Wednesday, May 29, 2024
homeاہم خبریںایران کا اسرائیل پر حملہ، ملی بھگت یا ردِعمل؟

ایران کا اسرائیل پر حملہ، ملی بھگت یا ردِعمل؟

حیدر جاوید سید

ایرانی و مغربی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز ایران نے اسرائیل پر درجنوں ڈرونز اور کروز میزائل کے ساتھ براہ راست حملہ کردیا۔ ایرانی حکام نے اس حملے کو دمشق میں اپنے سفارتی عملے کو نشانہ بنانے کا ردعمل قرار دیا ہے۔ مغربی و عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل پر ایران کے براہ راست حملے سے اسرائیل میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

غزہ کی جنگ کی وجہ سے اسرائیلی میڈیا پر پہلے سے نافذ سنسر شپ کو جنگی قوانین کے تحت مزید سخت کردیا گیا ہے اسرائیل پر ایرانی حملے کے نتیجے میں ترکیہ، شام، لبنان اور عراق نے اپنی فضائی حدود کو بند کردیا جبکہ کویت نے بین الاقوامی پروازوں کا رخ موڑ دیا ہے۔

ایرانی رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ انسانیت دشمن بدنیت صہیونی حکومت کو اس کے جرائم کی سزا دی جائے گی۔

ادھر امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرونز اور کروز میزائل حملے کو ناکام بنانے کے لئے امریکہ نے اسرائیل کی مد کی ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل میں تعلیمی سرگرمیاں پہلے ہی معطل ہیں ایرانی حملے کے بعد نہ صرف کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوا بلکہ بعض شہروں میں حکومت کے خلاف احتجاج بھی ہوا۔ دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطین میں فلسطینی مسلمان سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے ایرانی حملے کو درست قرار دیا۔

مغربی اور عرب تجزیہ نگاروں کا اس حملے کے حوالے سے ردعمل ملاجلا ہے۔ مسلم دنیا اور پاکستان میں آزاد خیالی کے دعویدار دانشور اورسوشل میڈیا مجاہدین اسرائیل پر ایرانی حملے کی مذمت میں محض پیش پیش ہی نہیں بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ امریکہ کی اجازت سے کیا گیا تاکہ ایرانی رجیم دمشق سانحہ کے بعد اپنے عوام کو مطمئن کرسکے۔

ایرانی حملے کے حوالے سے اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ایران نے 100کے قریب ڈرونز کے علاوہ درجنوں کروز اور بلیسٹک میزائل اسرائیل پر داغے جن میں سے زیادہ تر کو اسرائیلی فضائی حدود کے باہر ہی تباہ کردیا گیا۔ اسی اثناء میں اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے وزارت دفاع کے حکام کے حوالے سے یہ خبر بھی دی کہ گزشتہ روز ہی اسرائیل نے جنوبی لبنان پر بمباری کی جس کے جواب میں حزب اللہ لبنان نے اسرائیل پر میزائل حملے کئے اور حزب اللہ و ایران کے اتحادی یمنی حوثیوں نے بھی اسرائیلی مفادات پر حملے کئے۔

امریکہ اور برطانیہ نے اسرائیل پر ایرانی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی دو طاقتیں سرکاری طور پر اسرائیلی درندگی (غزہ جنگ) کی نہ صرف ہمنوا ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنے دفاع کا حق استعمال کررہا ہے۔

اسرائیل پر ایرانی حملے کے بعد ایران نے اسرائیل کے پڑوسی مسلم ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے لئے اپنی فضائی حدود کھولنے والے ملک کو دشمن سمجھ کر اسے نشانہ بنایا جائے گا۔

اسرائیل وزیر جنگ یاواگیلنٹ کا کہنا ہے کہ دشمن پر ایسا وار کریں گے کہ وہ برسوں تک سنبھل نہیں سکے گا۔

امر واقعہ یہ ہے کہ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل نے عراق، شام اور لبنان کے مفادات پر حملوں کے علاوہ عراق اور شام میں ایرانی مفادات کو بھی نشانہ بنایا۔

ہفتہ بھر قبل اسرائیلی جارحیت کے نتیجہ میں دمشق میں متعدد ایرانی سفارتکار جاں بحق ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد ایران نے اسرائیل کو جواب دینے کا اعلان کیا جس کی ابتدا گزشتہ سے پیوستہ روز آبنائے ہرمز میں اسرائیلی کمپنی کے ایک بحری جہاز کو ایرانی فورسز نے اپنی تحویل میں لئے جانے سے ہوئی بعدازاں ایران نے اسرائیل پر براہ راست حملہ کردیا۔

ایرانی حملے میں جانی و املاکی اور دفاعی تنصیبات کو رتی برابر نقصان نہ پہنچنے کے دعویدار اسرائیلی حکام نے اپنے دعوئوں کے برعکس ذرائع ابلاغ پر نافذ سنسر شپ کو جنگی قوانین کے تابع کرنے کا اعلان کردیا اس عمل سے ایک بات تو بہرطور واضح ہے کہ صورتحال ویسی ہرگز نہیں جس کا دعویٰ اسرائیلی اور اس کے ہمنوا کررہے ہیں۔

بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے گزشتہ دنوں جس ایئربیس سے دمشق میں ایرانی سفارتکاروں کو نشانہ بنایا تھا ایرانی حملے میں اس ایئربیس کو بے پناہ نقصان ہوا ہے۔

ایرانی حکام نے بھی اپنے دعوے کے حق میں چند ویڈیوز ریلیز کی ہیں۔

اسرائیل کے تقریباً 60 فیصد علاقے میں بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی ہے اسی طرح اسرائیل نے غزہ کی حدود سے اپنے جنگی طیارے بلاتاخیر نکال لئے ہیں۔

بادی النظر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ اسرائیل اور اس کے ہمنوائوں کو ایران سے ایسے شدید ردعمل کی توقع نہیں تھی۔ یہ بدقسمتی ہی ہے کہ مسلم ممالک کے سوشل میڈیا پر ایران کے اسرائیل پر حملے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر پیش کرنے کے علاوہ بعض حلقے اسے ملی بھگت کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں لیکن وہ اس سوال کا جواب دینے سے گریز کرتے ہیں کہ اسرائیل کے پڑوس عرب ممالک نے ایسی ہی ملی بھگت سے اپنے عوام کے دل کیوں نہیں جیت لئے جو غزہ جنگ میں اپنے حکمرانوں کی بے اصولی پر نوحہ کناں ہیں؟

اس امر پر دو آراء ہرگز نہیں کہ جنگ دعوت بہار نہیں بلکہ تباہی و بربادی کی ماں ہے۔ افسوس اس امر پر ہے کہ امریکہ و اتحادی جس شدت سے اسرائیل پر ایرانی حملے کی مذمت کررہے ہیں اس سے پچاس فیصد کم انداز میں انہوں نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت نہیں کی بلکہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے غزہ کی جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیل کو جدید اسلحہ و گولہ بارود اور دوسرے جنگی وسائل فراہم کرنے کے علاوہ بحری اور فضائی تحفظ دینے کے لئے بھی اقدامات کئے۔

ان حالات میں مغرب و عرب دنیا کے علاوہ دیگر خطوں سے جو ممالک اور دانشور و تجزیہ نگار ایرانی حملے کو راکھ کا ڈھیر ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں انہیں روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے اس بیان کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے کہ امریکہ اور برطانیہ تیسری عالمی جنگ کا دروازہ کھولنے سے گریز کریں۔ روسی صدر کے انتباہ کو زبانی جمع خرچ قرار دینا صریحاً غلط ہوگا۔

اسرائیل پر ایرانی حملے کے دوران ہی حمزب اللہ نے اسرائیل کے دفاعی نظام کو جس طرح نشانہ بنایا اس سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ پھیلا تو اس سے صرف اسرائیل اور پڑوسی عرب ممالک ہی متاثر نہیں ہوں گے بلکہ اس کے اثرات دور تک محسوس ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین