ریڈ روڈ سے ممتا بنرجی کا خطاب عید الفطر کے خالص مذہبی اجتماع کا بدترین سیاسی استعمال

بنگال میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات پر ترنمول کانگریس اور اس کے لیڈروں کادبدبہ مستقبل میں بدترین نتائج کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔۔۔۔مذہبی آزادی کو برقرار رکھنے کیلئے عبادات اور مساجد کو سیاسی گماشتوں سے بچانے کی ضرورت

0
257

کلکتہ :انصاف نیو ز آن لائن

کلکتہ شہر کے ریڈ روڈ پر عیدین کے موقع پر مسلمانوں کو سب سے بڑا مذہبی اجتماع ہوتا ہے جہاں دوگانہ عیدکی نماز ادا کی جاتی ہے۔یہ اجتماع تاریخی ہے اور اس مجمع سے ماضی کی کئی اہم شخصیات خطاب کرچکی ہیں ۔عید کے موقع پر امام عیدین کے ذریعہ کی جانے والی تقریر ماضی میں بہت ہی اہمیت کا حامل ہوتا تھا۔حکومتیں اس تقریر کے ذریعہ مسلمانوں کے تئیں اپنی لاپرواہی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہوجاتی تھیں۔تاہم گزشتہ چند برسوں میں ریڈ روڈ پر عید الفطر کے خالص مذہبی اجتماع کی نوعیت میں تبدیلی آتی جارہی ہے۔

کانگریسی وزیر اعلیٰ سدھارت شنکر رائے یہاں مسلمانوں کو مبارک باد دینے کیلئے آتے تھے مگر اس طریقے سے ان کیلئے اسٹیج نہیں سجایا جاتا تھا اور نہ ہی ہلڑ بازیاں ہوتی تھیں۔بائیں محاذ کے 34برسوں میں نہ جیوتی باسو اور نہ ہی بدھا دیب بھٹا چاریہ یہاں آنے کی ضرورت محسوس کی ۔دراصل بائیں محاذ حکومت کا نظریہ واضح تھا کہ مذہبی عبادات کا سیاسی استعمال نہیں ہونا چاہیے۔مگر 2011میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی ممتا بنرجی نے نئی روایات قائم کی اورممبر کے عین قریب بڑا سا سیاسی اسٹیج سجایا جانے لگا۔ماضی میں امام عیدین بنگال کے مسلمانوں کے حالات پر حکومت کی توجہ بے بالی سے مبذول کراتے تھے اور اس کی مسلم حلقوں میں پذیرائی بھی ہوتی تھی ۔2012تک یہ سلسلہ جاری رہا۔2012کے عید الفطر کے موقع پر امام عیدین نے ممتا بنرجی کی حکومت کی سخت تنقید کی اور وقف املاک گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کاوعدہ یاد لایا تو ممتا بنرجی نے فوری جانچ کا اعلان کردیا گرچہ اس کچھ بھی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔مگر حکومت کا دبائو ، خلافت کمیٹی پر سیاسی اثرو رسوخ کی وجہ سے امام عیدین کی تقریر سے بنگال کے حالات اور مسلمانوں کے مسائل غائب ہوتے چلےگئے۔اس سال امام عیدین کمیونزم ، سیکولرازم اور کمیونل ازم کے بحث میں الجھے رہے اورغزہ کے حالات کو بیان کیا مگر بنگال کے سیاسی حالات پر ایک حرف بھی بولنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

ریڈروڈ کے مجمع کا سیاسی استعمال کس طرح سے کیا جاتاہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ امام کا خطبہ جیسے ہی ختم ہوا اورامام ابھی منبر سے نیچے بھی نہیں آئےاور خلافت کمیٹی کا ایک کارکن مائیک لے کر ممتا بنرجی اور ان کے بھیتجےابھیشیک بنرجی کے کا استقبال کا اعلان شروع کردیاگیا۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی تقریر اور اس پر بجنے والی تالی اور شور و غل کو سننے کے بعد کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں چند سیکنڈ قبل مسلمانوں نے دوگانہ عید الفطر کی نماز ادا کی ہے ۔

ممتا بنرجی ریاست کی وزیر اعلیٰ ہیں ،ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی ریاست کے شہریوں کو تہوار اور عید کی خوشیوں کا مبارک دینے کا حق انہیں حاصل ہے اور یہ ان کی دریا دلی بھی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس موقع پر ممتا بنرجی نے جس طریقے سے سیاسی تقریر کی ہے اور جس طرح سامنے موجودسامعین نے تالیاں بجائی ہیں وہ کیا ’’عید الفطر کا اجتماع‘‘ جو خالص مذہبی ہے کا سیاسی استعمال نہیں ہے؟۔

سوال یہ ہے کہ کیا ممتا بنرجی دیگر مذاہب کے مذہبی اجتماعات کا اس طرح سے بھونڈے انداز میں سیاسی استعمال کرتی ہیں۔اگر ممتا بنرجی کی تقریر ، ان کے انداز اور مجمع سے بلند ہوتی ہوئی تالیوں اور شور و غل کے بعد کوئی اندازہ لگاسکتا ہے کہ یہاں پر چند سکینڈ قبل مسلمانوں کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع ہوا تھا۔

ممتا بنرجی گزشتہ 13برسوںسےہر سال عید کے موقع پر آتی ہیں اور مسلمانوں سے خطاب کرتی ہیں۔ان13برسوں میںکچھ تبدیل ہوا ہے تو وہ ممتا بنرجی کی تقریر کا انداز ہے ۔ابتدائی برسوں میں وہ اپنی حکومت کے کام کاج اوران کے حکومت کے ذریعہ مسلمانوں کی ترقی کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کا ذکر کرتی تھیں اور سیاسی بیان بازی سے گریز کرتی تھیں ۔مگرجس طرح خلافت کمیٹی حکومت کے سامنے سرنگو ہوتی چلی گئی اس طرح اس کا سیاسی استعمال بھی ہونے لگا۔ریڈ روڈ کے اس مجمع سے ترنمول کانگریس کے جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی کے خطاب کا کیا جواز ہے؟وہ کس حق سے یہاں خطاب کررہے ہیں۔خلافت کمیٹی اس پر کیا جواب دے گی۔

یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ جس وقت ممتا بنرجی ریڈ روڈ پر عید الفطر کے مذہبی اجتماع سے سیاسی بیان بازی کررہی تھیں اسی وقت پارک سرکس میدان میں نمازیوں کو مبارک دینے کیلئے کنارے میں موجود سی پی آئی ایم کی امیدوار سائرہ شاہ حلیم کی موجودگی پر علاقے کے ممبر اسمبلی اور ریاستی وزیر بابل سپریہ اعتراض کررہے تھے۔بابل سپریہ کا اعتراض تھا کہ عید کے موقع پر سیاسی تشہیر نہیں ہونی چاہیے۔جب کہ نہ سائرہ شاہ حلیم تقریر کررہی تھیں اور نہ ہی کوئی بیان بازی ۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی اجتماعات پر صرف ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی کی اجارہ داری ہے۔؟ جب ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی کے لیڈران مذہبی اجتماعات میں سیاست کرسکتے ہیں تو دوسری جماعتوں کے کیوں نہیں ؟۔

سوال یہ ہے کہ کیا ممتا بنرجی رام کرشن مشن کے اجتماعات کا اس طرح سے سیاسی استعمال کرتی ہیں؟ ۔کیا ممتا بنرجی کرسمس ڈے کا سیاسی استعمال کرتی ہیں ؟تو پھر مسلمانوں کے مذہبی اجتماعات کا اس طرح سے سیاسی استعمال کیوں کرتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ مستقبل میں اس کے کیا نتائج ہوں گے۔کیا کلکتہ خلافت کمیٹی جو تاریخی رشتہ تحریک آزادی کے خلافت تحریک سے جوڑتی ہے نے کبھی غور کیا ہے۔ملک کے مختلف حصوں میں ریاستی وزرائے اعلیٰ عید الفطر کی مبارک دینے کیلئے پہنچتے ہیں مگر اس طرح سے اسٹیج نہیں سجایا جاتا ہے۔سب سے ناہم سوال یہ ہے کہ اگر مستقبل میں حکومت تبدیل ہوتی ہے اور ایسی کوئی حکومت منتخب ہوتی ہے جو مسلم مخالف ہے تو کیا اس کے بھی وزیرا علیٰ کا استقبال اس طرح سے کیا جائے گا۔کیا اس وقت خلافت کمیٹی کے پاس انکار کرنے کا کوئی جواز رہے گا۔

اس سال ممتابنرجی نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کی تعلیمی سماجی اور معاشرتی ترقی پر کچھ بھی یقین دہانی کرانے کے بجائے این آر سی اور یونیفارم سول کوڈ پر زور دیتی ہوئی نظرآئی۔بی جے پی کے انتخابی منشور میں یونیفارم سول کو ڈ کا ذکر ہوتا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ چند دنوں میںہوجائے گا مگر اب تک بنگال میں کسی بھی بی جے پی لیڈر بشمول وزیر اعظم مودی اور امیت شاہ نے یونیفارم سول کوڈ کا ایشو نہیں اٹھایا ہے تو پھر ممتا بنرجی اس ایشو کو اٹھاکر مسلمانوں کو خوف زدہ کیوں کررہی ہیںہے۔وہ بی جے پی کو شکست دینے کی بات کرتی ہیں مگر انڈیا اتحاد کے سوال پر وہ خاموش ہوجاتی ہیں ۔کیا وہ بتاسکتی ہے کہ ان کی غیر حکمت عملی اور حد سے زیادہ خود اعتمادی کی وجہ سے شمالی بنگال کی کئی مسلم اکثریتی سیٹ پر بی جے پی کے جیتنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں کیا ممتا بنرجی اندرون خانہ بی جے پی کو فائدہ پہنچارہی ہیں ۔