Thursday, April 16, 2026
homeاہم خبریںسپریم کورٹ کا مغربی بنگال الیکشن کمیشن کو حکم: ووٹرز کے لیے...

سپریم کورٹ کا مغربی بنگال الیکشن کمیشن کو حکم: ووٹرز کے لیے ضمنی انتخابی فہرست جاری کریں

سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں لاکھوں ووٹرز کے حقِ رائے دہی سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ضمنی انتخابی فہرستیں جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ جانیے کن شرائط پر ووٹنگ کا حق بحال ہوگا۔

نئی دہلی: انصاف نیوز آن لائن

مغربی بنگال میں خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کی وجہ سے لاکھوں افراد کے حقِ رائے دہی سے محرومی کے معاملے پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگرچہ مغربی بنگال میں ووٹر لسٹیں منجمد ہو چکی ہیں، تاہم اپیلٹ ٹربیونلز میں زیرِ سماعت کیسز میں اگر فیصلہ حق میں آتا ہے، تو ان ووٹرز کے لیے ضمنی انتخابی فہرست جاری کی جائے۔ سپریم کورٹ کے مطابق اس کا مقصد ان شہریوں کو شامل کرنا ہے جن کے ناموں کے اخراج کے خلاف اپیلیں مخصوص تاریخوں سے قبل منظور کر لی گئی ہیں، تاکہ وہ پولنگ کے آئندہ مراحل میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔

عدالت نے ہدایت دی ہے کہ جن اپیل کنندگان کی درخواستیں ٹربیونلز نے پہلے مرحلے کے لیے 21 اپریل یا دوسرے مرحلے کے لیے 27 اپریل سے قبل منظور کر لی ہیں، انہیں ضمنی فہرستوں میں شامل کیا جائے تاکہ وہ بالترتیب 23 اپریل اور 29 اپریل کو اپنا ووٹ ڈال سکیں۔

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیا باغی پر مشتمل بنچ نے آئینِ ہند کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپیلٹ ٹربیونل کی جانب سے نام شامل کرنے کی حتمی ہدایت جاری کی جاتی ہے، تو ایسی ہدایات ریاست مغربی بنگال میں پولنگ کی مقررہ تاریخوں سے قبل ہی نافذ العمل تصور ہوں گی۔

بنچ نے مزید کہا کہ جہاں کہیں بھی اپیلٹ ٹربیونلز 21 اپریل 2026 یا 27 اپریل 2026 تک اپیلوں کا فیصلہ کر لیتے ہیں، وہاں ان عدالتی احکامات کو ضمنی فہرستوں کے ذریعے فوری نافذ کیا جائے گا تاکہ متعلقہ افراد ووٹنگ کے تمام حقوق حاصل کر سکیں۔

تاہم بنچ نے واضح کیا کہ انتخابی فہرست سے نام نکالے جانے کے خلاف محض اپیل دائر کر دینا کسی شخص کو ووٹ دینے کا حق نہیں دیتا۔ عدالت کے مطابق، اپیلٹ ٹربیونلز کے سامنے زیرِ التوا اپیلیں کسی بھی فرد کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔

یہ حکم مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے متعلق درخواستوں پر دیا گیا، جس کی سماعت پیر (13 اپریل) کو ہوئی اور تفصیلی آرڈر بعد میں اپ لوڈ کیا گیا۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے بتایا تھا کہ 9 اپریل کو پہلے مرحلے کے لیے ووٹر لسٹیں منجمد کی جا چکی ہیں۔ عدالت نے ضمنی فہرستوں کی اجازت دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ زیرِ التوا اپیلوں کی بنیاد پر عبوری ووٹنگ کا حق نہیں دے سکتی، کیونکہ اس سے انتخابی عمل میں پیچیدگی اور عدم توازن پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

عدالت نے مغربی بنگال، جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے عدالتی افسران کی کوششوں کو بھی سراہا، جنہوں نے انتہائی مختصر وقت میں 60 لاکھ سے زائد اعتراضات پر فیصلے کیے۔ ریکارڈ کے مطابق 34 لاکھ سے زائد اپیلیں پہلے ہی ٹربیونلز کے سامنے دائر ہو چکی ہیں۔ عدالت نے اس مشق کو “انتہائی دشوار گزار” قرار دیتے ہوئے متعلقہ افسران کی تعریف کی۔

درخواستوں کو نمٹاتے ہوئے عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزاروں کے خدشات قبل از وقت ہیں کیونکہ اپیل کا قانونی طریقہ کار فعال ہے اور اپیل منظور ہونے کی صورت میں نام کی شمولیت اور ووٹنگ کا حق خود بخود بحال ہو جائے گا۔ اس معاملے کی مزید سماعت 24 اپریل 2026 کو ہوگی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین