Wednesday, May 29, 2024
homeاہم خبریںمولانا خالد سیف رحمانی ہی آج کے فاتح ہیں

مولانا خالد سیف رحمانی ہی آج کے فاتح ہیں

نوراللہ جاوید

عہدہ کے حصول کےلئے قتل و غا رت، جھوٹ و فریب اور مکر کا یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔دیگر قوموں کا ذکر چھوڑئیے خود تاریخ اسلامی میں سیکڑوں واقعات مل جائیں گے جہاں عہدہ کی خاطر ہزاروں انسان کے خون نہ بہے ہوں۔ دنیا داروںنے نہیں بلکہ زہد و تقوی کے اماموں نے بھی مکرو فریب کی وہ تاریخ رقم کی ہے جس کو پڑھ کر انسانیت شرما جائے۔اگر صرف مکرو فریب اور سازش کے ذریعہ عہدہ حاصل کرنے والوں کی تاریخ مرتب کی جائے تو ایک مکمل کتب تیار ہوجائے گا۔

گزشتہ چار مہینوں میں امارت شرعیہ پھلواری شریف کے امیر شریعت کے عہدہ کےلئے جس طریقے کی مہم اور بیان بازیوں کا سلسلہ چل رہا تھا وہ اب اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔امارت شرعیہ کو محترم انجینئر فیصل رحمانی کی شکل میں نیا امیر شریعت مل گیا ہے ۔چوں کہ محترم انجینئر رحمانی کی ذات اقدس سے نہ میں واقف ہوں اور نہ ان سے ملاقات کی شرف یابی ہوئی ہے اس لئے ان کی ذات سے متعلق کچھ بھی نہیں لکھ سکتا ہے۔وہ عظیم خانوادے کے فرزند ہیں ، انہیں مولانا محمد علی مونگیری، مولانا منت اللہ رحمانی جیسی صاحب علم وکمال کی نسبت حاصل ہے۔میرے خیال سے اسی نسبت کی بنیاد پر امارت کے ارباب و حل عقد (مجھے نہیں معلوم ہے ارباب وحل عقد کے انتخاب کا معیار کیا ہے)کی اکثریت نےانہیں منتخب کیا ہے۔یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ مولانا ولی رحمانی ؒ کے انتقال سے قبل محترم انجینئر فیصل رحمانی کی سماجی و ملی خدمات ہمارے سامنے نہیں رہے ہیں اور نہ وہ منظر عام پر تھے۔مستقبل میں کیا ہو گا ؟ اور امارت ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی یا پھر امارت چند اوباشوں کا اڈہ بن جائے گا اس سے متعلق میں پیش گوئی کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔

گزشتہ چار مہینوں میں اذیب و کرب کے جس دور سے میں گزرا ہوں اس کو میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا ہے۔میں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ امارت شرعیہ پھلواری شریف جو ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد ؒ کے خوابوںاور اخلاص کا تاج محل ہے سے متعلق کچھ بھی نہیں لکھوں گا ۔کیوں کہ لوگ آتے رہیں گے اور جاتے رہیں گے امارت شریعہ کو باقی رہنا ہے اس لئے میں اپنے کسی عمل سے امارت کو نقصان نہیں پہنچاسکتا ہوں۔مگر میری اذیت کی وجہ یہ تھی کہ گزشتہ چار مہینوں میں کوئی بھی ایک دن ایسا نہیں گزرا ہے کہ جس میں میرے میل بکس میں امارت شرعیہ کے امیر شریعت کے انتخاب سے متعلق نصف درجن میل نہیں آئے ہوں۔ایک ہی مضمون کو مختلف میل آئی ڈی سے بھیجے جاتے تھے۔اس میل میںا ستعمال ہونے والی زبانیں اور گالی گلوج کو نقل کرنے کا مجھے یارا نہیں ہے۔مجھے نہیں معلوم ہے کہ ان کے لکھنے والے کون تھے اوراس کے پیچھے کس گروپ کے آئی ٹی سیل کا ہاتھ تھا۔

میں چالیس سال کا ہوچکا ہے اور گزشتہ 15سالوں سے صحافت سے وابستہ ہوں،اس لئے صحافت کی وجہ سے ہی امارت شرعیہ کے ذمہ داروں سے ملاقات اور ان کی خبریں بنانے کےکئی مواقع ملے ہیں اور کبھی کبھی طویل ملاقاتیں بھی رہی ہیں ۔بطورا میرشریعت مولانا سید محمد نظام الدین کی شخصیت سے سب سے زیادہ میںمتاثر ہوا ہوں۔ان کی بے اعتنائی، امارت شرعیہ کی ترقی کےلئے ان کی فکر و للہیت کا میں گرویدہ رہا ہوں ۔امیرشریعت مولانا محمد ولی رحمانی ؒ سے بھی ملاقاتیں رہی ہیں مگر میںا ن کے جاہ وجلال کی وجہ سے نہ ان کی قربت حاصل کرسکا اور نہ میں ان کی عظمت سے متاثرہوسکا۔ ممکن ہے یہ میری بد نصیبی رہی ہو۔وہ اب اس دنیا کے مکین نہیں ہیں اس لئے ان کی شخصیت پر گفتگو مناسب نہیں ہے۔تاہم امارت شرعیہ پھلواری شریف کی تاریخ کی عظمت کا سب سے اہم پہلویہ تھا کہ امارت شرعیہ کے ’’مورثی قبضے‘‘ سے اب تک پاک رہا ہے ۔ اس کے منتخب ہونے والے امرا شریعت نے کبھی کبھی امارت کو اپنے ذات اور خاندانی دبدبہ کےلئے استعمال نہیں کیا۔ ’’رحمانی خاندان‘‘ کو چھوڑ دیا جائے تو کسی بھی امیر شریعت کے صاحبزدگان امارت کے عہدیدار نہیں بنے۔خود حضرت مولانا منت رحمانی کے انتقال کے بعد دو امیر شریعت منتخب ہوئے اس کے بعد مولانا ولی رحمانی امریعت شریعت سابع منتخب ہوئے۔مگر اس وقت جس انداز سے انجینئر فیصل رحمانی کے حامیوں نے مہم چلائی اورانہیں امیرشریعت منتخب کرانے میں کامیابی حاصل کی ۔ اس کی وجہ سے امارت شرعیہ کی عظمت کا یہ پہلو ہمیشہ ہمیش کےلئے ختم ہوگیا ۔میر ی دعا ہے کہ محترم انجینئر فیصل رحمانی طویل عمر پائے اور امارت کی خوب خدمت کریںمگر اب اس کے بعد خدشہ ہے کہ امارت شرعیہ بھی مخصوص خاندان کا اجارہ بن جائے گااور چاپلوسوںکی فوج فیصل رحمانی کے بعد ان کے صاحبزداے کو امیرشریعے بنوائے اور ان کے بعد ان کے صاحب زادے کو۔

امارت کے ارباب و حل عقدکی اچھل وکود سے دور ہندوستان کے دوسرے شہروں میں آباد مجھ جیسے لوگوں کو امید تھی کہ محترم فیصل رحمانی تاریخ رقم کریں گے اور اپنے والد کی طرح امیرشریعت خامس کےلئے مولانا عبد الرحمن اور امیر شریعت سادس کےلئے مولانا سید محمد نظام الدین کا نام پیش کرکے امارت کو فتنوں سے محفو ظ کرلیں گے مگر ایسا نہیں ہوسکا ۔وہ اپنے چاپلوسوں کا حصار توڑنے میں ناکام رہے اور ان کی منشا کے مطابق امیرشریعت منتخب ہوگئے۔

انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا نفس اور چاپلوسوں کی فوج ہوتی ہے جس سے وہ گھرا ہوتا ہے۔اب دیکھنا ہوگا کہ’’ جہاں دیدہ شخصیت ‘‘چاپلوسوں کا حصار توڑ کر امارت کو بہار، اڑیسہ اور جھار کھنڈ کے عوام کی امنگوں کا مرکز بنائیں گے یا پھر چاپلوسوں کے ہاتھوں کھیلتے رہیں گے۔میرے خیال سے فیصل رحمانی کےلئے یہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔اگر وہ اس چیلنج کو پورا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر انہیں تاریخ اچھے ناموں سے یاد رکھے گی ورنہ وہ تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن جائیںگے۔

صبح سے ہی امیرشریعت کے انتخاب کے انتظامات اور پولس فورسیس کی تعیناتی کی جو تصویریں سوشل میڈیا پر گردش کررہی تھیں وہ بہت ہی تکلیف دہ تھا۔کسی لمحے میں یہ نہیں لگ رہا تھا کہ کسی دینی ادارے کے ذمہ دار کا انتخاب ہورہاہے ۔ان حالات میں اگر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنا نام واپس لیا اور یہ موقف اختیارکیا کہ وہ کسی بھی ووٹنگ کا حصہ نہیں بنیں گے تو درصل آج کی محفل کے وہی فاتح ہیں۔کیوں کہ تاریخ میں صرف فاتح کو نہیں بلکہ ان مفتوحوں کو بھی یاد رکھاجاتا ہے جو اصول وا اقدار کی خاطر اپنے نفس اور ذات کی قربانی پیش کردیتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین