پولینڈ: تالے میں جکڑے ’ویمپائر‘ بچے کی باقیات دریافت

سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ قرون وسطیٰ کے لوگوں کو یہ شاید خدشہ تھا کہ یہ مردہ بچہ ’ویمپائر‘ کے روپ میں دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔

0
49
فائل فوٹو: نامعلوم تاریخ کی اس تصویر میں پولینڈ کے ایک قبرستان کی ایک قبر کو دکھایا گیا ہے جس کے بارے میں ماہر آثار قدیمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایک ویمپائر بچے کی قبر ہے(لوکاش چیزیوسکی)

ماہرین آثار قدیمہ نے 17 ویں صدی کے ایک بچے کی غیر معمولی باقیات کا پتہ لگایا ہے جس کو پاؤں میں تالا لگا کر دفن کیا گیا تھا۔

سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ قرون وسطیٰ کے لوگوں کو یہ شاید خدشہ تھا کہ یہ مردہ بچہ ’ویمپائر‘ کے روپ میں دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔

نکولس کوپرنیکس یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈیریوس پولینسکی سمیت محققین نے پولینڈ کے خطے ڈابرووا چیلمینسکا کے قریب قرون وسطیٰ کے دور کے قبرستان میں قبروں کی کھوج کی اور کھدائی کے دوران یہ تدفین کا یہ منفرد انداز دریافت کیا۔

انہوں نے گذشتہ سال قرون وسطیٰ دور کی ایک نوجوان خاتون کی عجیب و غریب تدفین بھی دریافت کی جس کے جسم کو ’قبر سے نہ نکلنے دینے‘ کے لیے حفاظت کے دہرے انتظام کیے گئے تھے اور اس مقصد کے لیے اس کے بائیں پاؤں کے انگوٹھے پر ایک تکونی شکل کا تالہ لگایا گیا تھا اور ایک درانتی کو لاش کی گردن کے ارد گرد رکھا گیا تھا۔

آس پاس اسی طرح کی دیگر قبروں کی تلاش میں ماہرین آثار قدیمہ نے اب 17ویں صدی کے ایک پانچ سے سات سال کی عمر کے بچے غیر معمولی تدفین کا انکشاف کیا ہے۔

بچے کے چہرے کو نیچے زمین کی طرف دفنایا گیا تھا جس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ لاش اور موت کے بعد اس کی ’سرگرمی‘ سے خوف زدہ تھے۔

سائنس دانوں نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ اس طرح کی تدفین، جن میں چہرے نیچے کی جانب ہوتے ہیں، ممکنہ طور پر قرون وسطیٰ کے زمانے میں لاش کو زمین میں ’گاڑنے‘ کے لیے کیا جاتا تھا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ’لوگوں کے لیے خطرہ‘ نہ ثابت ہو سکیں۔

ماہرین آثار قدیمہ نے بچے کی ہڈیوں کے نیچے ایک تکونی تالہ بھی دریافت کیا جو کہ قرون وسطیٰ کی خاتون کی باقیات کے ساتھ لگ بھگ اسی جگہ پر لگایا گیا تھا۔ خاتون کی باقیات بھی گذشتہ سال اس مقام پر دریافت کی گئی تھی۔

ایک تجزیے میں بتایا گیا کہ ممکنہ طور پر بچے کی قبر کشائی بھی کی گئی تھی اور لاش کا ایک حصہ غائب کیا گیا تھا لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ کب اور کیوں ہوا یا باقیات کے ساتھ کیا کیا گیا۔

محققین نے بچے کی قبر کے قریب کئی بچوں کے ڈھانچوں کا ایک ’حیران کن ڈھیر‘ بھی دریافت کیا جن میں سے کے جبڑے کو سبز رنگ کیا گیا تھا۔

سائنس دانوں نے بتایا کہ گذشتہ سال دریافت ہونے والی خاتون کے تالو (منہ کا اوپری حصے) پر بھی اسی طرح کی سبز رنگت دیکھی گئی تھی۔

محققین کو شبہ ہے کہ ان خاتون کے منہ میں شاید تانبے کے مرکب سے بنی کوئی چیز رکھی گئی تھی۔

فیلڈ ریسرچ کے دوران انہیں ایک حاملہ خاتون کی غیر معمولی تدفین کا بھی پتہ چلا جس میں اس کے غیر نوزائیدہ بچے کی باقیات بظاہر محفوظ تھیں۔

سائنس دانوں کو امید ہے کہ مزید لیبارٹری ٹیسٹس سے باقیات کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے جائیں گے تاکہ خاتون کی آنکھوں کے رنگ، جلد، بالوں اور ممکنہ جینیاتی امراض کو سمجھا جا سکے گا۔

اس مقام پر قرون وسطیٰ کے عجیب و غریب طریقوں کے آثار کے ساتھ غیر معمولی قبروں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے سائنس دانوں کو شبہ ہے کہ اس وقت کے لوگ کم از کم کچھ مرنے والوں افراد سے ’خوفزدہ‘ تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ ممکنہ طور پر ایک قبرستان کا حصہ تھا جس کا ممکنہ تعلق پروٹسٹنٹ فرقے سے تھا اور خاص طور پر ان لوگوں کا جن کو برادریوں نے مسترد کر دیا تھا۔