کلکتہ: نوراللہ جاوید
مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کی انتخابی مہم کے اختتام کے ساتھ ہی سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے۔ کلکتہ شہر اور ملحقہ اضلاع (ہوڑہ، شمالی و جنوبی 24 پرگنہ، ندیا، ہگلی) کی 142 سیٹوں پر ہونے والی ووٹنگ کا فیصلہ بنیادی طور پر مسلم ووٹروں کے اتحاد اور ترجیحات پر منحصر ہے۔
کلیدی حلقے اور مسلم آبادی کا اثر
کولکاتا کے کئی اہم حلقے، جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد فیصلہ کن ہے، اس وقت سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں:


بالی گنج:یہاں مسلم ووٹروں کی تعداد تقریباً 40 سے 51 فیصد کے درمیان ہے۔ 2022 کے ضمنی انتخاب میں سی پی آئی (ایم) کی امیدوار سائرہ شاہ حلیم کی کارکردگی نے ثابت کیا کہ مسلم ووٹر اب روایتی جماعتوں کے علاوہ بھی سوچ رہے ہیں۔ اس بار آفرین بیگم (سی پی آئی ایم) کی مہم نے گھر گھر جاکر بنیادی مسائل (سماجی تفاوت، تعلیم) کو اٹھایا ہے۔
کولکاتا پورٹ: یہاں 52 فیصد مسلم ووٹر ہیں۔ مقابلہ فرہاد حکیم (ٹی ایم سی) اور دیگر امیدواروں کے درمیان ہے۔
انٹالی، چورنگی، اور مٹیا برج: ان حلقوں میں مسلم ووٹوں کی شرح بالترتیب 37، 38 اور 60 فیصد ہے۔ یہ علاقے پسماندگی کا شکار ہیں، لیکن سیاسی جماعتیں یہاں ترقی کے بجائے مذہبی پولرائزیشن کو ترجیح دیتی نظر آتی ہیں۔
اس بار کی مہم میں ایک تشویشناک رجحان مسجد کے ائمہ کے سیاسی استعمال کا ہے۔ ترنمول کانگریس کی جانب سے مسلم ووٹروں کو لام بند کرنے کے لیے مذہبی رہنماؤں کے ذریعے اپیل کروانے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ نوجوان امیدوار، جیسے آفرین بیگم، اس طرزِ سیاست کو مسترد کرتے ہوئے اسے ‘ترقیاتی مسائل سے توجہ ہٹانے کا حربہ’ قرار دیتی ہیں۔
بڑی پارٹیاں مسلم ووٹوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ووٹر محض جذبات کی بنیاد پر ووٹ دیں گے یا وہ اپنے علاقوں میں اسکول، ہسپتال اور روزگار جیسے بنیادی مسائل کو ترجیح دیں گے؟ انتخابی نتائج ہی بتائیں گے کہ کلکتہ کی سیاست کس کروٹ بیٹھتی ہے۔
