Wednesday, April 22, 2026
homeاہم خبریں'ایس آئی آر' (SIR) کا عمل مکمل طور پر غیر قانونی: جواہر...

‘ایس آئی آر’ (SIR) کا عمل مکمل طور پر غیر قانونی: جواہر سرکار کا الیکشن کمیشن پر سخت وار

کلکتہ : انصاف نیوز آن لائن

سابق بیوروکریٹ و سابق ممبر پارلیمنٹ جواہر سرکار نےانصاف نیوز آن لائن کے ایڈیٹر نور اللہ جاوید اور ای نیوز روم کے ایڈیٹر شاہنواز اختر کے ساتھ خصوصی بات چیت میں الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’’ایس آئی آر‘‘ (Special Intensive Revision) کا پورا عمل ہی غیر قانونی ہے اور اس کے پیچھے بدنیتی چھپی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اس وقت میں نے انتخابات کروائے تھے جب آج کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اسکول میں پڑھتے تھے، اس لیے وہ ہمیں نہیں بتا سکتے کہ قانون کیا ہے۔ ایس آئی آر کے نام سے قانون میں کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے۔”

جواہر سرکار نے کہا کہ گزشتہ 75 برسوں میں کبھی ایس آئی آر نہیں ہوا، یہ گیانیش کمار کی ذہنی اپج ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایل او (BLO) سے انٹری کروائی گئی، حالانکہ ان میں سے اکثریت کمپیوٹر تک چلانا نہیں جانتی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس کمپیوٹر کے ذریعے اتنے بڑے پیمانے پر نام کاٹے گئے، ان تمام شہریوں کا حق ہے کہ یہ جانیں کہ کمپیوٹر میں یہ انٹری کس طرح کی گئی؟

جواہر سرکار نے مزید کہا کہ بنگال میں ایس آئی آر کے دوران جن اصطلاحات کا استعمال کیا گیا، ان کا مقصد صرف ایک تھا کہ بنگالیوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور اس کا سیاسی کلچر صرف بنگال مخالف نہیں بلکہ بھارت مخالف ہے۔ بی جے پی کو بنگال کی تہذیب و ثقافت کا کوئی علم نہیں ہے، اس لیے اگر وہ اقتدار میں آ بھی جائے تو بنگال کو چلا نہیں سکتی۔

جواہر سرکار نے ایس آئی آر کے پورے عمل کے دوران عدالت کے رویے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ “مجھے نہیں معلوم کہ عدالت اتنا واضح منظرنامہ ہونے کے باوجود اس عمل کو کیوں نہیں روک پائی۔ سپریم کورٹ نے حالیہ برسوں میں بہت سے معاملات میں سست روی سے کام لیا ہے۔”

جواہر سرکار نے نشاندہی کی کہ گجرات اور دیگر ریاستوں میں بھی جہاں ایس آئی آر ہوا، وہاں بڑے پیمانے پر نام کاٹے گئے ہیں، لیکن وہاں چونکہ انتخابات نہیں ہو رہے ہیں، اس لیے شہریوں میں بیداری کم ہے۔ چونکہ بنگال میں الیکشن کمیشن کی چوری پکڑی گئی، اس لیے یہاں مخالفت ہو رہی ہے۔ سرکار نے کہا کہ ایس آئی آر کے ذریعے بنگال میں انتخابات جیتنے کی یہ بی جے پی کی ایک کوشش ہے۔ چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ “بنگال میں ایس آئی آر پر سیاست کیوں ہو رہی ہے؟” پر انہوں نے جواب دیا کہ یہ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ بنگال میں منطقی تضادات کہیں زیادہ ہیں اور یہاں کے شہری بیدار ہیں۔

بی جے پی کے طرزِ سیاست پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگال میں 200 برس قبل سے ہی ذات پات اور مذہبی تفریق کے خاتمے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں ایک دو فرقہ وارانہ فسادات ضرور ہوئے، مگر اس کے پیچھے نفرت نہیں تھی بلکہ کچھ لالچی طبقات نے انہیں انجام دیا تھا۔ بنگال کی روح میں نفرت اور عداوت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی کے خلاف جو ناراضگی ہے، اس کی وجوہات (جیسے بدعنوانی اور غنڈہ گردی) جائز ہیں اور اس پر بات کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ بنگال کے عوام نہ بدعنوانی کو پسند کرتے ہیں اور نہ فرقہ پرستوں کو۔ انہوں نے کہا کہ “میں ذاتی طور پر ممتا بنرجی اور مودی دونوں کو چھوڑ کر تیسرے متبادل کی طرف جانے کے حق میں ہوں۔”

انہوں نے مسلمانوں کو ترقیاتی ایشوز پر توجہ دینے کی پرزور وکالت کرتے ہوئے کہا کہ بنگال کے انتخابات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ شناخت کی سیاست کے بجائے ترقی اور سماجی مسائل پر توجہ دی جائے۔

جواہر سرکار نے ممتا بنرجی کے سیکولرازم پر بھی سوال کھڑا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقت اور حالات کے اعتبار سے سیاست کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا، “جب مرشد آباد میں فسادات ہو رہے تھے، ممتا بنرجی دیگھا میں مندر میں پوجا کر رہی تھیں۔ اگر وہ فسادات روک دیتیں تو بی جے پی کو سیاست کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ ممتا بنرجی نے بی جے پی کے لیے زمین فراہم کی۔” سابق وزیر اعلیٰ جیوتی باسو کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “جیوتی باسو فسادیوں سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت دیتے تھے، اس لیے افسران بے خوف ہو کر کارروائی کرتے تھے۔”

انٹرویو کے اختتام پر جواہر سرکار نے کہا کہ جن کے نام ووٹ لسٹ میں شامل ہیں، ان کا فرض ہے کہ وہ صد فیصد ووٹ دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بنگال کی روح کے خلاف کسی حکومت کو تھوپا گیا تو بنگال کے عوام اسے برداشت نہیں کریں گے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین