Thursday, May 30, 2024
homeہندوستانمجھے حجاب پسند ہے:مسلم لڑکیا ں حجاب کی حمایت میں سامنے آئیں

مجھے حجاب پسند ہے:مسلم لڑکیا ں حجاب کی حمایت میں سامنے آئیں

بنگلور (انصاف نیوز آن لائن)
کرناٹک میں حجاب کا سلسلہ ریاست کے دیگر اضلاع میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ میسور ضلع میں مسلم طلباء نے جمعہ کو ’’مجھے حجاب پسند ہے‘‘ تحریک شروع کی ہے۔دوسری جانب بی جے پی اس پورے مسئلے کو فرقہ واریت کا رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے اورکہا ہے کہ وہ طالبانائزیشن نہیں ہونے دے گی اور ان طلباء سے کہا کہ اگر وہ کلاسز میں جانا چاہتے ہیں تو انہیں حجاب سے پرہیز کرنا ہوگا۔
دوسری جانب کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کرناٹک کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم کے راستے میں حجاب لا کر ہندوستان کی بیٹیوں کا مستقبل چھین لیا جا رہا ہے۔انہوں نے سرسوتی پوجا کے موقع پر ٹویٹ کیا، ’’تعلیم کے راستے میں حجاب لا کر ہم ہندوستان کی بیٹیوں کا مستقبل چھین رہے ہیں۔ ماں سرسوتی سب کو علم عطا کرے۔ وہ امتیازی سلوک نہیں کرتی۔
تنازع کے درمیان، کرناٹک حکومت نے تعلیمی اداروں سے کہا ہے کہ وہ لباس کے موجودہ اصولوں پر اس وقت تک عمل کریں جب تک کہ ہائی کورٹ اس سلسلے میں اگلے ہفتے کوئی حکم جاری نہیں کرتی ہے
مسلم طالب علموں نے میسور شہر میں’’ ‘مجھے حجاب پسند ہے‘‘ تحریک شروع کی ہے اور اُڈپی ضلع میں حجاب پہننے اور کلاسوں میں شرکت کے لیے طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے طلباء کا گروپ تاریخی بنی منتپ کے قریب جمع ہوا اور حکومت سے حجاب والے طلباء کو اجازت دینے کے لیے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ‘مجھے حجاب پسند ہے۔اور بعد میں حجاب پہن کر کلاسز میں شرکت کی
شمالی کرناٹک کے بیلگاوی کے رام درگ کالج میں جب ہندو طلبہ زعفرانی شال پہنے کلاس میں آئے تو پولیس نے مداخلت کی۔
چیف منسٹر بسواراج بومئی نے حجاب کے تنازع پر ریاست میں ابھرتی ہوئی صورتحال پر ایک میٹنگ کی۔ وزیر تعلیم B.C. ناگیش اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران نے میٹنگ میں شرکت کی اور بومئی کو اس مسئلہ سے آگاہ کیا۔
بجلی، کنڑ اور ثقافت کے وزیر وی سنیل کمار نے کہا کہ وہ اُڈپی ضلع کی طالبانائزیشن کی اجازت نہیں دیں گے جہاں سے حجاب کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ “غریب پس منظر والے طلباء ہائی کورٹ میں کیسے جا سکتے ہیں؟ ان کے پیچھے کون ہے؟انہوں نے سوال کیا۔وزیر تعلیم نے کہا کہ اگر مسلم طلباء پڑھنا چاہتے ہیں تو انہیں یونیفارم میں آنا ہوگا۔ انہوں نے حزب اختلاف کے لیڈر سدارامیا کی تنقید کرتےہوئے کہا کہ جب وہ وزیرا علیٰ تھے اس وقت ہی یونیفارم کا قانون لایا گیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ جب ہائی کورٹ اس معاملے کا فیصلہ کرے گی تو ریاست ایک پالیسی لے کر آئے گی،‘‘ انہوں نے کہا۔
وزیر داخلہ اراگا جنیندرا نے کہا ہے کہ حکومت کانگریس پارٹی کی خواہشات کے مطابق قوانین نہیں بنا سکتی۔یونیفارم کا تصور انگریزوں کے دور سے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ووٹ بینک کی سیاست کے لیے مذہب کی بنیاد پر قوم کو تقسیم کیا ہے۔
کانگریس کے ایک اور سینئر لیڈر بی زیڈ۔ ضمیر احمد خان نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر دکھ ہوا کہ طالبات کو کالج میں داخلے سے منع کیا گیا اور کنداپور میں حجاب پہن کر سڑک پر کھڑے ہوئے۔
کرناٹک کے اُوڈپی ضلع کے ایک کالج کی طرف سے کلاس رومز کے اندر حجاب پہننے والی طالبات کو اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے فوری بعد سے ہی ٹوئٹر پر ’حجاب ہمارا حق ہے‘ یعنی #HijabisOurRigh کا ٹرینڈ چل رہا ہے۔
ٹوئٹر صارفین نے اُوڈپی کی ان لڑکیوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی جو اپنی آزادی انتخاب (Freedom of choice) پر عمل کرنے کے حق کے لیے لڑ رہی ہیں۔ ہیش ٹیگ ’حجاب ہمارا حق ہے‘ (Hijab is our Right) ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے جس کے ساتھ سوشل میڈیا کے ایک حصے نے ان طالبات کو ہراساں کیے جانے کی مذمت کی ہے۔ اسکول کے پرنسپل کی جانب سے لڑکیوں کو باہر کرتے ہوئے اسکول کے دروازے بند کرنے کی ویڈیو پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس کی شروعات ایک کالج سے ہوئی تھی، لیکن اب دو دیگر کالج بھی ایسی طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

ایک صارف نے لکھا ہے کہ طالبان لڑکیوں کو اسکولوں اور کالجوں میں جانے کی اجازت نہیں دیتے۔ ہندوستان میں سنگھی نسل کشی کرنے والے سر پر اسکارف پہنے مسلم لڑکیوں کو اسکولوں اور کالجوں میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ وہ پڑھی لکھی مسلم خواتین سے خوفزدہ ہیں۔ اس سے انھیں بہت ڈر لگتا ہے۔ #HijabisOurRight
’’واقعی ہمیں حیران کر دیا، کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کے شہریوں کو بھی اس قسم کی صورتحال کا سامنا ہے، یہ ان کا بنیادی حق ہے‘‘۔
’’آئیے ہم سب اپنی بہنوں کے حقوق کے لیے کھڑے ہو جائیں…اس امتیازی سلوک کی وجہ کیا ہے..انہیں کالجوں میں داخلے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی..صرف اس لیے کہ وہ حجاب پہنتی ہیں یہ اسکول سے باہر کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے‘‘۔
’’اسلام میں حجاب پہننے پر زور دیا گیا ہے لہٰذا کرناٹک حکومت کی طرف سے ہندوستانی آئین کے دفعہ 25 کی خلاف ورزی ہندوستان کے آئین سے ان کی لاپرواہی کو ظاہر کرتی ہے‘‘۔
کرناٹک کے ایک اور گورنمنٹ کالج میں حجاب پہننے کی وجہ سے داخلے سے انکار پر پرنسپل سے مسلم لڑکیوں نے بار بار درخواست کی، لیکن انھیں اس کے باوجود بھی اندر جانے نہیں دیا گیا۔ انھیں کہا گیا کہ لڑکیوں سے درخواست ہے کہ وہ امتحانات سے قبل تعلیم سے انکار کرکے اپنا مستقبل برباد نہ کریں۔

’’وہ اسکولوں/کالجوں میں حجاب پر پابندی لگا رہے ہیں گویا وہ اسے خریدنے کے لیے اپنی فیس سے کچھ رقم کاٹ رہے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ اس میں کیا مسئلہ ہے۔ حجاب ایک انتخاب ہے۔ اگر آپ کسی کو اسے پہننے پر مجبور نہیں کر سکتے تو پھر بالکل اسی طرح آپ کسی کو اسے ہٹانے پر مجبور نہیں کر سکتے‘‘۔

واضح رہے کہ حجاب دنیا بھر میں اسلامی تعلیمات اور مسلم تہذیب کا اٹوٹ حصہ ہے۔ دنیا کے تمام ممالک میں بیشتر مسلم خواتین حجاب کرتی ہیں۔ اس کے باوجود حجاب کو عالمی سطح پر متنازعہ موضوع بنایا جارہا ہے۔ کئی مسلم خواتین کو خدشہ ہے کہ انھیں جب چاہیں حجاب پہننے کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ ان کا حق انتخاب (Right to Choice) ہے۔ جسے وہ خود پسند کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین