Wednesday, May 29, 2024
homeادب و ثقافتعالمی ادب یا عالم کا ادب

عالمی ادب یا عالم کا ادب

ناصر عباس نیئر
عالمی ادب کی اصطلاح کثرت سے استعمال ہوتی ہے، مگر یہ کم ہی غور کیا جاتا ہے کہ عالمی ادب ہے کیا؟ کیا اس عالم کی سب (سات ہزار سے زائد) زبانوں کا پورا یا منتخب ادب عالمی کہلاتا ہے یا منتخب زبانوں کا ادب؟ کیا دنیا میں کوئی شخص ہے جو یہ دعویٰ کرے کہ اس نے دنیا کی سب زبانوں کا ادب پڑھا ہے، اسے سمجھا ہے، اس کی تحسین کی صلاحیت حاصل کی ہےاور پھر وہ ان سب زبانوں کے “ادبوں” کی کسی مشترکہ روح (یا شعریات) کی بابت کچھ رائے دینے کے قابل ہواہے؟

اگر ایسا نہیں تو جسے عالمی ادب کہا جاتا ہے، وہ عالم کی منتخب زبانوں کا ادب ہے۔ اگلا سوال یہ ہے کہ کن زبانوں، کن ملکوں، قوموں کا ادب عالمی کہلاتا ہے؟ کون عالمی ادب کی فہرست تیار کرتا ہے؟ عالمی ادب کے معیارات، کینن کیا ہیں اور انھیں کو ن طے کرتا ہے؟ معیارات طے کرنے کا حق یا جواز اسے کہاں سے حاصل ہوتا ہے؟ نیز خود عالمی ادب کی اصطلاح، کب اور کیوں استعمال ہونا شروع ہوئی؟ ان سوالوں کو پیش نظر یا پس منظر میں رکھے بغیر عالمی ادب سے متعلق کوئی رائے کیسے بامعنی ہوسکتی ہے؟

پہلی بات یہ ہے کہ عالمی ادب، ایک تصور (idea) ہے۔ عالمی ادب کا “تصور” تین ستونوں پر کھڑا ہے۔ پہلا پرشکوہ ستون، ایمپائر ہے۔ ایمپائر میں عظمت ہے، وسعت ہے اور بعید ترین خطوں پر سیاسی و ثقافتی حکمرانی شامل ہے۔ ایمپائر اپنے سیاسی اختیار ہی کو نہیں، اپنے فنون کو بھی بعید ترین خطوں تک پہنچاتی ہے۔ وہ سیاسی ہی نہیں، ثقافتی غلبہ بھی چاہتی ہے۔

یہ اتفاق نہیں کہ ہر سلطنت کے قیام کے ساتھ، ادیب، شاعر، علما، دانش ور، صوفی، مشنری، معمار، خطاط محکوم خطوں میں پہنچتے ہیں۔ اوّ ل اوّل یہیں سے عالمیت، آفاقیت کے تصورات پیدا ہونا شروع ہوئے۔ عالمی ادب کا تصور بھی، سلطنت کے ساتھ پھیلا۔ رومن، بازنطین، چینی، عباسی، عثمانی، مغل، برطانوی، فرانسیسی، ہسپانوی، روسی سلطنتوں کو بہ طور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔

سرد جنگ کے زمانے میں امریکی ادب، تیسری دنیا میں پہنچا۔ یوں عالمی ادب کے تصور کی ابتدائی تشکیل میں ایمپائر اپنے بیش تر سیاسی، اقداری، جمالیاتی عناصر کے ساتھ شامل ہے۔ تاہم بیسویں صدی میں جس ادب کو عالمی کہا گیا، وہ ایک دوسری نوع کی ایمپائر پر منحصر ہے، اسے آ پ طاقتور ملکوں کے بڑے پبلشنگ ہاؤس کہیں، بڑے اخبارات کہیں اور بکر اور نوبیل انعام کے ادارے کہیں۔ وہ ایمپائر ہی کاکام کرتے ہیں۔ یعنی ایک طرح کے ادب کو قائم کرتے، مقبول بناتے اور دوسری طرح کے ادب کو، خارج، کرتے ہیں۔ یہ سب بہت نفیس اور پیشہ ورانہ طریقے سے ہوتا ہے۔

عالمی ادب کے تصور کا دوسرا ستون، ترجمہ ہے۔ ہومر، ورجل، شیکسپئر، ملٹن، دانتے سے کالی داس، رومی، غالب تک اور دستوفسکی، ٹالسٹائی، کافکا، بورخیس اور مارکیز، میلان کنڈیرا تک کا “عالمی سمجھا جانا” مکمل نہیں، بڑی حد تک ترجمے پر منحصر ہے۔ ایک بنیادی سوال پر غور کیجیے: کیا ان میں سے کسی بھی ادیب کو خود اس کے ہم وطن و ہم زبان، اسے “عالمی” سمجھ کر پڑھتے ہیں؟

کیا شیکسپیئر انگریزی میں، غالب اردو میں، رومی فارسی میں، دستوفسکی روسی میں، وارث شاہ پنجابی میں، شاہ لطیف سندھی میں عالمی احساس، کے تحت پڑھے جاتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کے عالمی ہونے کا احساس، بنیادی نہیں، اضافی ہے۔ ادب اپنے گھر، وطن سے باہر ہی عالمی کہلاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ”عالمی ادب” کو راست اس کی اپنی زبان میں پڑھتے ہوں مگر وہ کسی دوسرے خطے کے لوگ ہوں گے۔ مغرب کی جامعات میں عالمی ادب کے سب نصابات، ترجمے ہی کے ذریعے پڑھائے جاتے ہیں۔

عالمی ادب کے تصور کا تیسرا ستون، گوئٹے کا عالمی ادب کا تصور ہے۔ اس نے 1827ء میں، عالمی ادب کا تصور پیش کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب جرمنی میں ایک قوم کے طور پر متحد ہونے کی کوششیں جاری تھیں۔ باقاعدہ قومی جرمن ادب کے وجود میں آنے سے پہلے، گوئٹے نے عالمی ادب کا تصور پیش کیا۔ اس نے چینی، فارسی اور دوسری زبانوں کا ادب پڑھا، اور ان کے لیے اس قدر تحسین محسوس کی کہ ا س نے حافظ کی پیروی میں دیوان غربی ومشرقی لکھا۔ اس دیوان کی مدد سے اس نے عالمی ادب کی مثال پیش کی، مگر یہ بس ایک واقعہ بنا، جرمن ادب کا مستقل رجحان نہیں۔

عالمی ادب کے تصور کو جرمنی ہی کے ایک اور عظیم مفکر کارل مارکس نے آگے بڑھایا۔ اس کا مئوقف تھا بورژوازی طبقات عالمی اشیا کی خواہش کے ساتھ عالمی ادب کی خواہش بھی کریں گے۔ گویا عالمی ادب، عالمی معاشی نظام کا حصہ ہوگا۔ لوگ جب باہر کی چیزیں، کھانے، لباس پسند کریں گے تو باہر کی زبانیں، میوزک، ادب اور مصوری کی طلب بھی محسوس کریں گے۔ وہ عالمی، ہونے کی شناخت چاہیں گے۔ لہٰذا عالمی ادب کی اشاعت وترسیل و رواج کا وہی طریقہ ہے جو عالمی اشیا کا ہے۔

عالمی اشیا جس طرح ہر مقامی شے کو منڈی میں مات دیتی ہیں، اسی طرح عالمی ادب بھی مقامی ادب کو بے دخل وبے توقیر کرنے میں کوئی حرج نہیں دیکھتا۔ آپ پسند کریں نہ کریں، عالمی ادب، عالمی معاشی نظام سے وابستہ رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ انھی چند ملکوں کا ادب عالمی کہلاتا ہے، جنھیں معاشی اور اس بناپر سیاسی و ثقافتی اجارہ حاصل ہے۔ بس کبھی کبھار سیاسی و معاشی طور پر پس ماندہ ملکوں سے کسی ادیب کو عالمی مقبولیت مل جاتی ہے، مگر اس مقبولیت کا باعث عام طور پر یہی بڑے ملک، ان کے پبلشنگ ہاؤس اور دیگر ادارے ہوتے ہیں۔

نوآبادیاتی عہد میں یورپی ادب ہی کو عالمی ادب کے طور پر پیش کیا گیا۔ یورپ اپنی تہذیب اور اس کے تمام مظاہر اور صورتوں کو آفاقی کہتا تھا۔ آفاقیت انیسویں صدی کی اہم اصطلاح تھی۔ یہاں تک کہ ابتد امیں عالمی ادب کی جو انتھالوجیز شایع ہوئیں، ان میں صرف یورپی اور کسی حد تک امریکی ادب شامل کیا گیا۔

نورٹن کی 1856 کی انتھالوجی میں صرف مغربی ادب تھا۔ تاہم بعد میں، بیسویں صدی کی “عالمی ادب” کی انتھالوجیز میں افریقی، لاطینی امریکی ادب بھی شامل کیا گیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ افریقی اور لاطینی امریکی ادب نے عالمی ادب کے یورپی مرکز ہونے میں شگاف ڈالا۔ چنوا اچیبے، مارکیز، ووئیل سوئینکا، بورخیس، پابلو نردوا کو شامل کیا گیا۔ نجیب محفوظ، نوال السعدی، مویان اور غالب کو شامل کیا گیا ہے۔

بایں ہمہ مجموعی طور پر آج بھی جسے، عالمی ادب” کہا جاتا ہے، اس میں سب سے اہم عنصر “ایمپائر” ہے۔ یہ ایمپائر اب یورپ و امریکا ہے۔ عالمی ادب کی فہرست میں سب سے زیادہ یورپی وامریکی ادب ہی شامل ہوتا ہے، راست اور بالواسطہ۔ بالواسطہ سے مراد ہے، مغربی ادب کے کینن کی پابندی کرنا۔ یعنی اگر آپ فکشن، یورپ و امریکا کے کینن کے مطابق لکھتے ہیں تو فکشن ہے، ورنہ نہیں۔ گویا مغربی معیارہی عالمی ادبی معیار ہے۔ ہمارے یہاں بھی اسی خیال کی حمایت موجود ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جسے ہم عالمی ادب کہتے ہیں، وہ اپنی اصل میں عالم کا ادب ہے۔ جنھیں عالمی ادب کے نمائندے بنا کر پیش کیا جاتاہے، انھیں دیکھیں تو اپنی اصل میں مقامی، ہیں: زبان، موضوع، اسلوب، ثقافت، کرداروں، جذبات کی ترجمانی کے طریقوں کی رو سے۔ یہ درست ہے کہ ادب وآرٹ میں تخلیق جمال اور انسانی صورتِ حال کو پیش کرنا مشترکہ عناصر ہیں، مگر انھیں پیش کرنے کے اسالیب یکسر مقامی اور کئی بار شخصی ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ عالمی ادب کے نام پر پیش ہونےو الا ادب، مقامی اور قومی ادب کا مجموعہ ہوتا ہے۔

آخری بات۔ ہر زبان میں چند ہی ادیب بڑے ہوتے ہیں۔ یونانی، لاطینی، فارسی، عربی، انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، روسی، جرمن زبانوں کے بڑے ادیب چند ہی ہیں۔ اتنے ہی اردو میں بھی ہیں۔

عالمی ادب کو عالم کا ادب سمجھ کر پڑھیں تو اپنے ادب سے مقابلے کی ضرورت پیش آئے گی، نہ کسی کمتری کے احساس کا سامنا ہوگا۔ عالم کو عالم رنگ وبو کہا جاتاہے۔ یہی صورت عالم کی ہزاروں زبانوں کے ادب کی بھی ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین