Tuesday, April 21, 2026
homeاہم خبریںکلکتہ: اقبال پور میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی سازش-بی جے پی...

کلکتہ: اقبال پور میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی سازش-بی جے پی امیدوار راکیش سنگھ کے خلاف مقدمہ درج

انصاف نیوز آن لائن، کلکتہ

کلکتہ شہر کے مسلم اکثریتی علاقے خضر پور اور مٹیا برج طویل عرصے سے فرقہ پرست قوتوں کی نظروں میں ہیں اور گزشتہ کچھ برسوں سے اس پورے بیلٹ کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان علاقوں سے متعلق منفی پروپیگنڈے پھیلانا گویا ایک معمول بن چکا ہے۔ یاد رہے کہ دو برس قبل عید میلاد النبی کے موقع پر ہونے والی ایک معمولی جھڑپ کی تحقیقات بھی این آئی اے (NIA) کے سپرد کی گئی تھی۔

اسی سلسلے میں، پیر کی شام اقبال پور کے حسین شاہ روڈ پر، جو ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے، بی جے پی امیدوار راکیش سنگھ کی حمایت میں ایک جلسہ (پتھ سبھا) منعقد کیا گیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق، اس انتخابی جلسے کے دوران مسلمانوں کی عبادات کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے۔ جب مقامی لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو بی جے پی کارکنوں نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ اس کے بعد بی جے پی امیدوار راکیش سنگھ اور ان کے حامیوں نے اقبال پور تھانے کے باہر شدید احتجاج اور ہنگامہ کیا، جس کے بعد پولیس کو حالات قابو کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑا۔

اقبال پور تھانے کے سامنے ہنگامہ آرائی کے واقعہ میں پولیس نے کل تین ایف آئی آر (FIR) درج کی ہیں۔ ان میں سے ایک میں کولکتہ پورٹ اسمبلی حلقہ سے بی جے پی امیدوار راکیش سنگھ کو نامزد کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ پیر کی رات ہنگامے کے دوران اقبال پور تھانے کے باہر جمع ہوئے بی جے پی کارکنوں نے ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس اہلکار سے ان کا سروس ریوالور چھیننے کی کوشش کی۔ پولیس نے اس الزام پر ازخود مقدمہ درج کیا ہے جس میں راکیش سنگھ کا نام شامل ہے۔

پیر کی شام جب بی جے پی کا یہ جلسہ شروع ہوا تو مقامی ترنمول قیادت کی جانب سے نعرے بازی کی گئی۔ بی جے پی نے بھی جوابی نعرے بازی کی، جس سے علاقے کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔ خبر ملتے ہی راکیش سنگھ موقع پر پہنچ گئے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ انہیں دیکھتے ہی ترنمول کے کارکنوں نے ‘گو بیک’ کے نعرے لگائے۔ اس کے بعد راکیش سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے کئی کارکن اقبال پور تھانے کے باہر جمع ہو گئے اور پولیس پر عدم فعالیت کا الزام عائد کرتے ہوئے دھرنا شروع کر دیا۔

کچھ دیر بعد تھانے کے سامنے ترنمول کا جھنڈا تھامے کچھ لوگ جمع ہو گئے اور جوابی مظاہرہ شروع کر دیا۔ دونوں طرف کے مظاہروں سے تھانے کے سامنے صورتحال قابو سے باہر ہونے لگی۔ نعرے بازی کے دوران دونوں جانب کے کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی کا بھی الزام ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ اس دوران راکیش سنگھ پر حملہ ہوا اور رات میں انہیں ہسپتال بھی لے جایا گیا۔

پیر کی رات پیش آنے والے اس واقعہ کے بعد منگل کی صبح سے ہی اقبال پور میں کشیدگی کا عالم ہے۔ پولیس اب تک اس معاملے میں 9 افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ کل تین ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، جن میں سے دو میں راکیش سنگھ کا نام شامل ہے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ مقدمات سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے، پولیس سے ریوالور چھیننے کی کوشش، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور دیگر سنگین دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، بی جے پی کی جانب سے ایک وکیل کی شکایت پر راکیش سنگھ کو مبینہ طور پر روکنے اور بی جے پی کارکنوں پر حملے کے الزام میں ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام الزامات کی باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین