گاندھی بمقابلہ ہندوتو– زمین و آسمان کا فرق؟

0
56

رام چند گوہا ترجمہ وتبصرہ : عبد العزیز
اپریل1915 میں موہن داس کرم چند گاندھی جب جنوبی افریقہ سے واپس دہلی میں آئے تو انہوں نے سینٹ اسٹیفن کالج کے طالب علموں کے ایک جلسہ کو خطاب کیا۔ سامعین میں مختلف مذاہب کے طلبا اور اساتذہ کرام تھے۔ گاندھی جی نے اپنے استاد گوپال کرشن کو کھلے کے بارے میں کچھ باتیں بیان کیں جن کا چند ہفتے پہلے پونے میں وفات ہو چکی تھی۔ گاندھی جی نے کہا کہ” ان کے استاد کوکھلے ہندو تھے مگر غیر متعصب تھے۔ ایک دن ایک ہندو سنیاسی کو کھلے کے پاس آیا اس نے ان سے گزارش کی کہ آپ ایک ایسی سیاسی تنظیم کی تشکیل کریں جو مسلمانوں کو مغلوب اور محکوم بنا کر رکھے۔ سنیاسی نے اس کے بہت سے مذہبی فوائد بتائے۔ کوکھلے نے اس کو درج ذیل لفظوں میں جواب دےا ”اگر میں پیدائشی ہندو ہوں لیکن آ پ نے جو کام بتایا ہے وہ کام آپ کی خواہش کے مطابق کروں گا مگر آپ براہ کرم یہ دنیا بھر کے اخبارات میں شائع کرا دیں کہ میں ایک ہندونہیں ہوں۔“( مسٹر گاندھی کی وزٹ سینٹ اسٹیفن کالج،3اپریل،(1915-32
بیسویں صدی کے شروع کے دس سال کے دوران کچھ ہندو سیاستداں اور چند سادھو سنت یہ خیال رکھتے تھے کہ اکثریتی فرقہ کو ہندوستان میں سیاست اور حکومت میں غلبہ حاصل ہونا چاہئے۔ گاندھی جی نے اس خیال کو مسترد کر دیا۔ گاندھی جی نے اپنے استاد کوکھلے کی طرح ہندستان کوصرف ایک ہندو قوم کا ملک تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور ہندوستان کے دو بڑے فرقے ہندوو¿ں اور مسلمانوں میں جو خلیج ہو گیا تھا اسے پاٹنے کی مسلسل کوششیں شروع کیں۔ گاندھی جی اپنے کھلے دماغ اور انسانیت پسندی کی وجہ اپنی زندگی میں انہیں مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔جو اکثریتی فرقہ میں جنونی اور متعصب قسم کے لوگ تھے۔ بالآخر ایسے لوگوں نے ان کی جان ستر سال پہلے لے لی۔
مسٹر دھر میندر کے جھا نے اپنی حالیہ کتاب ”گاندھی جی کا قتل(Gandhi’s Assasin) نے ایسے شواہد اکٹھا کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ناتھو رام گوڈسے کا آر ایس ایس سے1940 سے لے کر 30جنوری 1948 تک جس دن گاندھی جی کو اس نے قتل کیا اس دن تک گہرا تعلق تھا۔ آر ایس ایس جتنا بھلا چاہے انکار کرے مگر گوڈسے کا آر ایس ایس سے ذہنی لگاو¿ تھا۔ آر ایس ایس کا مسلمانوں سے برتری کا نظریہ سیاست اور ثقافت میں کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ آج اس تنظیم کا نظریہ ہے کہ فطری طور پر ہندو مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقابلے میں زیادہ ہندوستانی ہیں اور برتر ہیں یہی وہ نظریہ ہے جو گاندھی جی اور آر ایس ایس میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔
آر ایس ایس کے بالکل برعکس گاندھی جی کا خیال ہے کہ ہندستان میں ہر مذہب اور عقیدے کے لوگوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ گاندھی جی اخلاق اور عمل کا مجسمہ ہندوستان کا تصور یا نظریہ (Idea of India) پیش کرتا ہے۔ گاندھی کا 1945 کا کتابچہ تعمیری پروگرام“ کے عنوان سے شائع ہوا جس میں قومی اور یکجہتی کے مقاصد کے علاوہ دیگر مقاصد شامل تھے مثلاً کھادی کا پروگرام، بھید بھاو¿ کا خاتمہ، ،معاشی نا برابری، عورتوں کی ترقی وغیرہ۔ گاندھی جی نے تمہید میں لکھا تھا کہ ہر کانگریسی کے لئے ضروری ہے کہ خواہ کسی بھی عقیدہ اور مذہب سے تعلق رکھتا ہو اپنے آپ کو ایک ہندوستان کی حیثیت سے پیش کرنا ہوگا۔ کانگریسی کے لئے ضروری ہے کہ ہر ایک دوسرے عقیدے اور مذہب کے لوگوں سے دوستی اور بھائی چارہ کا مظاہرہ کرے۔ اور دوسرے مذاہب اور عقیدے کے لوگوں کا یکساں احترام اور عزت کرے اور امتیاز اور تعصب سے پر ہیز کرے۔
(Collected works of Mahatma Gandhi Volums 90 pp 8-9)
اس کے دو سال بعد برطانیہ نے مذہب کی بنیاد پر ہندوستان کو تقسیم کر دیا۔ البتہ ذہنی دباو¿ اور تعصب کے دم توڑ نے کے بجائے اس سے بھی زیادہ بدلے اور انتقام کا جذبہ پیدا ہوا۔ گاندھی جی نے اپنی ساری کوشش اور محنت لگا دی کہ جو لوگ ہندوستان میں رہ گئے ہیں وہ شہریت کے یکساں حقوق کے حقدار ہیں۔ گاندھی جی کا ستمبر1947ءکو کلکتہ میں جنوری 1948 کو دہلی میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے بھوک ہڑتال سنہرے حرفوں سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ اس سے بالکل ملتا وہ نمایاں کارنامہ گاندھی کی وہ تقریر ہے جو انہوں نے 15نومبر1947ءمیں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سامنے کی۔
گاندھی جی نے اپنی تقریر میں فرمایا” میں ہر کانگریسی کو اس معیاری کر دار میں دیکھنا پسند کرتا ہوں۔ کل وہ ہندو اور مسلمان کو ایک تصور کرے اور ایک دوسرے کا یکساں احترام اور عزت کرے جن کے لئے ہم نے ساٹھ سال تک مسلسل دوڑ دھوپ کی ہے۔ کانگریس کا وجود صرف ہندوو¿ں کی بھلائی اور بہتری کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی اس کے لئے یہ قائم ہوئی ہے۔ ہمیںتو گانگریس کی طرف سے وہی مظاہرہ اور عمل برپا کرنا ہے جن مقصد اور نصب العین کے لئے کانگریس کی تشکیل بھی عمل میں آئی ہے۔ کانگریس ان تمام لوگوں کے لئے خواہ ہندو ہوں یا مسلمان، عیسائی ہوں یا سکھ یا زرتشت یا جینی۔
(Collected of Mahatma Gandhi volumn 90 pp-38)
یہی وہ نظریہ اور خیال تھا کہ ہندوستان میں جو بھی رہتا ہے خواہ ہندو اور مسلمان ہو سب کا یہاں حقوق یکساں ہے اسی نظریہ کی وجہ سے گاندھی جی کی ناتھو رام گوڈسے اور ان کے رفقاءنے جان لے لی۔ گاندھی کے قتل کے چند ہفتوں بعد سیوا گرام میں ایک گروپ کی میٹنگ ہوئی اب اس کے بعد کیا کیا جا سکتا ہے؟ گاندھی جی کے قتل سے آر ایس ایس کو محض اس لئے نہیں جوڑا جاتا ہے کہ ناتھو رام گوڈسے کا گاندھی جی کے قتل میں ہاتھ تھا بلکہ اس لئے بھی جوڑا جاتا ہے کہ آر ایس ایس کے اس وقت کے سربراہ ایم ایس گوالکر نے گاندھی جی کے قتل پر نہایت ظالمانہ اور سفاکانہ تقریر کی۔ مارچ 1948 میں سیوا گرام میں ونوبا بھاوے نے تقریر کی کہ” انہیں سخت تکلیف ہے کہ گاندھی جی کو اس نے قتل کیا جو ان کی ذات سے تعلق رکھتا ہے۔ ناتھو رام گوڈسے مہاراشٹر ین برہمن تھا و ہ اس پر بھی فکر مند تھے کہ جس تنظیم سے وہ تعلق رکھتا ہے وہ بھی ان کی ذات سے تعلق رکھتی ہے۔“
آر ایس ایس نے بھاوے پر تبصرہ کیا کہ انہوں نے جو کچھ کہا نہایت حکمت و مصلحت سے کہا ہے۔ اس کی جڑیں گہری اور پھیلی ہوئی ہیں اور یہ فسطائی کر دار کی حامل ہیں ۔ اس تنظیم کے ممبر دیگر لوگوں کو اعتماد میں نہیں لے سکتے۔ گاندھی جی کے اصول سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کا اصول سچائی سے مختلف ہے یہ جھوٹ ان کے فلسفہ اور رتکنیک کا لانیفک جز ہے۔“
ونوبا بھاوے نے وضاحت کی کہ گاندھی کی سربراہی میں قومی تحریک اور ہندوتو کے حامیوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
” آر ایس ایس کا طریقہ¿ کار ہم لوگوں کا طریقہ کار سے بالکل بر عکس ہے۔ جب ہم لوگ جیل جا رہے تھے تو وہ لوگ فوج اور پولس میں شامل ہورہے تھے، وہ لوگ وہاں فوراً پہنچ جاتے تھے جہاں ہندو مسلمانوں کا فساد برپا ہونے کا امکان ہوتا یا برپا ہوجاتا۔ اس وقت کی بر طانوی حکومت اپنے لئے مفید اور سود مند سمجھتی تھی اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی تھی اور اب اس کے نتائج ہم لوگ بھگت رہے ہیں۔“
( دیکھئے گوپال کرشن گاندھی ۔ایڈیٹر۔گاندھی چلے گئے کون ہماری رہبری کرے گا۔ مستقل تاریکی ہے۔ صفحہ88-89)
جو لوگ گاندھی جی کے پیروکار بھی نہیں ہیں وہ بھی ونووا بھاوے کے خیالات کی تائید کرتے ہیں۔ یہ بات ”ہریجن“ اخبار میں19دسمبر1946 کو شائع ہوئی۔ ونوا بھاوے کی طرح مسٹر کے جی مشرو والا بھی جو گاندھی کے قریبی لوگوں میں سے تھے انہوں نے سنگھ کو قریب سے مطالعہ کیا اور بھاوے کے خیالات کی حمایت و تائید کی۔ بہت دنوں تک آر ایس ایس پر کوئی تبصرہ کرنے سے پر ہیز کیا لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ میری غلط فہمی یقین میں تبدیل ہو گئی۔ مشرو والا مراٹھی لٹریچر اور آر ایس ایس کا مطالعہ کیا اور اس کے سلوگن کے بارے میں لکھا کہ ”ہندوو¿ں کے لئے پیار اور دوسروں کے لئے کوئی غلط خواہشات نہیں۔“ میرا خیال ہے کہ اس کا نصف حصہ صحیح نہیں ہے اب میری رائے یہ ہے کہ جو میں نے سنا اور ان کا لٹریچر پڑھا ہے اس سے ان کے متعلق جو بات کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ ”مسلمانوں کے لئے نفرت اور دشمنی۔“ مشرو والا نے جس کی نشاندہی کی وہ وہ در اصل ایم ایس گوالکر کے تحریروں او رتقریروں کا خلاصہ ہے جو لمبے عرصہ تک آر ایس ایس کے سرسنچالک (سربراہ) رہے ہیں۔ موجودہ سرسنچالک موہن بھاگوت اپنے پہلے کے جانشینوں سے کچھ مختلف ہیں ، حکمت اور مصلحت کا مظاہرہ کرتے ہیں مگر ہندوو¿ں کی برتری کے وہ بھی قائل ہیں(ہری دوار میں جو مسلمانوں کی نسل کشی کے اعلان پر ان کی خاموشی رہی وہ اسی حقیقت کا پتہ دیتی ہے) ۔1948 کی طرح2022 اقلیت کے دشمنی بالکل چشم کشا ہے ہندو تو او رگاندھی جی کے فلسفہ سے بالکل مختلف اور برعکس ہے۔ اس وقت ایک ہندوستانی کی حیثیت سے دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرناہوگا۔
ہم کتنے عقلمند اور جرا¿ تمند ہیں اسی پر ہندوستان کے جمہور(Republic)کا مستقبل وابستہ ہے۔( دی ٹیلی گراف ،29جنوری 2022)
تبصرہ: رام چند گوہا ہندوستان کے معروف تاریخ داں ، مصنف اور کالم نویس ہیں انہوں نے صاف صاف لکھا ہے کہ گاندھی اور ہند وتوا یا گاندھی اور گوڈسے میں بہت بڑا فرق ہے۔ اس وقت ہندوستان دو حصوں میں خیالات اور جذبات کے اعتبار سے منقسم ہو گیا ہے۔ جرا¿تمندی کے ساتھ گاندھی اور گوڈسے (ہندوتو) میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اگر ملک کے زیادہ تر لوگ گوڈسے کے حامی ہو گئے تو ملک میں جمہوریت کا خاتمہ یقینی ہے۔ اگر گوڈسے کے خلاف اورگاندھی خیالات کی حمایت میں کھڑے ہو گئے تو ملک میں جمہوریت اور دستور کاتحفظ ممکن ہو سکتا ہے۔