بنگال کے وزیرفرہاد حکیم کے اسلامی دہشت گردی سے متعلق متنازع بیان پرمسلم قیادت کا خطرناک سکوت

0
50

محمد اشرف علی قاسمی کلکتہ

گزشتہ ١١/ نومبر کی شام کو شوشل میڈیا کے کسی فیس بک پیج سے یہ اطلاع ملی کہ مغربی بنگال کے وزیر ٹرانسپورٹ جناب فرہاد حکیم صاحب نے بڈھسٹوں کی ایک تقریب میں مذہب اسلام اور ہندوتوا کو پورے عالم کیلئے ایک خطرہ قرار دیتے ہوے اس بات کی ضرورت کو اجاگر کیا کہ محض بدھ ازم کی تعلیمات سے ہی پوری دنیا میں امن وسکون کی فضا قائم ہو سکتی ہے
. ان سے منسوب اس بیان کو پڑھ کر حیرت واستعجاب کی انتہا نہ رہی تاہم ثبوت و شواہد کی عدم دستیابی کی وجہ سے کچھ لکھنے اور بولنے سے قاصر رہا کیونکہ” شنیدہ کے بود مانند دیدہ ”

لیکن جب ” انصاف نیوز پورٹل ” کی وہ ویڈیو موصل ہوئی جس میں انہوں نے بنگلہ میں یہ جملے میڈیا کے روبرو کھڑے ہوکر بڑے طمطراق کے ساتھ بغیر کسی ہچکچاہٹ اور لڑکھراہٹ کے ادا کئے تو پورے طور پر اس خبر ک…
[23:52, 11/12/2021] +91 97485 03115: فرہاد حکیم صاحب کاناروا بیان اور مسلم قیادت کا خطرناک سکوت

گزشتہ ١١/ نومبر کی شام کو شوشل میڈیا کے کسی فیس بک پیج سے یہ اطلاع ملی کہ مغربی بنگال کے وزیر ٹرانسپورٹ جناب فرہاد حکیم صاحب نے بڈھسٹوں کی ایک تقریب میں مذہب اسلام اور ہندوتوا کو پورے عالم کیلئے ایک خطرہ قرار دیتے ہوے اس بات کی ضرورت کو اجاگر کیا کہ محض بدھ ازم کی تعلیمات سے ہی پوری دنیا میں امن وسکون کی فضا قائم ہو سکتی ہے
. ان سے منسوب اس بیان کو پڑھ کر حیرت واستعجاب کی انتہا نہ رہی تاہم ثبوت و شواہد کی عدم دستیابی کی وجہ سے کچھ لکھنے اور بولنے سے قاصر رہا کیونکہ” شنیدہ کے بود مانند دیدہ ”
لیکن جب ” انصاف نیوز پورٹل ” کی وہ ویڈیو موصل ہوئی جس میں انہوں نے بنگلہ میں یہ جملے میڈیا کے روبرو کھڑے ہوکر بڑے طمطراق کے ساتھ بغیر کسی ہچکچاہٹ اور لڑکھراہٹ کے ادا کئے تو پورے طور پر اس خبر کی تصدیق ہوگئی جسے سن کر کوئی بھی مسلمان بلکہ کوئی بھی باشعور انسان سکتے میں آسکتا ہے کہ اتنا پرانا اور سینئیر لیڈر کس طرح ایک کمیونیٹی کو خوش کرنے کیلئے دنیا کی دو عظیم مذہب کو نیچا دیکھانے کی ناجائز کوشش کرتے ہوے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان دے سکتا ہے ؟

دو ہی باتیں ہوسکتی ہیں ( ١ )یا تو یہ جملے ان کے موقف کے عکاس ہیں (٢ ) یا پھر سبقت لسانی ہو سکتی ہے ممکن ہے کہنا کچھ اور چاہ رہے ہوں لیکن دماغ اور زبان کے تصادم اور عدم مطابقت سے جملے ترتیب اور تہذیب سے عاری ہوتے ہوے ناشائستگی کو چھو گئے __

میں نے اپنا فریضہ سمجھا کیونکہ میرا تعلق ان ہی کی اسمبلی حلقہ سے ہے اور اسی حلقہ کی ایک قدیم مسجد ‘ مسجد ابراہیم ” ( بوڑھی مسجد )کی امامت سے بھی منسلک ہوں ساتھ ہی بفضل اللہ مختلف حیثیتوں اور وجوہات سے وہاں کی سماج سے بلا تحدید اور تقیید قوم وملت گہرے روابط اور رشتے ہیں

میں نے اپنا فریضہ جانتے ہوے پہلے مرحلہ میں ہی ایک ویڈیو کلب تیار کر ان سے مطالبہ کیا کہ آپ اپنے دئیے گئے بیان کی وضاحت فرما دیں کہ آپ کا مذکورہ بیان آپکے موقف کا عکاس ہے یا پھر سبقت لسانی یا انسانی لغزش کا شاخسانہ ہے ؟
لیکن افسوس کہ تین دن گزر جانے کی باوجود منسٹر صاحب کی جانب سے کوئی اعتذارنامہ اور وضاحتی بیان شائع نہیں ہوسکا

. لیکن مجھے پھر بھی یقین ہے کہ یہ ان کی سبقت لسانی ہے بولنا کچھ چاہ رہے تھے بول کچھ اور گئے
لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہیکہ آخر ان کے لئے اعتذار نامہ تحریرا یا تقریرا شائع کرانے میں کیا چیز مانع بن رہی ہے کیا ان سے غلطی نہیں ہوسکتی ؟ یا یہ اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کر تے ؟

خیر یہ تو منسٹر صاحب کے مزاج وحالت سے متعلق ہے لیکن افسوس اور صد افسوس ہماری ملی قیادت کا چاہے وہ مذہبی ہو سماجی ہو یا سیاسی کہاں گم ہو جاتی ہے یہ قیادت ؟ کہاں اور کس غار کے پناہ گزیں ہیں یہ ؟ جب کوئی آفت مصائب اور احوال پیش آتے ہیں چاہے وہ فساد کی شکل میں ہو یا اللہ اور اسکے رسول کی حرمت کا ہو یا دین کے تمسخر کا
موقع پر کسی قیادت کا دوردور تک کوئی وجود نظر نہیں آتا لیکن جیسے ہی فساد ات اور نقصانات اپنے مراحل طے کر لیتے ہیں تو پھر تنظیمیں اور جماعتیں اور افراد مسیحائی دیکھاتی ہوئیں ہمدردی اور اخوت کا جامہ پہن کر کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگنے لگتے ہیں

ذرا دیکھ لیجئیے ! اسی منسٹر صاحب کے مسئلہ پر کیا یہ خالص دین اور ملت کا مسئلہ نہیں ہے ؟ شہر کے صوبہ کے کسی برانڈیڈ شخصیات کی جانب سے کوئی مذمتی یا تردیدی بیان نہیں آیا ہے
جس کے نزدیک دین اسلام کی کوئی وقعت اہمیت نہیں جو اس کو نعوذ باللہ فساد کا ذریعہ سمجھ رہا ہے جس کے نز دیک۔دنیا میں صرف مہاتما بدھ کی تعلیمات سے ہی امن و شانتی قائم ہو سکتی ہے کل ہوکر ان ہی کو تحفظ دین ، تحفظ شریعت اور تحفظ اسلام کانفرنسوں کے مہمان خصوصی کا اعزاز بخشا جائیگا سیرت رسول کا پروگرام ہو یا ملت بیداری کی نشست یا اجلاس یہی اسٹیج کی زینت بنے رہینگے کو
حلق پھاڑ کر شان رسالت عظمت رسالت کے نعرے لگانے والے کہاں گم ہو گئے ہیں ؟
کہاں ہے جمعیة علماء ہند ؟ کہاں ہے مسلم مجلس مشاورت ؟ کہاں ہے آل انڈیا ملی کونسل ؟ کہاں ہے مسلم پرسنل لا بورڈ ؟ اور کہاں ہے جماعت اسلامی ہند ؟ کہاں ہے رضا اکیڈمی اور مجلس علماء اسلام اور آل انڈیا علما بورڈ ؟
کسی کی جانب سے اب تک کوئی آفیشیل بیان نہیں آیا ہے
اسی طرح ناخدا مسجد کے امام وخطیب ہوں یا امام عیدین ریڈ روڈ ، مسلم انسٹی ٹیوٹ کے صدر سکریٹری ہوں، یا یتیم خانہ اسلامیہ اور خلافت کمیٹی کے صدر وسکریٹری ، کسی کی بھی جانب سے کوئی نمائندہ بیان نہیں آیا ہے

یاد رکھیں ! آپ کی خاموشی آپ کیلئے ہر گز مفید ثابت نہیں ہوں گی یہ دور قدرت کی جانب سے چھٹائی کی چل رہی ہے اس سے آپ کو یہ فائدہ نہیں ملنے والا
کہ آپ ملت کی نظر میں بھی سرخرو رہیں گے اور حکومت کی بھی

اللہ اس طرح کے واقعات کے ذریعے اپنے بندوں کے احوال کا انکشاف فرمادیتا ہے جس سے اس کی حیثیت اور اس کی شناخت مومن ، مخلص ، منافق یا کاہل کے طور پر خوب اچھی طرح ہو جاتی ہے

آپ ، ہم اور پوری ملت اپنے مراتب، مناصب اور حیثیت کے اعتبار سے ضرور غور کریں کہ کہیں ہماری الٹی گنتی تو نہیں شروع ہونے والی ہے کہیں اللہ ہمیں اپنے دین کےخداموں اور ملت کے قائدین کی صفوں سے کنارہ کش تو نہیں فرمانے جا رہے ہیں ؟

یاد رکھیں ! جس طرح کچھ سیاسی لیڈروں کی جانب سے برسر عام صنم پرستی اور شرکیہ نعرے محض حکومت، پارٹی اور ان کی قیادت کی چاپلوسی اور خوشامد میں لگاے جا رہے ہیں کیا یہ ارتداد نہیں ہے ؟
کیا مسلم نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ جن کی کسی نہ کسی پارٹی سے سیاسی وابستگی ہے وہ اپنے بڑے لیڈران کے نقش قدم پر چلتے ہوے اسی ڈگر پر نہیں چل پڑا ہے؟
اور اب معاملہ پہونچتے پہونچتے یہاں تک آگیا کہ بلا روک ٹوک اور بغیر کسی اندیشہ کے ہمارے دین پر ہمارے ہی نام نہاد لیڈر جنہیں ہم نے جھولی بھر بھر کر ووٹ دئیے ہیں ناروا تبصرہ کرجاتے ہیں اور ہمارے ہر شعبہ کی قیادت خاموش کھڑی رہ جاتی ہے
پتہ نہیں فکر واندیشے آڑے آرہے ہیں یا نظر التفات سے گرجانے کا خوف دامن گیر ہے یا پھر مفاد پرستی نے ہمیں اندھا بنا دیا ہے نہیں معلوم !