Thursday, May 30, 2024
homeخصوصی کالمترنمول کانگریس اور بی جے پی کا مشترکہ طور پر بنگال میں...

ترنمول کانگریس اور بی جے پی کا مشترکہ طور پر بنگال میں اجودھیا تخلیق کرنے کی سازش۔700برس بعد بنگال میں کمبھ میلہ کی روایت کو زندہ کرنے کے نام پر جھوٹا پروپگنڈا؍نور اللہ جاوید

آکسفورڈ یونیورسٹی سے شائع ہونے والے ایلن مورینس کے تحقیقاتی مقالے میں بد ترین تحریف 14ویں صدی کے بنگال میں ترک نژاد فوجی ظفر خان غازی کو مندر شکن ثابت کرنے کی سازش۔ ایلن مورینس نے بذات خود سامنے آکر جھوٹ کا کھولا پول وزیراعظم مودی کی مسخ حقائق کی بنیاد پر ’من کی بات‘ ۔ ممتا بنرجی کی پارٹی کے قائدین بھی پروپیگنڈے سے متاثر

تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا، حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اور جھوٹ اور فریب کے ذریعہ لوگوں کو گمراہ کرنا بھگوائیوں کا پرانا شیوہ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہندو تہذیب کے احیا اور ماضی کی عظمت رفتہ کی بحالی کے نام پر ہندوتوا کے حامیوں کی مہم میں تیزی آئی ہے۔ مسلمانوں کی تاریخی عمارتوں و عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کے دو بڑے مقاصد ہیں، پہلا ہندوؤں میں مظلومیت کی نفسیات کو پیدا کرنا اور نام نہاد عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے جوش دلانا اور دوسرا، مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں کو ہندو دشمن ثابت کرنا ہے۔ ایودھیا، گیان واپی، متھرا اور دیگر کئی تاریخی مسلم عمارتیں ہیں جنہیں متنازع بنا دیا گیا ہے۔ ہر جگہ تاریخی واقعات میں تحریف اور توڑ مروڑ کا جھوٹا پروپیگنڈا کار فرما ہے۔ بیشتر مواقع پر ہندوتوا حامیوں کو تاریخی حقائق کے ساتھ چھیڑ خانی اور جھوٹ کی ملمع سازی میں کامیابی مل جاتی ہے اور کبھی یہ داو الٹا بھی پڑ جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال مغربی بنگال کے ضلع ہگلی کے تروینی میں کمبھ ملیہ کی روایات کو زندہ کرنے کے لیے ایک تحقیقی مقالے میں من مانی تحریف کے ذریعہ جھوٹ کی تشہیر کا بر وقت بے نقاب ہو جانا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے بنگال میں رام مندر تحریک کے طرز پر ہندوؤں کو متحد کرنے کے لیے ایک جھوٹ گڑھا جارہا ہے کہ ضلع ہگلی کے تروینی میں 700 سال قبل کمبھ میلہ منعقد ہوتا تھا مگر ‘مسلمان حملہ آوروں’ کی وجہ سے یہ بند ہوگیا جو آج تک بند ہے۔ اس دعوے کے ثبوت میں جرمن منصف ایلن مورینیس کے تحقیقاتی مقالے کے صفحات میں جسے آکسفورڈ یونیورسٹی نے شائع کیا ہے، تحریف کرکے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ آکسفورڈ سے شائع ہونے والے تحقیقاتی مقالے میں اس کا ذکر موجود ہے، اسی کو بنیاد بنا کر بنگلہ اور دیگر زبانوں میں کتابچے شائع کیے گئے اور اسی بنیاد پر بنگال کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس بھی اس کمبھ میلہ کے انعقاد کا حصہ بن گئی اور اس کا سہرا اپنے سر لینے لگی مگر مغربی بنگال کے مشہور صحافی سنیگدھیندو بھٹاچاریہ نے، جو کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں، artical-14.com میں ایک رپورٹ شائع کرکے اس حقیقت کا انکشاف کیا کہ جس تحقیقاتی مقالہ کا حوالہ دیا جا رہا ہے اور جو صفحات شیئر کیے جا رہے ہیں وہ آکسفورڈ یونیورسٹی ڈیجٹل لائبریری پر موجود کتاب سے مطابقت نہیں ر کھتے۔ سنیگدھیندو بھٹاچاریہ کی اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد ایلن مورینس کے علم میں بھی یہ بات آئی کہ ان کی کتاب میں تحریف کرکے جھوٹ کی تشہیر کی جا رہی ہے،چنانچہ انہوں نے خود سامنے آکر ہندوتوا حامیوں کے پروپیگنڈے کی ہوا نکال دی۔ اس پروپیگنڈے کی زد میں وزیر اعظم مودی بھی آگئے چنانچہ انہوں نے تحریف شدہ مواد کو ہی بنیاد بنا کر اپنے ماہانہ ریڈیو ٹاک شو ’’من کی بات‘‘ میں کمبھ میلے کے انعقاد کے لیے خصوصی انداز میں مبارک باد پیش کی اور کچھ تاریخی دعوے بھی کیے اور کہا کہ ’’دوستو! اس مہینے مغربی بنگال کے ضلع ہگلی کے بانسبڑیا میں ٹریبینی کمبھ مہتسو شروع کیا گیا ہے۔ آٹھ لاکھ سے زیادہ عقیدت مندوں نے اس میں شرکت کی۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ اتنا خاص کیوں ہے؟ اس لیے کہ یہ 700 سال بعد دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے، بدقسمتی سے اس تہوار کو 700 سال پہلے روک دیا گیا تھا۔ آزادی کے بعد ہی اس کی شروعات کر دینی چاہیے تھی۔ امریکہ میں مقیم بنگالی نژاد کنچن بنرجی اور ٹریبینی کمبھو پوریچالونا شومتی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ثقافتی ورثے کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے۔ مختلف تاریخی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ خطہ کبھی سنسکرت کی تعلیم اور ہندوستانی ثقافت کا مرکز تھا۔ بہت سے سنت اسے ماگھ سنکرانتی (جنوری کے وسط میں بنگالی کیلنڈر کے مہینے کا آخری دن) کمبھ اسنان (مقدس غسل) کے لیے ایک مقدس مقام سمجھتے تھے۔
وزیر اعظم مودی نے اپنے ریڈیو ٹاک میں دو بڑے دعوے کیے ہیں کہ تروینی میں 700 سال قبل ہرسال کمبھ میلے کا انعقاد ہوتا تھا، دوسرا یہ کہ یہ علاقہ ہندوستانی تہذیب وثقافت اور سنسکرت تعلیم کا مرکز تھا مگر 700سال قبل اس کو بند کردیا گیا‘‘ اگرچہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں اس کی وضاحت نہیں کی کہ 700سال قبل میلہ کیوں بند ہوگیا اور اس کے لیے ذمہ دار کون تھے، تاہم ہندوتوا تنظیموں اور کمبھ میلہ کے احیا کی کوششوں میں مصروف ہندوتوا حامیوں کی جانب سے اس دعوے کے ثبوت میں جو تاریخی کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس کا ملبہ وہ مسلمانوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، یعنی یہ کہ مسلم حملہ آوروں نے 700سال قبل کمبھ میلہ کوبند کرایا۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ تروینی سے جہاں دریائے گنگا اور دریائے ہگلی کا سنگم ہوتا ہے محض چند میٹر دوری پر 13ویں صدی میں بنگال کے حکمراں ظفر خان غازی کی تعمیر کردہ مسجد اور ان کا مزار واقع ہے۔اس سے متعلق آر ایس ایس اور ہندوتوا تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد اور مزار مندروں کو منہدم کرکے تعمیر کیے گئے ہیں۔کمبھ میلہ کو بند کرانے میں بھی ظفرخان غازی کا رول رہا ہے انہی کے حملے کی وجہ سے یہ بند ہو گیا تھا۔ Reclaim Temples نامی ایک ویب سائٹ ہے جس میں بھارت میں مبینہ طور پر ایسی مسجدوں کی شناخت کی گئی ہے جو بھگوائیوں کے دعوی کے مطابق مندروں کو منہدم کرکے تعمیر کی گئی ہیں۔اس ویب سائٹ میں ظفر خان غازی کے مزار کو ایک اسلامی ڈھانچہ کے طور پر ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مندر کو تباہ کرنے کے بعد اس مزار کی تعمیر کی گئی ہے۔تروینی میں کمبھ میلہ کا انعقاد اور ظفر خان غازی کے مزار سے متعلق پہلی مرتبہ عوامی سطح پر 14 اگست 2019 کو وشوا ہندو پریشد کے کلکتہ میں منعقدہ ایک پروگرام میں بنگال بی جے پی کے ایک تجربہ کار اور آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے موہت رے نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہگلی کے تروینی میں کمبھ میلہ کی شروعات کی جاسکتی ہے کیوں کہ یہاں بھی گنگا اور ہگلی ندیوں کا سنگم ہوتا ہے اور کہا کہ ظفر خان غازی کی درگاہ اور مسجد کے آس پاس ایک مندر کی تعمیر کے لیے تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔artical-14.com میں صحافی سنیگدھیندو بھٹاچاریہ نے کئی حقائق کا انکشاف کرتے ہوئے لکھا کہ وشوا ہندو پریشد کی اسی تقریب کے بعد بنگال میں تروینی میں کمبھ میلہ کی کوششیں تیز ہو گئیں اور ترنمول کانگریس کے لیڈر بھی اس مہم کا حصہ بن گئے۔ بانسبڑیا میونسپلٹی کے چیرمین کی مدد سے گزشتہ دو سالوں سے میلہ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔تاہم بات اتنی سادہ نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ کن بنیادوں پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 700 سال قبل یہاں پر کمبھ میلہ کا انعقاد ہوتا تھا؟
700 سال قبل کمبھ میلہ کے انعقاد سے متعلق جتنی بھی تحریریں ہیں سبھوں کا مآخذ جرمن نژاد مصنف ایلن مورینیس کا تحقیقاتی مقالہ جسے 1979 میں لکھا گیا اور اس کو آکسفورڈ یونیورسٹی نے شائع کیا۔ اس سال فروری میں ہندوتوا تنظیموں نے جو پریس کانفرنس کی اس میں بھی جرمن نژاد مصنف کے تحقیقاتی مقالہ کا حوالہ دیا گیا جبکہ کئی ہندو مصنفین نے بنگال کی تاریخ مرتب کی ہے۔ ان میں راکھل بنرجی کی دو جلدوں پر مشتمل بنگال کی تاریخ، جدو ناتھ سرکار کی ’’دی ہسٹری آف بنگال: مسلم پیرئیڈ‘‘ 1200 سے 1757 (جلد دوم) اور بنوئے گھوش کی ’’بنگار سنسکرت‘‘ شامل ہے، مگر حیرت ہے کہ مذکورہ کتابوں میں سے کسی میں بھی کمبھ میلہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔مورینس کا مقالہ 470 صفحات پر مشتمل ہے۔ ہندو تنظیموں نے اس کتاب کا صفحہ 70 شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’’گنگا ساگر کے علاوہ صرف تروینی جو ضلع ہگلی کے بانسبیڑیا قصبے میں واقع ہے، کبھی سنسکرت کی تعلیم کا ایک بڑا مرکز تھا، لیکن اب زوال پذیر ہے۔ موجودہ وقت میں تروینی کی اصل کشش دریائے گنگا ہے، جیسا کہ اس کے سالانہ تہوار کیلنڈر میں جھلکتا ہے جو ہر سال سنکرانتی کے نام سے منایا جاتا تھا مگر 1319 کے بعد سے یہ سلسلہ ختم ہوگیا‘‘۔ سنیگدھیندو بھٹاچاریہ لکھتے ہیں کہ جب انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کی اصل ویب سائٹ پر جاکر اصل مقالہ کا مطالعہ کیا تو وہ حیران رہ گئے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر موجود مورینیس کے مقالے میں کہیں بھی تروینی کا ذکر ہے اور نہ سال 1319ء کا ذکر ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جرمن نژاد مصنف کی کتاب میں بد دیانتی کے ساتھ تحریف کی گئی ہے۔ سنیگدھیندو بھٹاچاریہ کی رپورٹ شائع ہونے کے چند دن بعد جرمن مصنف ایلن مورینس خود سامنے آئے اور انہوں نے انگریزی اخبار ’’دی ٹیلی گراف میں ’’زہریلا ایجنڈا‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھ کر ہندوتوا پروپیگنڈہ بازو کے بدنما چہرے کو نمایاں کر دیا۔ انہوں نے صاف انکار کیا کہ ان کے تحقیقی مقالہ Pilgrimange in Hindu Tradition :A Case Study of West Bengal میں تروینی میں کمبھ ملیہ کا کوئی ذکر ہے۔اپنے مضمون میں انہوں اس مقام کی توضیح کی ہے جہاں پر تحریف اور اضافہ کیا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’میں نے لکھا تھا کہ شمسی منتقلی کا ہر دور (سنکرانتی) گنگا میں نہانے کے لیے اچھا سمجھا جاتا تھا۔ لفظ ’اچھا‘ بریکٹ میں لکھا ہوا تھا۔ جعل سازوں نے میرے اس جملے کو ہٹا دیا اور لکھ دیا کمبھ میلہ کا انعقاد ہوتا تھا۔ میرے جملے اور ان کے جملے دونوں میں کل 29 حرف ہیں۔اگر مجھے لکھنا ہوتا تو ماضی کا لفظ قطعی طور پر لکھ دیتا۔ ایلن نے کہا کہ جعل سازوں نے کمال مہارت سے وہی فونٹ کا استعمال کیا ہے جو میری کتاب میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ آسان کام نہیں تھا کیوں کہ کتاب الکٹرانک ٹائپ رائٹر پر ٹائپ کی گئی ہے۔

ایلن مورینس اپنے مضمون میں اس سوال کا جواب دیا کہ اس تحریف کا مقصد کیا ہے؟ وہ لکھتے ہیں کہ ’’اس کی وجہ ظاہر ہے کہ آج تریوینی میں سب سے نمایاں 14 ویں صدی کے رہنما غازی ظفر خان کا مزار ہے جنہوں نے اس خطے میں مسلمانوں کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ مندر میں ہندو نقش نگاری کے ساتھ عمارت سازی کے مواد کی موجودگی کچھ لوگوں کے لیے یہ دعوی کرنے کا باعث بنی کہ یہ درگاہ ایک ہندو مندر کے مقام پر تعمیر کی گئی ہے جبکہ اس حقیقت کو نظر انداز کردیا گیا ہے کہ بدھ مت اور جین کی تصاویر والے پتھر بھی اس درگاہ میں موجود ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان جعل سازوں کا ایجنڈا نہ صرف اس مزار کو منہدم کرنا ہے بلکہ یہ بیانیہ بھی مرتب کرنا ہے کہ یہ درگاہ یہاں پر ایک بڑے مندر کو منہدم کرکے تعمیر کی گئی ہے تاکہ اس بیانیہ کی بنیاد پر تحریک شروع کی جا سکے۔

ایلن مورینس لکھتے ہیں کہ اسی سال مارچ میں انہیں ’’سناتن سنسکرتی سنسد‘‘ کی طرف سے 2024 میں منعقد ہونے والے ایک پروگرام میں مہمان اعزازی کے طور پر مدعو کیا گیا۔ اس دعوت نامہ میں لکھا گیا تھا کہ ’ہم بنگال کے ہندو آپ کے احسان مند ہیں کہ آپ نے اس حقیقت کو پیش کیا کہ مغل بادشاہ جعفر شاہ نے بنگال پر حملہ کرکے تروینی میں کمبھ میلہ پر پابندی عائد کر دی تھی۔یہ گزشتہ 704سال سے بند ہے۔ میں نے دعوت نامہ کو پڑھنے کے بعد محسوس کیا کہ یہ پروگرام مذہبی سیاست پر مبنی ہے، مجھے تشویش ہوئی کہ میری تحقیق میں اس سے متعلق کہاں لکھا گیا ہے اور مجھے اس کا علم تک نہیں ہے۔ چنانچہ میں نے اس پروگرام میں شرکت کی دعوت رد کردی۔ حقیقت میں اس دعوے کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے تحقیقی مقالے میں جسے وہ میرے نام سے پھیلا رہے ہیں کہیں بھی تروینی کمبھ میلہ سے متعلق نہیں لکھا گیا ہے۔
دراصل ہندوؤں کے پاس اس دعوے کے ثبوت میں کچھ بھی نہیں ہے کہ ظفر خان غازی کی درگاہ اور مسجد کسی مندر کو توڑ کر بنائے گئے ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کی ویب سائٹ پر واضح لفظوں میں لکھا ہوا ہے کہ ظفر خان غازی کی درگاہ اور مسجد بنگال میں سب سے قدیم مسجدوں میں سے ایک ہے۔ مسجد اور درگاہ دونوں کی تعمیر میں مختلف مذہبی وابستگیوں پر مشتمل پتھر کا استعمال کیا گیا ہے۔ آر ایس ایس اور دائیں بازو کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے نلنجن مکھوپادھیائے کہتے ہیں کہ مغربی بنگال اور کیرالا میں رام مندر-بابری مسجد کے طرز پر ہندو احیا کے لیے کہانی گڑھی جارہی ہے۔ مسجد کی درد و یوار پر ہندو اور دیگر مذاہب کے نقش و نگار کے پتھر کے استعمال کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی مندر کو منہدم کرکے یہ مسجد تعمیر کی گئی ہے، کیوں کہ اس زمانے میں خستہ حال ڈھانچے کا نئی تعمیر میں استعمال کرنے کا رواج تھا۔ نلنجن مکھوپادھیائے نے 2021 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب The Demolation and The verdict Ayodhya and The Project to Reconfigure India میں بابری مسجد کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے متعلق لکھا ہے کہ مذہبی نشانات والے پتھروں کی موجودگی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر کے لیے مندر کو توڑا گیا ہے۔ مکھو پادھیائے بتاتے ہیں کہ کمبھ میلہ کے احیا کا مقصد اس کے ذریعہ مسلمانوں کو وحشی اور حملہ آور ثابت کرنا ہے۔ پہلے دائیں بازو کی جماعتیں صرف شمالی اور مغربی بھارت میں اسلامی حملوں کے بارے میں بات کرتی تھیں لیکن حالیہ پیش رفتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اب مشرقی اور جنوبی ہند میں بھی اس ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ 2022 میں جب پہلی مرتبہ کمبھ میلہ کا انعقاد کیا جا رہا تھا تو اس وقت اس میلے کو ظفر خان غازی سے نہیں جوڑا گیا مگر اس کے ایک سال بعد 2023 میں تروینی کمبھ میلہ کو ظفر خان غازی سے جوڑ دیا گیا۔

دو سال قبل کیرالا کے ضلع ملاپورم میں تھروناوایا مگھماکا مہوتسو کو منعقد کرنے کی یہ کہہ کر کوشش کی گئی کہ 1776 تک اس میلہ کا انعقاد ہوتا تھا مگر ’مسلم حملہ آوروں‘ کی وجہ سے یہ سلسلہ بند ہوگیا اس لیے اس کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے، مگر کیرالا کی بائیں بازو کی حکومت نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ کیرالا اور بنگال دونوں ریاستوں میں غیر بی جے پی حکومت ہے اگرچہ کہ دونوں کے نظریات میں فرق ہے۔ کیرالا میں حکمراں جماعت سیکولر اور لبرل نظریہ کے تئیں زیادہ پابند عہد ہے۔ دوسری طرف بنگال کی حکمراں جماعت بھی سیکولر روایات و اقدار کے حامی ہونے کا دعویٰ تو کرتی ہے مگر وہ گزشتہ کئی سالوں سے نرم ہندوتوا کی راہ پر چل کر بی جے پی کو شکست دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ بنگال میں کمبھ میلہ کی روایت کو زندہ کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والے بنگالی نژاد کنچن بنرجی جن کی مدح سرائی خود وزیر اعظم مودی نے کی ہے اور دیگر تنظیموں کے لیڈروں کے علاوہ ترنمول کانگریس کے لیڈران شامل ہیں۔ کمبھ میلہ کے لیے فنڈز لے کر سہولتیں فراہم کرنے میں ترنمول کانگریس کی قیادت والی بانسبڑیا میونسلٹی اور ترنمول کانگریس کے مقامی ممبر اسمبلی شامل ہیں، مگرگزشتہ دو سالوں سے ہونے والے اس میلہ میں ثقافتی اور دیگر تشہیری مہم آر ایس ایس کے لوگ چلا رہے ہیں۔ایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ ترنمول کانگریس اور آر ایس ایس کے درمیان رشتہ کیا ہے؟ کیا ممتا بنرجی تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کرپیش کرنے کا نوٹس لیں گی بھی؟۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین