین اپنی گھریلوں ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی ذمہ داریاں بھی ادا کررہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عام طور پر قومی میڈیا اور غیر مسلم معاشرے میں مسلم خواتین سے متعلق جو نظریہ قائم ہے وہ غلط ثابت ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف تحریک میں کلکتہ کی مسلم خواتین نے قائدانہ کرداربھی ادا کیا تھا وہ اس وقت بھی ادا کررہی ہیں ۔

انصاف نیوز آن لائن کے زیر اہتمام منعقد کلکتہ کی سینئر صحافی شبانہ اعجاز کہتی ہیں کہ ان دنوں کلکتہ کے مختلف علاقوں میں جس طریقے سے خواتین فلاحی کام کرتے ہوئے نظر آرہی ہیں وہ بہت ہی خوشنما منظر ہیں ۔میڈیا پر اس کو مثبت انداز میںلیا جارہا ہے اور مسلم معاشرے کے تئیں لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آرہی ہے۔تاہم وہ کہتی ہیں کہ ابھی مسلم معاشرے میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔خواتین کو وہ مقام نہیں مل پارہا ہے جس کی وہ مستحق ہیں ۔

مشہور سماجی کارکن عظمی عالم تاہم یہ بات قبول کرتی ہیں کہ ہم لوگ اس بحران میں جو کام کررہے ہیں وہ اپنے گھر کے افراد بالخصوص شوہر کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ گھر ، خاندان اور سماجی ذمہ داریوں کے درمیان تواز ن برقراررکھنا کسی بھی چیلنج سے کم نہیں ہے ۔ میں یہ دیکھ رہی ہوں کہ کلکتہ کی مسلم خواتین جو کورونا بحران میںامدادی و فلاحی کام کررہی ہیں وہ توازن قائم کرتے ہوئے کام کررہی ہیں ۔یہ سب سب خوش کن پہلو ہے۔

’’درخشان فائونڈیشن ‘‘ کی سربراہ درخشاں امتیاز بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ مسلم خواتین اپنی گھریلوو خاندانی ذمہ داریوں کے ساتھ فلاحی کام کررہی ہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ ہم لوگ جب گھر سے باہر نکلتے ہیں گھر پر چھوٹے چھوٹے بچے اور ضعیف والدین ہوتے ہیں ان کی نگرانی و دیکھ بھال م گھر کے دیگر افراد کے کرتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ یہ سب سے بڑ ا کام ہے۔اس کے علاوہ فلاحی کام کرنے کےلئے فنڈنگ ایک بڑا مسئلہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کےلئے شوہر کا تعاون ضروری ہوتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ میرے این جی او کےلئے فنڈ کا سارا انتظام میرے شوہر کرتے ہیں اور میں ان کے تعاون سے ہی میں یہ فلاحی کام کرپارہی ہوں ۔

تاہم ڈاکٹر نوشین بابا جو ایک کالج میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں کہ وہ کہتی ہیں کہ مسلم خواتین کےلئے گھر سے باہر نکل سماجی ذمہ داریوں کو ادا کرنا کوئی بہت آسان کام نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ’پدر حاوی معاشرے‘ میں خواتین اب بھی ابلہ ناری ہیں ۔اگر وہ روایات سے ہٹ کر کام کرتی ہیںکہ اسی معاشرے کے افراد خواتین کے کردار پر انگشت نمائی کرنے لگتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گھر کے افراد کا تعاون تو ضروری ہے مگر معاشرے کے ٹھیکہ داروں کا رویہ بھی ٹھیک ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ میں این آر سی ، اس کے بعد کسان آندولن اور اب اپنے این جی اوز کے ذریعہ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہوں ۔ظاہر ہے کہ گھر کے لوگوں کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔مگر کھر کے افراد کے باہرکے لوگوں کا طعنہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے

پروفیسر غزالہ یاسمین کہتی ہیںکہ مختلف ٹکروں میں کام کرنے کے بجائے اگر مسلم خواتین مل کر کام کریں گی تو اس کے نتائج بہتر ہوں گے۔اس کے علاوہ یہ خواتین اپنے این جی او ز کے ذریعہ سماجی بیداری میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ کلکتہ کے قدیم اداروں اسلامیہ اسپتال،مسلم انسی ٹیوٹ، انجمن مفیدالاسلام، خلافت کمیٹی میں مسلم خواتین کی نمائندگی بالکل نہیں ہے ۔یتیم خانہ اسلامیہ میں خواتین کی کچھ نمائندگی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ اگر ان اداروں میں اگر مسلم خواتین کی نمائندگی دی جائے تو ان ادارے کی فعالیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔غزالہ یاسمین کہتی ہیں کہ سوال صرف مسلم خواتین کی نمائندگی کا نہیں ہے بلکہ کلکتہ کے مسلم اداروں میں تعلیم یافتہ اور غیر سیاسی لوگوں کےلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ایک خاص گروپ کے لوگوں کا قبضہ ہے اس کی وجہ سے کلکتہ کے مسلم ادارے اپنی افادیت کو کھوتے جارہے ہیں۔عظمی عالم کہتی ہیں کہ انہوں نے کلکتہ کے مسلم اداروں میں خواتین کی نمائندگی کےلئے جدو جہد بھی کی ۔اس کے ذمہ داروں سے ملاقات بھی کی مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔مسلم مسلم اداروں کے ذمہ دار مسلم خواتین کو نمائندگی دینے کو تیار نہیں ہے۔جب کہ کورونا بحران میں مردو ں کے مقابلے خواتین زیادہ سرگرم نظرآتی ہیں ۔