Wednesday, April 29, 2026
homeاہم خبریںمغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026: دوسرے مرحلے میں 90 فیصد سے زائد...

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026: دوسرے مرحلے میں 90 فیصد سے زائد ووٹنگ، ممتا بنرجی کا سی آر پی ایف پر خواتین ووٹروں پر حملے کا الزام

کلکتہ : انصاف نیوزآن لاین

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 2026 کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا، جہاں مجموعی ووٹنگ شرح 91.41 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق یہ ریاست میں اب تک کی سب سے زیادہ ووٹنگ شرحوں میں سے ایک ہے۔

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے الزام لگایا ہے کہ سی آر پی ایف اہلکاروں نے ان کے حلقے بھوانی پور میں خواتین ووٹروں پر حملہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی فورسز ووٹروں کو ہراساں کر رہی ہیں اور جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب، مختلف اضلاع سے تشدد اور ہنگامہ آرائی کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ نادیہ ضلع میں بی جے پی کے ایک پولنگ ایجنٹ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ بی جے پی امیدوار نے ترنمول کانگریس کارکنوں پر حملے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس کے جواب میں ترنمول کانگریس نے بی جے پی پر سرکاری مشینری کے غلط استعمال کا الزام لگایا۔

چیف الیکٹورل آفیسر منوج اگروال کے مطابق، اگر کسی بوتھ پرEVM میں چھیڑ چھاڑکی تصدیق ہوتی ہے تو وہاں دوبارہ پولنگ کرائی جا سکتی ہے۔

سیاسی کشیدگی کے درمیان، ترنمول کانگریس کے رہنما ابھیشیک بنرجی نے مرکزی فورسز کو “بی جے پی کی نجی فوج” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کی سختی کے باعث ایک بزرگ ووٹر کی موت واقع ہوئی۔

سات اضلاع میں پھیلے 142 اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ ہوئی، جن میں کولکاتا، نارتھ 24 پرگنہ، ساؤتھ 24 پرگنہ، ہاوڑہ، ہوگلی، نادیہ اور پُرب بردھمان شامل ہیں۔
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران اہم اضلاع میں ووٹنگ کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں زیادہ تر علاقوں میں شرکت 90 فیصد سے تجاوز کر گئی، جو عوام کی بھرپور دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔

ضلع وار ووٹنگ شرح:

ہوگلی – 91.41فیصد
ہاوڑہ – 90.93فیصد
کولکاتا نارتھ – 88.91فیصد
کولکاتا ساؤتھ – 87.25فیصد
نادیہ – 91.35فیصد
نارتھ 24 پرگنہ – 91.39فیصد
پُربا بردھمان – 93.39فیصد
ساؤتھ 24 پرگنہ – 91.45فیصد

الیکشن کے نتائج 4 مئیکو سامنے آئیں گے، جب یہ واضح ہو جائے گا کہ اقتدار کس کے ہاتھ میں جائے گا۔

زیادہ فورس کی تعیناتی پر سی پی آئی(ایم) کے ریاستی سیکریٹری محمد سلیم نے کہاکہ “ہم چاہتے ہیں کہ پولیسSOP (معیاری طریقۂ کار) کے مطابق کام کرے، اس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہونا چاہیے… اصل سوال یہ ہے کہ کیا عوام کے حقوق کو یقینی بنایا جا رہا ہے یا ان سے چھینا جا رہا ہے؟ کیا آپ اپنا الگ قانون بنا رہے ہیں؟…

1971 میں بھی اس طرح کی تعیناتی ہوئی تھی، اس وقت آر کے لکشمن نے اس پر ایک کارٹون بنایا تھا… ایسا نہیں ہے کہ صرف مرکزی فورس کے ہونے سے جمہوریت قائم ہو جائے گی… طاقت، بندوق، مرکزی فورس یا فوج کے ذریعے جمہوریت کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا، جمہوریت عوام کی طاقت سے قائم رہتی ہے۔”

متعلقہ خبریں

تازہ ترین