نور اللہ جاوید
عیدالفطر کا عظیم تہوار دنیا کی دوسری قوموں کی طرح مسلمانوں کیلئے محض جشن و طرب، دولت کی نمائش، عیش و عشرت میں مگن ہونے کا ذریعہ نہیں ہے۔ عید اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر،مناجات ودعا، ایثار و قربانی،باہمی اتحاد و یکجہتی اور روحانی ترقی کا ذریعہ ہے۔دنیا کی دوسری قوموں کے تہوار اور مسلمانوں کی دونوں عید وں کے درمیان یہی بنیادی فرق ہے۔دنیا کی تمام قوموں کے مذہبی تہوار تاریخی واقعات کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ بھارت میں برادران وطن کے تمام تہواروں کو دیکھ لیں وہ کسی نہ کسی تاریخی واقعے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ مگرمسلمانوں کی دونوں عیدیں کسی تاریخی واقعات جو ایک مرتبہ پیش ہوکر ختم ہوگئے ہیں کی یادمیں نہیں ہیں بلکہ دونوں عیدیں (عید الفطر اور عید الاضحی)کسی عبادت کی تکمیل کی خوشی میں منایاجاتا ہے۔
رمضان المبارک کا مبارک مہینہ جو تقویٰ،مساوات، مواخوات اور بھائی چارہ کا مہینہ ہے۔ پورے ایک مہینے روزے، رات میں تراویح اور عبادت کی تکمیل پر اللہ کی نعمتوں کا شکر اور خوشی کے اظہار کیلئے عید الفطر کا عظیم تہوارمنایاجاتا ہے۔اس کے اظہار کیلئے خالی میدان میں جمع ہوکر دوگانہ نماز انتہائی نظم و ضبط اور اجتماعیت کے مظاہرے کے ساتھ منائی جاتی ہے۔عید الاضحی کے موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اورا ن کے فرزند حضرت اسماعیل ؑکی یاد میں قربانی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔تاہم عید الاضحی اسلام کی دوسری عظیم عبادت یعنی حج کی تکمیل کی خوشی میں منائی جاتی ہے۔اس لیے کہ حج کا سب سے بڑا رکن وقوفِ عرفہ 9ذی الحجہ کو ادا کیا جاتا ہے، اس تاریخ کو پوری دنیا سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمان میدانِ عرفات میں جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی عظیم عبادت کی تکمیل کرتے ہیں اس عبادت کی تکمیل کے اگلے دن یعنی دس ذی الحجہ کو عید الاضحی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔سورہ مائدہ کی آیت ”اَلْیَوْمَ اکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ“ سے متعلق یہودیوں نے خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہودیوں نے کہا کہ ’اگر یہ آیت ہم پر نازل کی جاتی توہم اس کے یومِ نزول کو بطورِ عید مناتے“۔اس کے جواب میں حضرت عمر فاروقؓ نے کہا کہ جس روز ہم پر یہ آیت نازل کی گئی،مسلمانوں کی دو عیدیں جمع ہو گئی تھیں۔ یہ آیت دس ہجری میں حجۃ الوداع کے موقع پر ”عرفہ“ کے دن یعنی نویں ذوالحجہ کو بروزِ جمعہ عصر کے وقت نازل ہوئی،جبکہ میدانِ عرفات میں نبی کریم ؐکی اونٹنی کے گرد چالیس ہزار سے زائد اتقیاء و ابرار کا مجمع تھا۔
جب مسلمانوں کیلئے خوشیوں کے مواقع بھی عبادت اور بندگی کی تکمیل پراظہار تشکر کیلئے ہوتی ہیں توپھر اس میں عیش و طرف، اخلاقی قدروں کی پامالی، سماجی اور معاشرتی بے حسی کیلئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے۔چناں چہ کھلے آسمان میں دوگانہ نماز کی باجماعت کی ادائیگی جہاں ضبط و نظم اور ڈسپلن کی یادلاتی ہے وہیں یہ احساس بھی دلاتی ہے کہ دنیا میں دولت،علم،عہدہ اور دیگر امور میں مقام ومرتبہ اور عہدے کے اعتبار سے انسانوں کے درمیان فرق ہوسکتے ہیں مگر خالق کائنات کے نزدیک بحیثیت انسان سب برابر ہیں اور سب ایک صف میں دست بستہ صف آرا ہیں۔یہاں کسی کیلئے بھی کوئی وی آئی پی پروٹوکول نہیں ہے۔اگر دوگانہ نماز پڑھنی ہے ایک ہی صف میں کھڑا ہونا ہوگا۔کندھے سے کندھے ملاکر رب کے حضور میں سجدہ شکر کرنا ہوگا چاہے دفتر کا باس ہو یا پھر چپڑاسی۔یہ دونوں عیدیں روحانیت، للہیت اور صدق و خلوص کے ساتھ عبادت کامتقاضی ہے وہیں اجتماعی ذمہ داریوں کی یاد دہانی بھی کراتی ہے۔انفرادی خوشی پر اجتماعی عبادت کا انتخاب کا بنیادی مقصد یہی ہے۔
ایک ایسے و قت میں جب بھارت کے مسلمانوں کے سامنے چیلنجزوں کا انبار ہے،مذہبی آزادی خطرے میں ہے، مدارس کو مقفل کئے جارہے ہیں تو مساجد فرقہ پرستوں کے نشانے پر ہیں۔وقف جائداد جو مسلمانوں کے آباواجدادنے خیر فلاح کیلئے وقف کئے تھے پر گندی نگاہیں ہیں۔بھارت کے مسلمانوں نے انگریزوں کی غلامی کے خلاف اس یقین اور اعتماد کے ساتھ اجتماعی جدو جہد کا حصہ اورصف اول میں رہ کر قربانیاں دی تھی کہ آزادی کے بعد بھارت مسلمانوں کیلئے دنیا میں سب سے زیادہ محفوظ ملک رہے گا۔مسلمانوں کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو دیگر شہریوں کو ہے۔مذہبی آزادی حاصل ہوگی، ملک میں یکجہتی و ہم آہنگی کا ماحول ہوگا۔مگر آزادی کے محض 77برس بعد ملک کے حالات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں۔بھارت کے مسلمانوں کو آج ”غیر‘’ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے۔آزادی کے بعد ہی بھارت کے مسلمانوں کے سامنے چیلنجز اور مشکلات تھے۔مگر اس وقت جن حالات کا سامنا ہے وہ گزشتہ دہائیوں کے مقابلے کہیں زیادہ سنگین نوعیت کے ہیں۔مذہبی شناخت، مذہبی آزادی، فکر و خیال کی آزادی بلکہ اس سے بڑھ ملک کا وہ آئین جس کے ذریعہ ملک کے ہر ایک شہری کو یکساں حقوق و مواقع حاصل تھے وہ عملی طور پر اساطیری کتاب بن کر رہ گئی ہے۔آئین صرف کتابی شکل میں باقی رہ گئی ہے۔کوئی ایسا دن اور موقع نہیں ہوتا ہے کہ ملک کا حکمراں طبقہ برسرعام آئین کے روح کو پامال نہیں کرتا ہے۔آئین کی کسٹوڈین عدلیہ محض تماشائی ہی نہیں بلکہ آئین کی پامالی، بے وقعتی میں حصہ دار بنی ہوئی ہے۔ملک کی عدالتوں سے ایسے فیصلے صادر کئے جارہے ہیں جو محض ناانصافی پر مبنی ہیں بلکہ آئین کے خلاف ہیں۔عہدہ منصفی پر فائز جج صاحبان ہی فرقہ پرستی کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔عدلیہ آئین اور انصاف کے تقاضوں کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرتی ہے بلکہ اکثریت کے جذبات کو ملحوظ رکھنے اور عقیدے کی بنیاد پر فیصلہ کررہی ہیں۔حالیہ مہینوں میں مختلف حیلے اور بہانے سے جس طریقے سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزبیانات، اکثریتی طبقے کے بے روزگار نوجوانوں کو مسلمانوں پرحملے کیلئے اکسائے گئے، مدارس و مساجد اور مذہبی اداروں کو بلڈوز کیا گیا اس نے کئی سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔ اب تو سوال ملک کی سالمیت و اتحاد اور آئین کے مستقبل پر بھی کیا جارہا ہے۔مگر اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان حالات میں مسلمان عید الفطر کا عظیم تہوار کس طرح منائیں؟عید الفطر کے اس موقع کے ذریعہ مسلمان اپنے برادران وطن کو کیا پیغام دینا چاہیے۔کیا عید الفطر کے اس تہوار میں معاصر بھارت میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دینے کیلئے کوئی پیغام ہے؟۔معاصر بھارت میں سماجی پولرائزیشن، معاشی تفاوت اور فرقہ واریت، اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مہم اورمذہب کی بنیاد پر بھارتی معاشرہ کی تقسیم کو روکنے کیلئے کوئی نسخہ ہے؟۔رواداری، قوت برداشت، مذہبی، لسانی اور ثقافتی تنوع جو بھارت کا طرہ امتیاز تھاکو ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں کیا ہم اس کے تئیں بھارت کے عام شہریوں کو آگاہ کرسکتے ہیں کہ اگر بھارت کا طرہ امتیاز ختم ہوگیا تو ملک کو اس کی کیا قیمت چکانی ہوگی؟۔ سوال یہ بھی کہ ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اوران سے نبردآزما ہونے کیلئے عید کے اس عظیم موقع پر بھارت کے 20کروڑ مسلمان جو موجودہ حالات میں دلبرداشتہ اور شکشتہ دل اور غموں او ر وسوسوں میں گھرے ہیں کے زخموں کے مداوا کا کوئی سامان اور پیغام ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے بھارت کے مسلمانوں کو اس وقت جن حالات کا سامنا ہے وہ مسلمانوں کی 14سو برس کی اس تاریخ میں کوئی پہلی مرتبہ پیش نہیں آیا ہے۔اگر گزشتہ 14صدیوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو کوئی ایسی صدی نہیں ہے جہاں مسلم امہ نے بحیثیت امہ چیلنجوں اور مشکلات کا سامنا نہیں کیا ہے۔دنیا بھر کی طاغوتی قوتیں مسلمانوں کے خلاف صف آرائی ہوئی ہیں اور اسلام اور اس کے پیغام کو دنیا سے مٹانے کی بھر پور کوشش کی ہے مگر تاریخ کے ہرلمحے میں مسلمانوں نے اجتماعیت، ہم آہنگی اور علمی و عملی قوت سے اس کا دفاع کیا اور یہی نہیں ہے کہ آج بھی دنیا میں تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام ہے۔آج بھی دنیا اسلام کی طرف امیدوں بھری نظر سے دیکھ رہا ہے کہ اسلام ہی دنیامیں امن و شانتی اور بھائی چارہ قائم کرسکتاہے۔مگر سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ مسلمانوں نے ہی اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کو فراموش کردیا ہے۔دنیا کو پیغام دینے کے بجائے آپسی اختلافات، مفادات اور نظریاتی کشمکش میں مبتلا ہے۔مسلم معاشرہ بدترین معاشرہ بن گیا ہے۔مسلم نوجوان مجموعی طور پر سب سے بے ہنگم جماعت بن کر رہ گئی ہے۔مسلم معاشرہ دنیا کو دینے کے بجائے اس وقت کاسہ لے کر حکمرانوں کی چاپلوسی کررہا ہے۔ایسے میں دنیا ہم سے کیا سیکھ سکتی ہے؟۔
رمضان المبارک کے مہینوں میں بیشتر مسلمانوں نے قرآن کریم کی تلاوت اور تراویح میں اہتمام کے ساتھ سماعت کی ہے۔اگرقرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ اس کے پیغام اور معانی ومفاہیم کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی تومسلمانوں کو مشکل حالات میں طاغوتی اور مادی قوتوں کا مقابلہ کرنے اور دجالی تہذیب وثقافت کی فریب کاری اورملمع سازی کا پردہ چاک خود بخود ہوجاتا۔سورۃ کہف جس کا جمعہ کو تلاوت کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے میں چار واقعات بیان کئے گئے ہیں وہ چاروں واقعات ایمان اور مادیت کی کشمکش، دجالی تہذیب وثقافت کی ملمع سازی اور فریب کاری کا پردہ چاک کرنے کے ساتھ خالق کائناب کی برتریت اور ان کے علیم و خبیر کے عقیدہ کو مضبوط کرتاہے۔اصحاف کہف تعداد میں ایک درجن سے بھی کم تھے مگر انہوں نے طاغوتی حکمراں کے سامنے سرتسلیم خم اور سپردگی کرنے کے بجائے مقابلہ آرائی کا فیصلہ کیا،ظالم بادشاہ کے ظلم و استبداد سے دل برداشتہ ہو کر مایوس ہونے کے بجائے اپنے لئے عزیمت کی راہ کا انتخاب کیا تو ان چھوٹی سی تعداد کی حفاظت کا سامان خود اللہ نے کیا۔اگر ان نوجوانوں کے ساتھ مدد خداوندی ہوسکتی ہے اگر ہم ان کے نقش قدم پرچل کر طاغوتی اور دجالی نظام کے خلاف علم بغاوت بلندکریں اور واضح کردیں صرف ایک ہی ذات ہے جو عبادت کے لائق ہے۔وہی باقی رہنے والی باقی دنیا فانی ہے اور اس کاخاتمہ یقینی ہے۔کوئی بھی طاقتور کی طاقت ہمیشہ کیلئے نہیں ہے اس کا زوایقینی ہے۔تو کوئی ایسی وجہ نہیں ہے مدد خداوندی نہیں آئے گی۔
ہمیں اس موقع پر تھوڑی دیر روک کر یہ بھی غورکرنا چاہیے کہ ملک کی آزادی کے بعد مسلمانوں کو جو حالات، مواقع اور آزادی کی شکل میں جو نعمت میسر ہوئی کیا بحیثیت امہ ہم نے اس نعمت کی ناقدری تو نہیں کی ہے۔ اورآج ہم اسی نعمت کی ناقدری کی سزا بھگت رہے ہیں۔سورۃ مائدہ میں ”خدائی دسترخوان‘’سے متعلق اشارہ کیا گیا ہے۔مفسرین بتاتے ہیں کہ حضرت عیسیؑ کی درخواست پر اللہ نے اس تاکید کے ساتھ بھیجنی شروع کی کہ اگر اس نعمت کی ناقدری و ناشکری کی گئی تو اس پر سخت سزا دی جائیں گی۔چناں چہ جب ”خدائی دسترخوان“ صرف غریب اورمفلوک الحال افراد کیلئے مخصوص ہوا تو اہل ثروت اور طاقتوروں کو گراں گزرا اور اس نے اس پر سول کھڑا کرنا شروع کردیا تو اس میں ملوث تمام افراد کے چہرے مسخ کردئیے گئے۔آزادی کے بعد مسلمانوں کیلئے بڑے مواقع تھے وہ اسلام کے پیغام سے ملک کے دیگر تمام طبقات کو روسناش کراتے، ذات پات کی تفریق، سماجی اور معاشرتی تفریق کے خلاف عملی جدو جہد کا حصہ بنتے ہیں مگر مجموعی طور پر مسلمان اس میں ناکام رہے۔اس لئے ذہن میں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ کہیں ظالم حکمرانوں کا تسلط مسلمانوں کیلئے اجتماعی سزا تو نہیں ہے۔کیا اس پر معافی اور تدارک کی کوئی راہ بھی ہے۔
عید الفطر کا یہ موقع یقینا خوشی کا اظہار کا موقعہ ہے اوریہ سنت رسول اور دینی شعائر کا حصہ بھی ہے مگر عید الفطر کا یہ موقع ہمیں محاسبہ اور احتسابی کا موقع بھی فراہم کرتاہے۔کیا ہم میں ایک زوال پذیر قوموں کی تمام علامتیں موجود نہیں ہیں۔مسلم معاشرہ اخلاقی اور دینی اقدارکے اعتبار سے دیوالیہ پن تو نہیں ہوگیا ہے۔ملی حمیت و غیر ت ختم تو نہیں ہوگئی ہے ہے۔اس بدترین حالات میں بھی مسلمان مختلف گروپ اور مسلکوں میں منقسم نہیں ہے۔ہرسمت بے حسی کا دور درہ ہے۔”مرگ انبوہ جشن ِوارد“کا مصداق بن کر عید کی خوشیاں منارہے ہیں۔جب کہ اس موقع پر قرآن کریم کے سورہ حدید کی آیت نمبر61غور فکرکی دعوت اور آواز دے رہی ہے اللہ کے نظام کے تابع بن جائیں۔
”کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ اور اس کے نازل کردہ نظام حق کے لیے نرم ہو جائیں۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی مگر ان کی مدت دراز ہوگئی اور ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔“
عید الفطر اسلامی روایات کا اٹوٹ حصہ اور مذہبی عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں عالمگیر اپیل کی صلاحیت ہے۔اس میں معاصر بھارت میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور اس سے مقابلے کی ترغیب کی بھرپور صلاحیت ہے۔ اس طرح سے دیکھا جائے عید الفطر کا یہ عظم موقع پر ہمارے لئے کئی مواقع لے کر آیا ہے۔ہم اس کا بہترین استعمال کرسکتے ہیں، خوداحتسابی اور محاسبہ کے ذریعہ ماضی کی ناکامیوں کااعتراف اور اس کے تدارک کیلئے حکمت عملی اور منصوبہ سازی کے ساتھ ہمیں بردارن وطن کو یہ پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ عید الفطر کا یہ موقع صرف مسلمانوں کیلئے خوشیوں کا اظہار نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعہ سماجی تفریق کے خاتمے کی اجتماعی کوشش اور سماج کے ان طبقات کے ساتھ کھڑے ہونے کا مواقع بھی ہے جو غربت، مفلوک الحالی کے شکار ہیں۔اگر عید کے پیغام کو مختصر لفظوں میں بیان کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے عید کے چار پیغام ہیں۔تنظیم و اتحاد۔ سماجی ہم آہنگی۔غریب پروری اور تکبیر مسلسل۔
عیدالفطر مذہبی حدود سے بالاتر ہوکر گہرے پیغامات کا حامل ہے۔اتحاد اور بھائی چارہ کی دعوت ہے۔ نماز عید کے دوران کندھے سے کندھا ملا کردوگانہ نماز کی ادائیگی اور اس ہزاروں افراد کی شمولیت اجتماعی جذبے کی علامت ہے۔اجتماعتی دعائیں مسلم کمیونٹی کے اندر اور اس سے باہر یکجہتی پر زور دیتی ہیں، اتحاد کے احساس کو فروغ دیتے ہیں بحیثیت انسان سب برابر ہیں، دولت مال، علم اور دنیا کے کسی بھی امتیاز کی وجہ سے کوبھی برتریت کا مستحق نہیں ہے۔زکوٰۃ اور صدقہ فطر کی ادائیگی کم نصیبوں کے لیے ہمدردی اور مدد کو فروغ دیتا ہے۔صدقہ فطر، صلہ رحمی، مواخات اور بھائی چارہ، ہمدردی کے جذبے سماجی ذمہ داریوں کے احساس کو پیدا کرتے ہیں۔عید افراد کو صلح کرنے، ماضی کی غلطیوں کو معاف کرنے اور تعلقات کو مضبوط بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔یہ سماجی بندھنوں کی اہمیت اور زندگی کی نعمتوں کے لیے شکرگزاری کو تقویت دیتا ہے۔
مذہبی پولرائزیشن اور عدم برداشت کے اس ماحول میں ہمیں کوئی ایسے کام نہیں کرنیاچاہیے کہ جو عیدکے پیغام کو گرد آلود کردے۔اس موقع پر ہمیں احساس فخر کے ساتھ برادرن وطن کو بتانا چاہیے ہماری عیدیں الگ کیوں ہیں۔ہماری خوشیوں میں بھی روحانیت، صداقت ہمدردی اور بھائی چارے کاجذبے کارفرما ہوتا ہے۔ہم ایک سڑک سے نماز کیلئے جاتے ہیں اور دوسری سڑک سے خاموشی سے لوٹتے ہیں۔ہماری زبانوں پر خالق کائنات کی عظمت کے اعتراف کیلئے وردیں ہوتی ہے۔ہم اللہ اکبر اللہ اکبر کا صدااس لئے بلند کرتے ہیں تاکہ ہم بتاسکیں دنیا کی زندگی فانی ہے۔عظمت وکبریائی کا مستحق صرف ایک ذات گرامی ہے۔دنیا اسی وجود سے قائم ہے آج اگر ہم خوش ہیں، ہمارے جسموں پر نئے کپڑے اور گھڑوں میں عمدہ پکوان ہیں وہ سب اس کی دین ہے اس میں ہماری کوئی خوبی و صلاحیت نہیں ہے۔
بھارت جیسے تکثیری معاشرے میں زندگی گزارنے کیلئے ہمیں سیرت مقدسہ کے اہم اسباق حلف فضول اور میثاق مدینہ جیسے واقعات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔عید الفطر کے خطبے میں ہمیں میثاق مدینہ کے اہم نکات سے باخبر کرنے کی ضرورت ہے۔میثاق مدینہ مذہبی آزادی، رواداری اور ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کا سبق سکھاتی ہے۔عیدالفطر کے اس موقع پر ہمیں عید ملن جیسے پروگرام کے ذریعے سماج کے نچلے سطح تک اتحاد و ہم آہنگی کا پیغام دے سکتے ہیں۔نفرت کا جواب نفرت دینے کے بجائے ہمیں اخلاق اور پیار ومحبت دینے کی ضرورت ہے مگر اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم مذہبی شعائر، شناخت سے دست بردار ہوجائیں۔معاصر بھارت میں یہی عید کا پیغام ہے۔مسلمانوں کو امت دعوت کا کردار ادا کرنا ہے۔قرآن کی تعلیمات، سیرت نبویہ ؐ کے آفاقی پیغام پر پہلے عمل کرنا ہے اور اس کے بعد اس سے روسناش کراناہے۔ہمیں کوشش کرنی ہے کہ کم سے کم اپنے آس پاس کے دو برادرن وطن تک اس پیغام کو پہنچادیں۔مسلمانوں کے خلاف نفرتی بیانیہ اور مسلمانوں کی تاریخ کو ظلم و ستم کا استعارہ کے طور پر جو شعوری کوشش ہورہی ہے اس کا خاتمہ ہم عید الفطر کے موقع پر ایک مثالی مسلمان بن کر دے سکتے ہیں۔یہ اس لئے بھی آسان ہے کہ حالیہ برسوں میں بردارن وطن کے چند بے شعور اور طاقت و قوت کے حصول میں مگن ایک گروہ نے شعوری اور لاشعوری دونوں طور پر اپنے تہواروں کو نفرت کا ذریعہ بنادیا ہے۔اپنے تہواروں میں روحانیت اور انسانیت کے دردوں کا مداوا پیش کرنے کے بجائے ملک کی اقلیتوں کیلئے مسائل اور ان کے جائداد اور مساجد پر حملہ کرنے کا ذریعہ بنالیا ہے۔گرچہ یہ کوششیں انہیں اس وقت ثمر آور لگ رہی مگر حقیقت یہ ہے ان کوتاہ اندیشوں کا طائفہ اپنے مذہب کو خود بدنام کررہے ہیں اور یہ ثابت کررہے ہیں کہ ان کے پاس انسانیت کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔ایسے موقع پر ہم سماجی ہم آہنگی، اقتصادی ناہمواری، روادری اور وبھائی چارہ کا ثبوت پیش کرکے دنیاکو یہ پیغام دے سکتے ہیں ہمارے دامن میں ا ٓئیں ہمارے پاس دنیا کو دینے کیلئے بہت کچھ ہے۔اگر معاشرہ معاشی اور اقتصادی طور پر ناہمواری اور عدم توازن کا شکا ر ہے کہ ہمارے پاس ایسے طبقات کیلئے زکوۃ، صدقہ اور خیرات کا تحفہ ہے۔اسلام دولت کے ارتکاز کے مخالف ہے اس لئے اس نے زکوۃ اور صدقہ فطر اور خیرات جیسے نظام کو رائج کیا۔رمضان المبارک کا پورا مہینہ رواداری، اخوت اور مساوات کی پریکٹس ہے۔ہم اسے دوسرے مہینوں میں بھی نافذ کرتے ہیں۔اقبال کی زبان میں عیدالفطر کا پیغام ہے
یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اُخُوّت کی جہاں گیری، محبّت کی فراوانی