تہران | یکم مارچ، 2026
ایران کے سرکاری میڈیا نے اتوار کے روز اس ہولناک خبر کی تصدیق کر دی ہے کہ سابق صدر **محمود احمدی نژاد** ہفتہ (28 فروری) کی رات تہران پر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ فضائی جارحیت کے دوران تہران کے مشرقی علاقے میں واقع محمود احمدی نژاد کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے وقت سابق صدر اپنے گھر پر موجود تھے، جہاں وہ اپنے ایک محافظ سمیت خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی عمر 69 برس تھی۔
محمود احمدی نژاد 2005ء سے 2013ء تک مسلسل دو بار ایران کے صدر رہے۔ اپنے دورِ اقتدار کے ابتدائی سالوں میں وہ ایران کے قدامت پسند اور سخت گیر حلقوں کے پسندیدہ ترین رہنما تصور کیے جاتے تھے۔
ان کی شہرت عالمی سطح پر ایرانی جوہری پروگرام پر سخت موقف اور مغرب کے خلاف نڈر بیانات کی وجہ سے تھی۔
ان کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران سخت گیر پالیسیوں کے نتیجے میں ایران پر بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں عائد ہوئیں، جس سے ملک میں معاشی بحران پیدا ہوا۔
صدارت کے آخری برسوں میں ایران کی اعلیٰ ترین شیعہ مذہبی قیادت کے ساتھ ان کے بعض پالیسیوں پر اختلافات پیدا ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ حالیہ برسوں میں سیاسی طور پر تنہا اور متنازع شخصیت بن چکے تھے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبروں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ ایران نے پہلے ہی امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملوں کا آغاز کر دیا ہے، جس سے عالمی جنگ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
اگرچہ حالیہ برسوں میں احمدی نژاد ایران کے مرکزی سیاسی دھارے سے دور ہو گئے تھے، لیکن ان کی موت نے ایرانی عوام میں غم و غصے کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کی اہم شخصیات کو نشانہ بنانا اسرائیل کی “ٹارگٹڈ کلنگ” پالیسی کا حصہ ہے تاکہ تہران کی قیادت کو مفلوج کیا جا سکے۔
