Friday, April 17, 2026
homeاہم خبریںبنگال میں ایس آیی آر کا قہر: اعزاز یافتہ فوجی افسر، آئی...

بنگال میں ایس آیی آر کا قہر: اعزاز یافتہ فوجی افسر، آئی آئی ایم پروفیسرز اور نامور صحافی بھی ووٹر لسٹ سے آؤٹ

کلکتہ: انصاف نیوز آن لائن

بھارتی فضائیہ کے ریٹائرڈ ونگ کمانڈر محمد شمیم اختر، جو کبھی ”ڈپلومیٹک پاسپورٹ“ کے حامل تھے، اب بھارت کے ووٹر بھی نہیں رہے۔ الیکشن کمیشن کے غیر منصفانہ عمل نے ان کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا ہے۔ ملک کی خدمت کرنے کا یہ صلہ ملے گا، انہوں نے کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا۔ محمد شمیم اختر کا کہنا ہے کہ “میرا نام تو شاید (جدوجہد سے) دوبارہ شامل ہو جائے گا، مگر دیہی علاقوں میں رہنے والے ان لاکھوں شہریوں کا کیا ہوگا جن کے پاس آواز اٹھانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے؟”

ونگ کمانڈر شمیم اختر کو 15 دسمبر 2006 کو انڈین ایئر فورس میں کمیشن ملا تھا اور انہوں نے 17 برسوں تک ملک کی بے مثال خدمت کی۔ ان کے کیریئر میں ملک بھر کے اہم عہدوں پر تعیناتیاں شامل رہیں۔ ایئر فورس اسٹیشن تمبرم میں تقریباً 2,000 فضائی سپاہیوں (Airmen) کو تربیت دینے سے لے کر چندی گڑھ اور الہ آباد میں انتظامی قیادت تک، ان کا ریکارڈ بے داغ رہا۔ انہوں نے ‘ینگ آفیسرز ایکسچینج پروگرام’ کے تحت رائل تھائی ایئر فورس میں بین الاقوامی سطح پر بھارت کی نمائندگی کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ 2018 کے کیرالہ سیلاب کے دوران بچاؤ اور امدادی کارروائیوں میں انہوں نے فضائیہ کے جوانوں کے ساتھ نمایاں کردار ادا کیا۔ جولائی 2022 میں ریٹائرمنٹ (VRS) کے بعد سے وہ نوجوانوں کو مسلح افواج میں شامل ہونے کے لیے رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔

اختر کے مطابق، جاری ‘خصوصی گہرا نظرثانی’ (SIR) کے عمل کے دوران ان کا نام ”زیرِ سماعت“ (Under Adjudication) رکھا گیا تھا۔ تاہم اس سے پہلے کہ انہیں سماعت کے لیے بلایا جاتا، 28 مارچ 2026 کو جاری ہونے والی دوسری ضمنی فہرست میں ان کا نام حذف کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بی ایل او نے پہلے انہیں یقین دہانی کرائی کہ نام خود بخود بحال ہو جائے گا، مگر اب انہیں ٹریبونل سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔

آئین ہند کے مصور کا خاندان اور دیگر اہم شخصیات بھی نشانہ
ونگ کمانڈر اختر تنہا نہیں ہیں، بلکہ کئی اہم شخصیات اس عمل کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ بھارتی آئین کی اصل کتاب کو اپنی تصویروں سے سجانے والے عظیم فنکار نند لال بوس کے پوتے اور ان کی بہو کے نام بھی انتخابی فہرست سے غائب پائے گئے۔ سول سوسائٹی کا سوال ہے کہ اگر ان خاندانوں کے نام محفوظ نہیں جنہوں نے ملک کی دستوری تاریخ لکھی، تو عام آدمی کے حقوق کی کیا ضمانت ہے؟ اسی طرح محکمہ اے جی ڈبلیو بی (AGWB) کی اعلیٰ عہدیدارریشمہ شیریں اقبال کا نام بھی بغیر کسی نوٹس کے حذف کر دیا گیا۔

پروفیسر نندتا رائے: ”جمہوریت خاموشی میں چلی گئی ہے“

38 سالہ پروفیسر نندتا رائے، جو آئی آئی ایم (IIM) کاشی پور، لکھنؤ اور کلکتہ میں پڑھا چکی ہیں، ان کا نام بھی 31 مارچ کو حذف کر دیا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ “میں 2009 سے ووٹر ہوں، اب مجھ سے دوبارہ ‘نیا ووٹر’ بننے کو کہا جا رہا ہے۔ اگر مجھ جیسے بااثر لوگ یہ بھگت رہے ہیں، تو ان ہزاروں غریب خواتین کا کیا ہوگا جن کے نام خاموشی سے کاٹ دیے گئے؟ بھارت کی اس صورتحال پر میں یہی کہوں گی کہ جمہوریت خاموشی میں چلی گئی ہے۔”

عالیہ یونیورسٹی کے پروفیسرز اور صحافی بھی محفوظ نہیں
عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ کے سربراہ اور اے ایم یو کے پی ایچ ڈی اسکالر پروفیسر محمد شمیم اختر کا کیس مزید افسوسناک ہے، جہاں ان کے ساتھ ان کے بیٹے (ایم بی بی ایس طالب علم) کا نام بھی کاٹ دیا گیا۔ اسی طرح معاشیات کی سربراہ اور گولڈ میڈلسٹ پروفیسر ملیشہ خاتون بھی اب ووٹر نہیں رہیں۔ بنگالی صحافت کا بڑا نام ‘آنند بازار پتریکا’ کی ڈیسک رپورٹرچیتالی بسواس کا نام بھی بغیر کسی وجہ کے حذف کر دیا گیا ہے۔

حال ہی میں آلٹ نیوز (Alt News) نے انکشاف کیا تھا کہ انتخابی ڈیٹا میں بڑے پیمانے پر تضادات موجود ہیں اور مخصوص برادریوں کے ووٹرز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ بنگال میں ووٹر لسٹوں کی ‘درستگی’ کے نام پر ہونے والا عمل محض تکنیکی غلطی نہیں، بلکہ قانونی طریقہ کار (Due Process) کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو جمہوری ڈھانچے کے لیے ایک سنگین لمحہ فکر ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین