اپوزیشن اتحاد کا اثر ۔ممتا بنرجی سی پی آئی ایم اور کانگریس کے تئیں نرم۔۔بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا عزم

2024میں ایک نئے بھارت کا طلوع ہوگا۔بی جے پی کی شکست میں ہی بھارت کی جیت ہے،مجھے کرسی کی لالچ نہیں صرف بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہمارا مقصد ہے:ممتا بنرجی

0
125

اپوزیشن اتحاد کا اثر ۔ممتا بنرجی سی پی آئی ایم اور کانگریس کے تئیں نرم۔۔بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا عزم

کلکتہ :انصاف نیوز آن لائن

21جولائی کی ریلی میں اگر سی پی آئی ایم کا ذکر نہ ہو ۔تو یہ واقعی تعجب خیز ہے؟ کیوں یہ ریلی بائیں محاذ ے دور میں ہوئے فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ہی منعقد کیا جاتا ہے۔چوں کہ ملک کی سیاست کا مزاج بدل چکا ہے۔پرانی دشمنی دوستی میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ممتا بنرجی کے خطاب میں صرف ایک جگہ سی پی ایم کاذکر آیا۔مگر وہ جارحانہ نہیں ۔ممتا بنرجی گزشتہ سالوں تک بی جے پی، کانگریس اور سی پی ایم تینوں جماعتوں کی تنقید کرتی تھیں مگر گزشتہ ہفتے بنگلورو میں اپوزیشن اتحاد قائم ہونے کے بعد ممتا بنرجی پہلی عوامی ریلی میں کانگریس اور سی پی ایم کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار نہیں کیا ۔اپنی پوری تقریر میں صرف ایک جگہ ممتا بنرجی سی پی ایم کا نام لیا۔

بنگلورو میں اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد قائم ہونے کے بعد سے ہی سیاسی تجزیہ نگاروں کی توجہ ممتا بنرجی کی اس ریلی کے خطاب پر تھا ۔کیوں کہ بنگال میں کانگریس اور سی پی آئی ایم دونوں جماعتیں ممتا بنرجی کے خلاف سخت تنقیدیں کرتے ہیں ۔مگر لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن کے اتحاد کے امکانات کے پیش نظر ممتا بنرجی کے خطاب میں سی پی آئی ایم اور کانگریس کےلئے وہ جارحانہ تقریر نہیں تھی ۔انہوں نے صرف ایک جگہ پر کہا کہ بنگال میں سیاسی تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے۔بائیں محاذ کے دور حکومت میں اس سے کہیں زیادہ سیاسی تشدد کے واقعات ہوتے تھے۔

ممتا بنرجی نے واضح لفظوں میں کہا کہ ان کا مقصد بی جے پی کو شکست دینا ہے۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اگلے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے عہد کو دہراتے ہوئے کہاکہ بنگلورو میں گزشتہ دنوں 26جماعتوں نے ’’انڈیا‘‘ کےنام سے اتحاد قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ہم اسی اتحاد کے ساتھ آگے بڑھائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے کرسی کی لالچ نہیں ہے اور نہ ہم اس کی پرواہ کرتے ہیں ۔ہمیں کرسی نہیں چاہیے ۔ہمار صرف ایک ہی مقصد ہے ملک کو بی جے پی سے بچانا ہے۔’
ممتا بنرجی نے کہا کہ میں چیلنجوں سے گھبراتی نہیں ہوں، مجھے چیلنج کا مقابلہ کرنا پسند ہے اور بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرکے ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2024میں ایک نئے بھارت کا طلوع ہوگا ۔
ممتا بنرجی نے منی پور میں جاری خلفشار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج منی پور جل رہا ہے ، خواتین محفوظ نہیں ہے۔منی پور کی ویڈیو نے مجھے اندر ہلادیا ہے۔بی جے پی اور مودی کا نعرہ تھا ’’بیٹی بچائو‘‘ یہ نعرہ کہاں چلا گیا ۔منی پور کے واقعے پر شرم نہیں آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ منی پور کی خواتین کے ساتھ جس طریقے سے مظالم کئے گئے ہیں وہ قابل مذمت ہے اور شرمناک ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہم ہر سیاست کرنے کا الزام عائد کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے بی جے پی نے اپنے دور اقتدار میں ملک کے شہریوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے آج منی پور کے عوام اس کی قیمت چکارہے ہیں ۔ بی جے پی موت پر سیاست کر رہی ہے۔ تریپورہ میں رتھ یاترا میں 26 لوگوں کی موت ہو گئی۔ ٹرین حادثے میں کتنے لوگ مارے گئے؟ نمامی گنگے پراجیکٹ سینٹر میں حادثات میں کتنے لوگوں کی موت ہوئی؟ لیکن میں نے کچھ نہیں کہا۔ میں موت پر سیاست نہیں کرتی ہوں۔ لیکن بی جے پی سیاست تب شروع کرتی ہے جب بنگال میں کوئی مر جاتا ہے۔
ممتا بنرجی نے کہاکہ ہم منی پور کے لوگوں کو سلام کرتے ہیں۔ بیٹی بچاؤ کا نعرہ بی جے پی کہاں گئی؟ بیٹی آج جل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹیاں انصاف کےلئے ترس رہی ہیں جنہوں نے بلقیس کو تشدد کا نشانہ بنایا، انہیں چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے باکسرز کی شکایات پر توجہ نہیں دی۔ اور یہی حال منی پور میں ہے۔ خواتین آنے والے انتخابات میں بی جے پی کو باہر پھینک دیں گی۔
ممتا بنرجی نے وزیرا عظم مودی کی براہ راست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ منی پور کے حالات پر خاموشی اختیار کرنے کے بعد مودی نے کل جو کچھ کہا وہ صاف واضح کرتا ہے کہ مودی سیاست کررہے ہیں اور وہ سیاست سے باہر نہیں آئے ہیں ۔انہوں نے منی پور کے بارے میں بات کرتے ہوئے بنگال، راجستھان کے بارے میں بات کی۔ میرا آپ سے ایک ہی عاجزانہ سوال ہے کہ بیٹی کب تک جلے گی، دلت جلتے رہیں گے۔ ہم منی پور کو نہیں چھوڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بنگال میں 154 مرکزی ٹیم بھیجی گئی۔ ہمارے لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ بی جے پی منصوبہ بنا رہی ہے کہ بنگال میں 355 نافذ کرکے مجھے اقتدار سے بے دخل کردیںمیں چیلنج دیتی ہوں کہ وہ اس پر عمل کرکے دکھالیں۔ میں پارٹی کی طرف سے وزیر اعظم سے کہہ رہی ہوں کہ وہ بیرون ملک جا کر ہندوستان کا رونا روئیں۔ اور ملک کے لوگ آپ کے لیے رو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، ’’نیا ہندوستان 2024 میں جنم لے گا۔ عام لوگ بی جے پی کو مرکز سے ہٹا دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم انڈیا کےلئے لڑیں گے اور ترنمول کانگریس ایک سپاہی کی طرح جھنڈے کے ساتھ اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ بھارت کو جیتنا ہوگا۔ اگر بی جے پی ہاری تو ہندوستان جیتے گا۔

ممتا بنرجی 21جولائی کی ریلی میں 30سال قبل ہونے والےواقعات کو یاد کرتی تھیں وہ بتاتی تھیں کہ بائیں بازو کی حکومت کے دوران اپوزیشن پر کس طرح کا ظلم ہو تا تھا۔اس کے ساتھ ہی وہ کہتی تھیں کہ انہیں ترنمول کانگریس بنانے پر مجبور کیا گیا کیونکہ اس وقت کی کانگریس قیادت سی پی ایم کی حکمرانی کو ختم کرنے میں سرگرم نہیں تھی۔

تاہم، اس سال یکم جولائی کی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے ترنمول سپریمو کے خطاب سے یہ سب غائب تھا۔ان کی تقریر میں اپوزیشن اتحاد اور بی جے پی کو شکست سے دوچار کرنے کا عہد شامل تھا۔۔ وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ وہ اپوزیشن اتحاد کا حصہ ہونے کے باوجود کسی عہدے یا کرسی کی امید نہیں رکھتے۔ ان کا مقصد صرف بی جے پی کو شکست دینا ہے۔ قدرتی طور پر، انہوں نے اپنے دن کی تقریر میں وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی پر حملہ کیا۔ لیکن ممتا بنرجی اکیلی نہیں بلکہ ابھیشیک بنرجی بھی سی پی ایم یا کانگریس پر حملہ نہیں کیا۔
ممتا بنرجی نے تقریر کرتے ہوئے صرف ایک بار بائیں بازو کے دور کا موضوع اٹھایا حال ہی میں ختم ہونے والے پنچایتی انتخابات میں سیاسی تشدد کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ممتا نے کہا کہ بدھا دیب بھٹاچاریہ کے دور میں 2003 میں پنچایت انتخابات کے دوران 89 لوگ مارے گئے تھے۔ 2008 میں صرف الیکشن کے دن ہی 39 افراد ہلاک ہوئے۔ ہم نے سیاسی پنچایت نہیں بنائی سی پی ایم کے دور سے بنایا گیا، ہم اسے لے کر چلے آئے ہیں۔ ووٹنگ کے دن 15 افراد ہلاک ہوئے۔ اس سے قبل انتخابی نوٹیفکیشن جاری ہونے سے اب تک 29 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں 18 لوگ ترنمول کے ہیں۔ ترنمول کانگریس ترنمول کو مار دے گی؟ الیکشن ہال میں 71 ہزار بوتھ ہیں مگر تین جگہوں پر گڑبڑ ہے۔ سی پی ایم بی جے پی کے تین لوگ مارے گئے ہیں۔ سوائے دوسرے گروہوں کے تاہم، ہم ہر ایک کو 2 لاکھ روپے کا معاوضہ اور پولیس میں خصوصی ہوم گارڈ کی نوکری دیں گے۔