چین جی 20 اجلاس کے رنگ پھیکے کر سکتا ہے؟

نئی دہلی کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے درمیان جی 20 اجلاس میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کے سربراہ کی غیر موجودگی اہم ہو گی۔

0
174
A general vieآٹھ ستمبر، 2023 کو نئی دہلی میں دو روزہ جی 20 اجلاس سے قبل ’بھارت منداپم‘ کنونشن سینٹر جگمگا رہا ہے (اے ایف پی/ منی شرما)

شویتا شرما

جی 20 سربراہ اجلاس ہفتے سے نئی دہلی میں شروع ہو رہا ہے اور یہ خدشات موجود ہیں کہ شی جن پنگ کی قیادت میں چین اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انڈیا کے ساتھ حساب برابر کرنے کی کوشش کر سکتا ہے کیوں کہ چین کا انڈیا کے ساتھ سرحدی تنازع چلا آ رہا ہے۔

9 اور 10 ستمبر کو دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں جی 20 کے رہنماؤں کے سربراہ اجلاس میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اقتدار میں چلے آنے والے صدر شی جن پنگ کی پہلی بار عدم شرکت یقینی طور پر عالمی رہنماؤں کی نظروں سے اوجھل نہیں رہے گی۔

کوویڈ 19 کے وبا کے دوران بھی چینی صدر نے 2021 میں اٹلی کی میزبانی میں ہونے والے جی 20 اجلاس میں ورچوئل شرکت کی تھی کیوں کہ وہ غیر ملکی سفر سے گریز کر رہے تھے۔

چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر شی جن پنگ کی بجائے اس سال چین کے وزیر اعظم لی چیانگ جی 20 سربراہ اجلاس کو ’کامیاب بنانے کے لیے‘ چینی وفد کی قیادت کریں گے۔

شی جن پنگ نے اپنے اتحادی روسی صدر ولادی میر پوتن کے طرح وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے، اور مودی یہ ظاہر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے کہ انڈیا ابھرتی ہوئی سیاسی و جغرافیائی اور معاشی طاقت بننے کے لیے تیار ہے۔

کانفرنس میں صدر شی جن پنگ کی خلاف معمول غیر موجودگی نے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں ہلچل مچا دی ہے اور بین الاقوامی مبصرین اس حوالے سے متضاد تشریحات کر رہے ہیں۔

اگرچہ چینی صدر کی عدم شرکت کے بارے سب سے واضح تشریح سرحد کے معاملے میں کشیدہ تعلقات کے ماحول میں چین کی جانب سے انڈیا کو دبانے کی کوشش ہے لیکن یہ اس ضمن میں کی جانے والی قیاس آرائیوں میں چین کے داخلی معاشی مسائل شامل ہیں اور ان سے یوکرین جنگ کی وجہ سے مغربی اور مشرقی ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی رہنماؤں کے اہم بین الاقوامی فورم میں چینی صدر کی عدم شرکت کی وجہ سے سب سے بڑا نقصان چین کو ہو گا اور وہ زیادہ نمایاں نہیں ہو پائے گا۔

تائیوان ایشیا ایکسچینج فاؤنڈیشن کی فیلو ثنا ہاشمی نے ’دی انڈپینڈنٹ‘ کو بتایا کہ شی جن پنگ کی غیر موجودگی نے ’کثیر جہتی عمل میں شراکت دار کی حیثیت سے چین کے قابل اعتماد ہونے پر سوالات اٹھائے ہیں۔‘

’اس سے اختلافات کو طے کرنے کا ایک دروازہ بھی بند ہو جاتا ہے کیوں کہ ایسے پلیٹ فارمز پر چینی رہنماؤں سے ملاقات کرنا جہاں چین اپنی مرکزیت کو نہیں سمجھتا ہے، زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔‘

چین کے صدر شی جن پنگ نے نے رواں سال اپنی تیسری مدت صدارت کا آغاز کیا اور ماؤ زے تنگ کے بعد عالمی سیاست دان کی حیثیت سے ابھرنے اور عالمی سطح پر بیجنگ کے اثر و رسوخ میں اضافہ کرنے والے سب سے طاقتور رہنما بن گئے۔

لیکن اپنے عزم کے باوجود شی جن پنگ نے غیر ملکی دوروں میں کمی کرتے ہوئے اس سال صرف دو بار چین سے باہر گئے۔ اس کے مقابلے میں کووڈ 19 کی وبا سے پہلے انہوں نے سالانہ 14 غیر ملکی دورے کیے تھے۔

اس سال اگست میں وہ برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے جنوبی افریقہ گئے۔ جی 20 سربراہ اجلاس سے پہلے کے دنوں میں انڈیا اور چین کے درمیان بہت کچھ ہو چکا ہے۔

گذشتہ تین سال سے ہمالیہ میں سرحدی کشیدگی کے بعد برکس اجلاس کے موقعے پر اپنی پہلی علانیہ ملاقات میں مودی اور شی جن پنگ نے غیر رسمی بات چیت کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے متنازع سرحد پر ’مسائل کے تیزی سے حل اور کشیدگی میں کمی‘ لانے پر اتفاق کیا۔

لیکن بعد میں اس وقت ایک سفارتی تنازع پیدا ہو گیا جب چین نے ایک نقشہ جاری کیا جس میں کئی انڈین علاقوں سمیت بحیرہ جنوبی چین اور تائیوان کے وسیع حصے کو چین کا حصہ دکھایا گیا تھا۔ اس پر چھ دیگر ممالک نے احتجاج کیا۔

چینی صدر نے2019 میں انڈیا، چین سرحدی تنازعے سے ایک سال قبل انڈیا کا آخری دورہ کیا اور مودی سے ’غیر رسمی سربراہ ملاقات‘ کی۔

جیو پولیٹیکل ایڈوائزری فرم ’ڈریگن فلائی‘ کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی تجزیہ کار کارل جوہن کارلسٹیڈ کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے انڈیا کو ’سفارتی طور پر دبانے‘ کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔

’پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ چین ان فورمز میں اپنی موجودگی میں کمی رہا ہے جن کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ ان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا غلبہ ہے۔ اور دوسرا یہ کہ چین اب ان ممالک یا فورمز کے خلاف تخریبی کا کردار ادا کر رہا ہے جو اس کی نظر میں امریکہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’چین انڈیا اور دیگر ممالک کے لیے مسائل پیدا کرتا رہے گا۔ خاص طور پر جب وہ مغربی ممالک کی زیر قیادت فورمز، سکیورٹی شراکت داری یا ایسے منصوبوں کا حصہ بنتے ہیں جنہیں چین اپنے تزویراتی مقاصد کے منافی سمجھتا ہے۔‘

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ چین کے پاس انڈیا کی جانب سے جی 20 کی صدارت کے دوران ’خرابی پیدا کرنے والا‘ کردار ادا کرنے کا کافی موقع ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر چین آگے آنا چاہتا ہے اور خرابی پیدا کرنے والے کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو بلا شبہ یہ موقع اس کے پاس موجود ہے۔‘

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز میں تخفیف اسلحہ کے پروفیسر سورن سنگھ کہتے ہیں کہ شی جن پنگ کی موجودگی دوطرفہ تعلقات اور پلیٹ فارم دونوں کے لیے اہم تھی کیوں کہ چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ یقینی طور پر اب اس کا اثر موجود ہے۔ یہ اثر کتنا ہے؟ یہ دیکھنا باقی ہے کیوں کہ اس طرح کے کثیر جہتی اجلاسوں کو دیکھنے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ ملک مؤقف اختیار کریں۔ فیصلہ کریں کہ ان کی نمائندگی کون کرے گا۔ چین اس میں حصہ لے رہا ہے۔‘

’لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ صدر شی کی موجودگی سے نہ صرف جی 20 کی سطح پر فرق پڑتا بلکہ اس لیے بھی کہ ان تمام کثیر جہتی اجلاسوں کے موقعے پر بہت کچھ ہوتا ہے۔‘

عالمی پالیسی تھنک ٹینک ’رینڈ‘ کے سینیئر ماہر سیاسیات جوناہ بلینک کہتے ہیں: ’شی جن پنگ بھلے ہی مودی کی اہمیت گھٹانے کی کوشش کر رہے ہوں لیکن وہ ایسے شخص ہیں جو شہ سرخیوں سے باہر ہوں گے۔ جی 20 کسی بھی ایک رکن سے کہیں بڑا ہے۔‘

’شی جن پنگ کی غیر موجودگی سے انڈیا کی جی 20 صدارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ درحقیقت اس سے انڈیا کی ساکھ بہتر ہو گی۔ شی جن پنگ کی موجودگی کے بغیر وزیر اعظم مودی اپنی ترجیحات پر زیادہ توجہ مرکوز کریں گے۔‘

شی جن پنگ کی غیر موجودگی سے چین اور انڈیا کے تعلقات میں کسی بھی قسم کی بہتری کا موقع بھی ضائع ہو رہا ہے۔

سنگھ کا کہنا ہے کہ ’اس طرح کے ممکنہ دوروں سے ہمیشہ توقعات وابستہ رہتی ہیں کہ اس سے کچھ بڑے اقدامات ہوسکتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے صدر بائیڈن کے دورہ انڈیا سے بھی کچھ اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔‘

’اس لیے ہاں! دو طرفہ سطح پر یہ توقعات تھیں کہ حالات کہیں زیادہ تیزی سے تبدیل ہو سکتے تھے لیکن (اب) ان حالات کو تبدیل ہونے میں شاید زیادہ وقت لگے گا۔‘

’ان سوالات پر کہ آیا انڈیا کی صدارت کے نتائج برآمد ہوں گے تو یہ ایک جاری عمل ہے اور سربراہ اجلاس کے بعد انڈیا کے پاس صدارت کے 81 دن ہوں گے۔‘