میں بالی گنج میں بی جے پی کے دو لیڈروں سے مقابلہ کررہی ہوں۔ایک بی جے پی کے ٹکٹ پر اورا یک بی جے پی کا آدمی ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پرلڑرہا ہے۔ تعجب ہے کہ کچھ نام نہاد مسلم لیڈران ایک ایسے شخص کی حمایت کررہے ہیں جو این آر سی کا حامی اور آسنسول فسادات میں ملوث رہا ہے:سائرہ شاہ حلیم

0
76

کلکتہ (انصاف نیوز آن لائن)
بالی گنج اسمبلی حلقہ سے سی پی آئی ایم کی امیدوار سائرہ شاہ حلیم نے آج کہا ہے کہ میں دو بی جے پی لیڈرو ں سے مقابلہ کررہی ہے۔ایک امیدوار بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑرہے ہیں جب کہ دوسرا بی جے پی کا آدمی ہے اور بی جے پی کے نظریات و فکر کا حامل ہے مگر وہ ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر امیدوار ہے۔مجھے امید ہے کہ بالی گنج کے عوام دونوں بی جے پی امیداور وں کو شکست دے گی۔
سائرہ شاہ حلیم نے کہا کہ ترنمول کانگریس کے خیمے میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔اس لئے ٹی وی چینلوں پر میرے دئیے گئے بیانات اور انٹرویوکو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں۔مگر تعجب ہے کہ ایک ایسے شخص کی حمایت کی جارہی ہے جس پر آسنسول فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہونے کاالزام ہے۔جس نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دئیے ۔جس نے بنگال کے مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دے کر گالی دی۔جس نے کھلے عام این آر سی اور شہری ترمیمی ایکٹ کی حمایت کرتا تھا۔

سائرہ شاہ حلیم نے انصاف نیوز آن لائن کو خصوصی انٹرویو دیتےکہا کہ بالی گنج اسمبلی حلقہ کا ضمنی انتخاب صرف انتخاب نہیں ہےبلکہ سیکولر ووٹروں کےلئے امتحان ہے۔ایک ایسے شخص کو بالی گنج کے عوام کے سر پر تھوپنے کی کوشش کی جارہی ہے۔جو سیکولر کردار کے خلاف ہے۔جس نے ملک کے اقلیتوں کو غدارثابت کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے ممتا بنرجی کی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ممتا بنرجی سیکولر لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں مگر وہ مسلسل سیکولر ویلو پر حملہ کررہی ہے۔ترنمول کانگریس بھی واشنگ مشین بن گئی ہے ۔فرقہ پرست لیڈران رات رات سیکولر بن جاتے ہیںا ور سیکولر راتوں رات فرقہ پرست جانتاہے۔انہوں نے کہا کہ بالی گنج کے عوام ایسے دل بدلو لیڈروں کو سبق سکھانا ہے۔

سائرہ شاہ حلیم نے کہا کہ میں اول دن سے این آر سی اور شہری ترمیمی ایکٹ کے خلاف جد وجہدکرتی رہی ہوں۔انہوں نے کہا حجاب پر میں نے واضح موقف پیش کیا ہے کہ جو مسلم لڑکیاں حجاب پہنناچاہتی ہیں تو انہیں کوئی روک نہیں سکتا ہے اور ملک کا آئین اس کی اجازت دیتاہے۔مگر میرا سوال ہے کہ ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی کے لوگوں نے حجاب کی حمایت کب آواز بلند کی ہے۔