Wednesday, May 29, 2024
homeاہم خبریںگارڈن ریچ کا علاقہ کلکتہ کارپوریشن کیلئے دودھ دینے والی گائے

گارڈن ریچ کا علاقہ کلکتہ کارپوریشن کیلئے دودھ دینے والی گائے

مالی سال 2023-24 میں کلکتہ کارپوریشن کو سب سے زیادہ گارڈن ریچ سے زیادہ آمدنی ۔اس کے باوجود علاقہ بدحال

کلکتہ : انصاف نیو ز آن لائن

تنک و تاریک گلیاں، سڑکوں پر پیدل چلنے والوں کا ہجوم، غیر قانونی تجاوزات، گندگیوں کا انباردراصل یہ پہنچان بن گئی ہے کسی زمانے میں لکھنو ثانی کہا جانے والا علاقہ مٹیابرج کا۔ایک مہینے قبل یہ علاقہ غیر قانونی بلڈنگ کے انہدام کی وجہ سے سرخیوں میں آیاتھا ۔اس حادثہ میںایک درجن افراد کی جانیں ضائع ہوگئی تھیں۔

مگر یہ علاقے ایک اور پہنچان بھی ہے وہ یہ ہے کہ گارڈن ریچ کا یہ علاقہ کلکتہ کارپوریشن کیلئے دودھ والی گائے ہے۔کلکتہ میونسپل کارپوریشن نے مالی سال 2024-23میں عمارتوں کے ٹیکس سے 12,10کروڑ روپے اور 94لاکھ روپے کی آمدنی کی ہے۔مگر اس آمدنی میں سب سے زیادہ حصہ داری کلکتہ شہر کا مفلوک الحال، غیر قانونی تعمیرات اور تنگ و تاریک گلیوں والا علاقہ مٹیابرج کا ہے۔

کلکتہ کاپوریشن کا بوروڈ نمبر 15جس میں وارڈ نمبر 133، 134، 135، 136، 137، 138، 139، 140 اور 141 آتے ہیں ۔ان نو وارڈوں سے میونسپلٹی کو مالی سال 2023-24 میں 11 کروڑ 70 لاکھ 55 ہزار روپے سے زائد کی آمدنی ہوئی ہے۔ مالی سال 2022-23 میں گارڈن ریچ سے میونسپل کی آمدنی تقریباً 10 کروڑ 2 لاکھ 42 ہزار روپے تھی۔ فیصد کے لحاظ سے یہ شرح تقریباً 16.77فیصد ہے۔

دراصل کلکتہ کارپوریشن نے اپنی آمدنی میں اضافے کیلئے گزشتہ سال مہم چلائی اورایسی عمارتوں کی تشخیص کی جو ٹیکس کے دائرے سے باہر ہے اور ٹیکس ادا نہیں کرنے والی عمارتوں کی شناخت کی گئی ہے۔ مختلف جائیدادوں کی ازسرنو تشخیص کرکے موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ کلکتہ میونسپل کارپوریشن کو ان علاقوں سے سب سے زیادہ ریونیوملتا ہے جہاں سب سے زیادہ غیر قانونی تعمیرات ہوتی ہے۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا کلکتہ کارپوریشن اپنی آمدنی میں اضافے کیلئے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کرتی ہے اور اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ جس علاقے سب سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے اس علاقے کیلئے کارپوریشن کیا کررہی ہے۔

مٹیابرج صرف ایک بستی نہیں بلکہ تحریک آزادی کی تاریخ اس سے وابستہ ہے۔نواب واجد علی شاہ پہلی مرتبہ گنگا ندی میں دو ماہ تک سفرکرنے کے بعد 13 مئی 1856 کو کلکتہ کے بیچالی گھاٹ پر فروکش ہوئے تھے ۔وہ یہاں صرف گورنر جنرل سے ملاقات کرنے کیلئے آئے تھے ۔چناں چہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی انتظامیہ نے انہیں مرکزی شہر سے تقریباً 4 میل جنوب میں، امیر انگریزوں کے بنائے ہوئے عالی شان مکان جو کشادہ لان اوردریا کے کنارے تھا میں ٹھہرایا گیا ۔آج یہ مکان ساؤتھ ایسٹ ریلوے کے جنرل منیجر کی رہائش گاہ ہے۔گرچہ 1857کے انقلابی بغاوت کے انگریزوں نے مٹیابرج سے فورٹ ولیم منتقل کیا گیا وہ یہاں اگلے دوسالوں تک مقیم رہے ۔انگریزوں کو خوف تھا کہ نواب باغیوں کے ساتھ ہاتھ ملا سکتا ہے۔

دوسال کی قید تنہائی کے بعد نواب واجد علی شاہ نے حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئےماہانہ 1 لاکھ روپے کا الاؤنس قبول کرتے ہوئے مٹیابرج کو مستقل اپنامسکن بنانے کا فیصلہ کیا۔اس کے عوض انہیں اودھ پر حکمرانی کے دعوے سے دستبردار ہونا پڑا۔نواب واجد علی شاہ اپنی موت تک یہیں قیام کیا اور ان کے وجود سے ایک دوسرا لکھنؤ کلکتہ شہر کے مضافات کے وجود میں آیا جس میں وہی ہلچل اور سرگرمی، وہی زبان، وہی شاعری، وہی گفتگو اور پتنگ بازی، مرغ، بٹیر کی لڑائی۔وہی قصے، وہی محرم، وہی امام بارگاہ۔وقت کی ستم ظریفی نے نواب واجد علی شاہ کے خاندان کے افراد کو بھی اس علاقے سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑا اور آج حالت یہ ہے کہ لکھنو ثانی کی پہنچان ہی تبدیل ہوتی جاری ہے۔

2016کے اسمبلی انتخابی مہم میں مٹیابرج کے اس علاقے کو منی پاکستان کہنے کی وجہ سے فرہاد حکیم سرخیوں میں آئے تھے۔وہ یہاں سے گزشتہ 13سالوں سے ممبر اسمبلی ہیں اور ممبر پارلیمنٹ بھی ان کی پارٹی سے ہی ہیں۔بلکہ اس حلقے سے ممتا بنرجی بھی نمائندگی کرچکی ہیں ۔

مگر سوال یہ ہے کہ اس علاقے کو کیا ملا؟ کلارک ٹاور کے نام پر ہلڑ بازی ہوئی مگر مٹیابرج تو لندن تو دور جنوبی ہندوستان کے شہروں کی طرح بھی نہیں بن سکا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2009سے اب تک اس علاقے میں 500 سے زیادہ آبی ذخائر کو غیر قانونی طور پر بھر دیا گیا ہے اور کلکتہ کارپوریشن کے علاقے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔مگر انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی ۔ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گارڈ ن ریچ علاقے میں 800 سے زائد غیر قانونی تعمیرات ہوئی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ نواب واجد علی شاہ کی اس نگری کے ساتھ ناانصافی کا مجرم کون ہے؟ کیا اس علاقے کے عوام اپنے نمائندے سوال کریں گے اور کیا خود سے بھی سوال کریں گے اس تبدیلی کیلئے وہ خود کس قدر مجرم ہیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین