’’ہمیں سزا صرف اس لیے دی جا رہی ہے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ بغیر کسی گناہ کے جیل میں بند عتیق الرحمن کی اہلیہ سنجیدہ رحمان کا درد۔۔۔۔۔۔۔ہٹلر اور مسولینی کا حشر ہوا ہے تواس اس کے بھارتی ورژن کا بھی بھیانک حشر ہوگا

0
56

7اکتوبر
(انصاف نیوز آن لائن)

میرے بچے پوچھتے رہتے ہیں کہ ان کے والد کہاں ہیں؟ میں انہیں کیا بتاؤں؟قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والے یہ سوالات گزشتہ ایک سال سے جیل میںبند عتیق الرحمن کی اہلیہ کے ہیں ۔ عتیق الرحمن اور چار دیگر افراد کے ساتھ گزشتہ ایک سال سے جیل میں ایسے جرم میں بند ہیں جس کا سرزد ہوا ہی نہیں ۔
عتیق الرحمن اور کیرالہ کےصحافی محمد صدیق کپن ،کیمپس فرنٹ آف انڈیا (سی ایف آئی) کے رہنما رحمان ، رؤف شریف اور مسعود احمد اور ان کے ڈرائیور عالمکی گرفتاری کے ایک سال مکمل ہونےپر پریس کلپ آف انڈیا میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ان پانچوں افراد کو 5 اکتوبر 2020 کو اترپردیش کے ہاتھرس جہاں ایک دلت بچی کے ساتھ عصمت دری کے بعد جلاد یا گیا تھا جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔یہ پانچوں افرادمتاثر خاندان سے ملاقات کےلئے جارہے تھے۔

اتر پردیش پولیس نے ان پانچوں کے خلاف غداری ، اکسانے کے الزامات اور مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں (روک تھام) ایکٹ کے تحت دہشت گردی کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کے الزام میںگرفتار کرکرلیا اور ان پانچوں کے خلاف منی لانڈرنگ کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔؎ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ریاست میں فرقہ وارانہ انتشار پھیلانے کی سازش کر رہے ہیں۔

بھرائی ہوئی آواز میںسنجیدہ رحمان نے اپنے شوہر عتیق الرحمٰن کی گرفتاری کے بعد مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دل کے مریض ہیں۔اگر ان کے ساتھ کچھ بھی ہوا تو اترپردیش کی حکومت ذمہ دار ہوگی۔ وہ صرف یہ چاہتی ہیںکہ انہیں جلد از جلد رہا کیا جائے اور ایمس لے جایا جائے تاکہ سرجری وقت پر ہو سکے۔

سنجیدہ نے کہا کہ میں نہیں چاہتی ہوں کہ ایک اور فادر سٹین سوامی کی کہانی لکھی جائے۔ میرے چھوٹے بچے مجھ سے پوچھتے ہیں ’’پاپا (باپ) کہاں ہیں‘‘؟ میں کیا جواب دوں؟ “۔سنجید ہ نے کہا کہ گرفتاری کے وقت رحمان کی آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں نسوں کا علاج چل رہا تھا ۔گزشتہ ہفتے اتر پردیش کے ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات کے حکم کے باوجود رحمان کو ابھی ایمس منتقل نہیں کیا گیا۔یہ کیسا انصاف ہے؟ یہ سزا کس لیے ہے؟ صرف اس لیے کہ ہم مسلمان ہیں ، اور انہوںنے دوسروں کے حقوق کے لیے جدو جہدکی۔
دہلی میں مقیم عالم کی اہلیہ بشریٰ نے اپنی تکلیف کی داستان بیان کی۔ ان کے شوہر میرٹھ کی چوہدری چرن سنگھ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔انہیں پھنسایا گیا ہے ۔وہ کسی سیاسی شخص کو نہیں جانتا۔ میں صرف اس کی رہائی چاہتا ہوں ۔
ملک کے باشعور شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ایل ہنومنتھیا نےکہا کہ ہر باشعور ہندوستانیوں کا فرض ہے کہ بے قصور جیل وں بند نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔باشعور ہندوستانیوں کو اب بولنا چاہیے اور خاموش نہیں رہنا چاہیے کیونکہ وہ انتظامیہ سے خوفزدہ ہیں۔ اگر سمجھدار شہری اور نام نہاد دانشور منہ نہیں کھولتے تو ہم جمہوریت میں نہیں رہیں گے۔ ہم ایک فاشسٹ ملک بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن قوانین کو ختم کرنا چاہیے ان کا موجودہ حکومت حب الوطنی کے نام پر بڑے پیمانے پر غلط استعمال کر رہی ہے۔ عتیق الرحمن ، صدیق عالم کپن اور مسعود انصاف کی تلاش میں نکلے اور پھر جیل بند کردئیے گئے۔ وہ جیل میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ شہری انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر جواب کیوں نہیں دے رہے؟ انہوں نے مزید کہاکہ (عصمت دری اور قتل) متاثرہ خاندان اب بھی امن سے نہیں رہ سکتا۔ ان کی حفاظت نیم فوجی دستے کرتے ہیں جو ان کے ساتھ دکان تک بھی جاتے ہیں۔ انہوں نے شفٹ ہونے کی درخواست کی ہے کیونکہ وہ اس گاؤں میں نہیں رہ سکتے لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی سات میں سے چھ بھینسیں بیچ دی ہیں کیونکہ وہ ان کے چرانے کے لیے باہر نکلنے سے بھی قاصر ہیں۔کیوں کہ متاثرہ خاندان دلت ہیں اور ملزمین کا تعلق زمیندار ٹھاکر برادری سے ہے۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہا کہ ان قوانین کو جلد از جلد ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یو اے پی اے بالکل غلط ہے۔ اس کا مکمل طور پر غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ UAPA اور اس طرح کے قوانین حکومت اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

مشہور سماجی کارکن اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروا آنند نے کہا کہ اگر بھارت میں کہیں ناانصافی ہو رہی ہے تو ہمیں مظلومین کی ہمدردی میں کھڑے ہونے کا حق ہے ، اس کے لیے آواز اٹھانا چاہیے۔ اور ہمیں اس کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کیمپس فرنٹ آف انڈیا کالعدم تنظیم نہیں ہے اور اسے سیاسی سرگرمیوں کا مکمل حق حاصل ہے۔ اور اس کے کسی بھی کارکن کو حق ہے کہ وہ آئین میں جو کچھ ہے اسے استعمال کرے۔پاپولر فرنٹ آف انڈیا اور سی ایف آئی جیسی عوامی تنظیموں پر سازش کا الزام لگانا ایک فیشن بن گیا ہے – چاہے وہ دہلی فساد ہو ، ہاتھرس قتل ہو یا آسام میں حالیہ درنگ قتل عام کا واقعہ ۔ مصائب زدہ افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر پی ایف آئی یا سی ایف آئی پر پابندی نہیں ہے تو انہیں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا پورا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تو ہرروز کسی کے مظلومین کی گرفتاری کا سالگرہ ہوتا ہے ۔

پروفیسر نندیتا نارائن نے آئین کو بچانے کے لیے مل کر جنگ لڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اگر ہم یہ جنگ پوری محنت سے لڑیں تو ہم جیت سکتے ہیں۔ اور سب سے پہلے ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ عتیق الرحمن کو رہا کیا جائے تاکہ ان کا ایمس میں علاج کیا جاسکے اور ان کے تمام ساتھی جنہیں گرفتار کیا گیا ہے انہیں بھی فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یو اے پی اے اپنے مخالفین کوختم کرنے کے لیے حکمران جماعت کے ہاتھوں میں ایک آلہ بن گیا ہے۔کیمپس فرنٹ آف انڈیا کے جنرل سکریٹری اشون صادق نے تصدیق کی کہ نوجوانوں نے جو کچھ کیا وہ سچ کی تلاش میں گئے تھے یہ کوئی جرم نہیں ہے اور اس لیے ان کے خلاف مقدمہ جھوٹا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ ہے کہ کوئی آمریت اپنے مخالفین کو جیل میں ڈال کر ہمیشہ کے لیے اقتدار میں نہیں رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ہٹلر گر گیا ، مسولینی گر گیا اور ان کا بھارتی ورژن بھی گرجائے گا۔