اعلیٰ تعلیم میں مسلم ٕطلبا کے اندراج میں 8.5فیصد سے زیادہ کمی: رپورٹ

مغربی بنگال میں مسلم طلبا کے ڈراپ آئوٹ کی شرح سب سے زیادہ 23.22فیصد ۔اس کے بعدآسام میں 29.52فیصد ۔۔بہار اور مدھیہ پردیش میں بڑی تعداد میں مسلم طلبا تعلیمی نظام سے باہر ہیں۔

0
80

انصاف نیوز آن لائن

’’ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیم کی حالت‘‘ کے عنوان سے ایک نئی رپورٹ کے مطابق اعلی تعلیم میں داخلہ لینے والے مسلم طلباء (18-23 سال) کی تعداد میں 8.5فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ رپورٹ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن کے سابق پروفیسر ارون سی مہتا نے تحریر کی ہے۔

یہ رپورٹ یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس (UDISE+) اور آل انڈیا سروے آف ہائر ایجوکیشن (AISHE) کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔جہاں 2019-20 میں 21 لاکھ مسلم طلباء نے اعلیٰ تعلیم کے لیےمختلف اداروں میں داخلہ لیا تھا وہیں 2020-21 میں یہ تعداد گھٹ کر 19.21لاکھ رہ گئی۔

17-2016 میں17.39,218مسلم طلباء نے اعلیٰ تعلیم میں داخلہ لیا تھا، 2020-21 میں یہ تعداد بڑھ کر19,21,713ہوگئی۔ تاہم، 2020-21 میں، اعلیٰ تعلیم میں مسلم داخلہ 2019-20 کے21,99,860طلباء سے کم ہو کر19,21,713طلباء رہ گئے، اس طرح مطلق طور پر1 ,79.174طلبا نے کم اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ لیا۔

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں دیکھا جانے والا ایک اہم رجحان گریڈ 11 اور 12 میں مسلم طلباء کے اندراج کے فیصد میں کمی ہے۔ مسلم طلباء کی نمائندگی گریڈ 6 کے بعد گرتی ہے اور گریڈ 11 اور 12 میں سب سے کم ہے۔

جب کہ مسلم طلبا کی تعداد اپر پرائمری سطح (کلاس 6-8) میں 6.67کروڑ طلباء کی تعداد۔ کل اندراج کا تقریباً14.24فیصدبنتے ہیں، یہ ثانوی سطح یعنی نویں سے دسویں جماعت کے درمیان طلبا کی تعداد گھٹ کر 12.63فیصد ہوجاتی ہے ۔جب کہ دسویں کے بعد 11ویں سے 12ویں جماعت کے درمیان طلبا کی تعداد گھٹ کر 10.76فیصد ہی رہ جاتا ہے۔

ریاست کے لحاظ سے رجحانات کے حوالے سے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسام میں 29.52فیصد اور مغربی بنگال میں 23.22فیصد مسلم طلبا میں تعلیم چھوڑنے کی شرح ہے۔جب کہ جموں و کشمیر میں 5.1فیصد اور کیرالہ میں11.91فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بہار اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں بہت سے مسلم بچے ابھی بھی تعلیمی نظام سے باہر ہیں اور ان کی شناخت اور عمر کے لحاظ سے مناسب کلاسوں میں داخلہ ایک ترجیح ہونی چاہیے۔یہ مسلم طلباء کی تعلیم میں پائے جانے والے فرق کو پر کرنے میں مدد کے لیے جامع پالیسیاں اور ٹارگٹڈ سپورٹ تجویز کرتا ہے۔

بہت سے مسلم طلباء کم آمدنی والے خاندانوں سے آتے ہیں اور اعلیٰ تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ “اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، یہ ضروری ہے کہ مستحق طلباء کو مالی امداد اور مدد فراہم کی جائے جنہیں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ اسکالرشپس، گرانٹس، اور مالی امداد کے مواقع کی تعداد میں اضافہ اور واضح طور پر مسلم طلباء کو نشانہ بنانا مالی بوجھ کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے اور زیادہ مستحق طلباء کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کر سکتا ہے،” رپورٹ تجویز کرتی ہے۔

AISHE سروے 2020-21 نے بھی اعلیٰ تعلیم میں مسلم طلباء کی نمائندگی میں کمی کی طرف اشارہ کیا تھا۔ رپورٹ میں پایا گیا تھا کہ مسلم طلباء کا داخلہ دیگر پسماندہ طبقات، درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے طلباء سے کم تھا۔