Wednesday, May 29, 2024
homeدنیایوغرمسلمانوں پرچینی مظالم کے خلاف لندن میں ہزاروں مظاہرین کا احتجاج

یوغرمسلمانوں پرچینی مظالم کے خلاف لندن میں ہزاروں مظاہرین کا احتجاج

محمد غزالی خان

لندن: ہفتے کے روز یہاں چینی سفارتخانے کے سامنے ہزاروں مظاہرین نے یوغرمسلمانوں کے خلاف چینی بربریت کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔

ہاتھوں میں یوغرپرچم اور مختلف پیغامات والے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے مظاہرین نے یوغروں کے حق میں اورچینی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

گونتانامو بے کے سابق قیدی معظم بیگ سمیت متعدد مسلمان ایکٹوسٹس نے مظاہرین سے خطاب کیا۔ معظم بیگ نے چینی مظالم کی سنیگینی اوربربریت کے بارے میں بتایا کہ ایک یوغرمہاجرنے ان سے ایک مرتبہ کہا تھا کہ: ’آپ مغرب میں اسلاموفوبیا کی بات کرتے ہیں۔ کاش ایسا اسلاموفوبیا چین میں ہوتا۔‘

جس وقت مظاہرہ جاری تھا چینی سفارتخانے کا عملہ سفارتخانے کی کھڑکیوں کے پردوں کے پیچھے سے مظاہرین کے فوٹو لینے کی کوشش کررہا تھا جسے دیکھ کر مظاہرین نے ان کا مذاق اڑایا اوران پر طنزیہ جملے کسے۔ سفارتخانے سے عملے نے خود ہی چینی جھنڈا اتاردیا تھا۔ تاہم سفارتخانے کے باہرآسمانی رنگ کا ہلال اورستارے والا یوغرپرچم ہرطرف نظرآرہا تھا جس پر اضافی نعرہ ’اسٹینڈ فاریوغر‘ (یوغروں کے لئے اٹھ کھڑے ہوں) لکھا ہواتھا۔

مظاہرے کا اہتمام برطانیہ کی پچاس مسلم تنظیموں نے کیا تھا جسے Campaign for Uyghurs نامی تنظیم کی تائید حاصل تھی۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ 2017 سے چینی حکومت انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کررہی ہے۔

آسٹریلین پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق جولائی 2016 سے جون 2017 کے درمیان چینی حکومت نے صرف کمیپوٹرفائلیں شیئرکرنے والا سافٹ ویئر زپیا استعمال کرنے کی وجہ سے 1,869,310 یوغراوردیگر مسلمانوں کی کوڑے مارے جانے کی سزا دی ہے۔

اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق اس وقت کم از کم ایک ملین یوٖغراوردیگرلسانیتوں کے مسلمان چینی جیلوں میں بند ہیں جن کا جسمانی اورجنسی استحصال اور انہیں ذلیل کئے جانے سمیت انہیں طرح طرح کی اذیتیں پہنچائی جاتی ہیں۔


چینی سفارتخانہ

چین ان جرائم کا دفاع یہ کہہ کرکرتا ہے کہ ’انتہا پسندی‘ پرقابو پانے کے لئے اس کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے 9/11 کے بعد جس لا قانونیت کو جارج ڈبلو بش نے قانونی درجہ دے دیا تھا اس کے بعد ’انتہا پسندی‘ کو کچلنے کے بہانے مسلمانوں کو کسی بھی اختلاف کی سزا دینے کے لئے دنیا بھر کے ظالم حکمرانوں کے لئے یہ ایک بہترین ہتھیاربن چکا ہے۔ گجرات نسل کشی 2002 کے بعد جب انتہا پسند ہندوؤں سے یہ کہا گیا کہ مجرموں کو سزا دینے کے بجائے معصوموں پر کیوں مظالم ڈھائے جارہے ہیں تو انہوں نے اس کا جواب یہی دیا تھا کہ چند لوگوں کی وجہ سے پورے افغانستان کو تباہ کرنے پر کسی نے امریکہ سے یہ سوال نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین