Friday, July 19, 2024
homeہندوستانآسام اور کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کے ابتدائی آثار موجود۔۔۔۔...

آسام اور کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کے ابتدائی آثار موجود۔۔۔۔ شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کے بعد ہندوستان میں نسل کشی کی راہ ہموار ہوئی ہے: ’گریگوری سینٹن

1994میں راونڈا میں نسل کشی سے کئی سال قبل پیش گوئی قبل کرنے والے ’گریگوری سینٹن نے ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر اور آسام میں نسل کشی کے ابتدائی آثار موجود ہیں ۔
سینٹن کے مطابق نسل کشی کوئی واقعہ نہیں ہے، یہ ایک عمل ہے۔ یہ ترقی کرتا ہے۔ 2002میں گجرات فسادات کے بعد سے ہی Genocide Watchہندوستان میں نشل کشی کے امکانات سے باخبر کررہا ہے۔سینٹن، جینوسائیڈ واچ کے بانی ہیں ۔یہ تنظیم نسل کشی کی پیشین گوئی، روک تھام اوراس کے مرتکبین کو سزا دلانے کےلئے بنائی گئی ہے۔
وزیرا عظم نریندر مودی کے مسلم مخالف بیانا ت کا حوالہ دیتے ہوئے سینٹن نے ہندوستان میں دو بڑی پالیسیوں کی نشاندہی کی ہےجن میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیاہے۔کشمیر کی خود مختار حیثیت کی منسوخی اور شہریت ترمیمی ایکٹ، جو صرف مسلم مہاجرین کو شہریت سے خارج کرتا ہے اور ان کی ملک بدری کی راہ بھی ہموار کرتا ہے ۔

1982میں میانما ر میں روہنگیائی مسلمانوں کی شہریت منسوخی کا حوالہ دیتے ہوئے اسٹین نے کہا کہ اس کے بعد سے ہی روہنگیائی مسلمانوں کی ملک بدری کا سلسلہ شروع ہوا۔این آرسی اور سی اے اے کے بعد 200ملین مسلمانوں کا مستقبل متاثرہوا ہے۔یہ آبادی پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ہریدوار کی نفرت انگیز تقاریرکی طرف اشارہ کرتے ہوئےسینٹن نے کہا کہ یہ نسل کشی کنونشن کے تحت ایک جرم ہے اور ہندوستان میں بھی غیر قانونی ہے۔وزیر اعظم مودی کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ایسی نفرت انگیز تقاریر کی مذمت کرنا وزیر اعظم کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
سیاسی جلسوں میں اور کئی بار حکومت کی جانب سے ’پولرائزیشن‘ کے طور پر استعمال کی گئی زبان، جو کہ نسل کشی کے عمل کے دس مراحل میں سے ایک ہے۔ورجینیا کی جارج میسن یونیورسٹی میں نسل کشی کے مطالعے اور روک تھام کے سابق لیکچرر نے کہا کہ نسل کشی دس عملوں میں ہوتی ہے۔ نسل کشی درجہ بندی میں ہوتی ہے اور اس کی شروعات شہریت کی منسوخی سے شروع ہوتی ہے۔اس کے بعد پولرائزیشن اور غیرانسانی حرکتوں کے ذریعہ دہشت گردی اور مجرمانہ عمل کی لیبلنگ کی جاتی ہے۔
اس لئے ہم خبردار کررہے ہیں ہندوستان میں نسل کشی کے بہت ہی امکانات ہیں ۔
روانڈا میں نسل کشی کے 5 سال سے پہلے، سینٹن نے روانڈا کے اس وقت کے صدرجووینل ہیبی اریماناکو خبردار کیا تھاکہ نسل کشی کی روک تھام کےلئے اقدمات نہیں کئے گئے تو اس ملک میں پانچ سالوں میں نسل کشی کے امکانات ہیں ۔1989میں روانڈا میں نفرت انگیز تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا اور اس کے پانچ سال بعد 1994میں راونڈا میں آباد اقلیت ٹوٹ سیس اور دیگر اقلیتی طبقے کے 800,000افرا د کا قتل عام ہو ا۔
اس لئے ہمیں عزم کرنا ہوگا ہم ہندوستان میں ایسا نہیںہونے دیں گے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین