Tuesday, April 28, 2026
homeاہم خبریںبھانگر: زمین کی جنگ یا سیاست کی بساط؟جان دے دیں گے مگر...

بھانگر: زمین کی جنگ یا سیاست کی بساط؟جان دے دیں گے مگر زمین نہیں —ممتا حکومت کے خلاف عوامی بغاوت

کلکتہ : انصاف نیوز
نوراللہ جاوید
مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا سے متصل بھانگر آج صرف ایک اسمبلی حلقہ نہیں بلکہ زمین، شناخت اور بقا کی جنگ کی علامت بن چکا ہے۔ راجرہاٹ جیسے ترقی یافتہ علاقے کے اختتام کے ساتھ ہی بھانگر کی سرحد شروع ہوتی ہے—ایک ایسا خطہ جو گزشتہ کئی برسوں سے تشدد، سیاسی کشمکش اور عوامی مزاحمت کی وجہ سے مسلسل خبروں میں رہا ہے۔
سیاسی پس منظر اور بدلتا منظرنامہ

سال مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2021 میں ممتا بنرجی کی زبردست لہر کے باوجود بھانگر نے ایک الگ کہانی لکھی۔ جہاں بائیں محاذ اور کانگریس کا تقریباً صفایا ہوگیا اور بی جے پی صرف 77 نشستوں تک محدود رہی، وہیں نئی جماعت انڈین سیکولر فرنٹ کے امیدوار نوشاد صدیقی نے 26 ہزار ووٹوں سے تاریخی کامیابی حاصل کی۔یہ جیت محض ایک انتخابی نتیجہ نہیں تھی بلکہ بھانگر کے عوام کے اندر پائی جانے والی بے چینی اور مزاحمت کا اظہار تھی۔

نوشاد صدیقی بمقابلہ ترنمول: ایک فیصلہ کن مقابلہ

اس بار بھی نوشاد صدیقی میدان میں ہیں، مگر ان کے سامنے ہیں ترنمول کانگریس کے طاقتور لیڈر شوکت علی ملا۔ اس سیٹ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود ممتا بنرجی دو مرتبہ یہاں انتخابی مہم چلا چکی ہیں، جبکہ ابھیشیک بنرجی نے بھی روڈ شو اور جلسے کیے ہیں۔

زمین: زرخیزی سے تنازع تک
بھانگر کی اصل طاقت اس کی زمین ہے—انتہائی زرخیز، جہاں سال میں چار فصلیں اگتی ہیں اور ہزاروں خاندانوں کا انحصار زراعت پر ہے۔ مگر یہی زمین آج سب سے بڑا تنازع بن چکی ہے۔

ممتا حکومت یہاں صنعتی ترقی اور ہوائی اڈے کے قیام کی بات کرتی ہے، جبکہ نوشاد صدیقی عوام کو خبردار کرتے ہیں کہ یہ ترقی نہیں، بلکہ زمین چھین کر اسے بڑی کمپنیوں اور بلڈروں کے حوالے کرنے کی سازش ہے۔

عوام کی آواز: خوف، غصہ اور عزم
بھانگر کے گاؤں شانتی پور میں نوشاد صدیقی کی ریلی میں غیر معمولی بھیڑ دیکھنے کو ملی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ:ہم مر جائیں گے مگر اپنی زمین نہیں دیں گے۔یہ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی عہد بن چکا ہے، جس میں آنکھوں میں آنسو بھی ہیں اور محرومی کا درد بھی۔

2017 کا زخم: جو اب بھی تازہ ہے

زمین کے تنازع کی جڑیں نئی نہیں ہیں۔ بھانگر پاور پلانٹ احتجاج 2017 کے دوران پولیس فائرنگ میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد پورا علاقہ کئی ہفتوں تک احتجاج اور بدامنی کی لپیٹ میں رہا۔یہ واقعہ آج بھی عوام کے ذہنوں میں زندہ ہے اور حکومت پر عدم اعتماد کی بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔

پولیس کا جال یا دباؤ کی حکمت عملی؟

امن و امان کے نام پر حکومت نے بھانگر میں غیر معمولی طور پر 8 پولیس اسٹیشن قائم کیے ہیں اور اسے کولکاتا پولیس کے دائرہ اختیار میں دے دیا ہے، حالانکہ یہ علاقہ شہر سے کافی دور ہے۔مقامی ووٹرز اس پر سخت ناراض ہیں کہ ’’ہمیں اسکول، کالج اور اسپتال چاہیے تھے، پولیس اسٹیشن نہیں۔ ہمیں ڈرایا جا رہا ہے، مگر ہم ڈرنے والے نہیں‘‘أ

آئی ایس ایف: خاموش مگر متحرک سیاست
گزشتہ انتخابات میں میڈیا کی توجہ کا مرکز رہنے والی آئی ایس ایف اس بار سرخیوں سے دور ہے، مگر زمینی سطح پر اس نے اپنی بنیاد مضبوط کی ہے۔ شناختی سیاست سے ہٹ کر’’سماجی انصاف‘‘ کے نعرے نے اسے ایک مختلف پہچان دی ہے۔پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس بار نتائج چونکا دینے والے ہوں گے۔

خوف کی فضا اور غیر یقینی مستقبل

رپورٹنگ کے دوران بم برآمد ہونے کی خبر نے علاقے میں ایک بار پھر خوف کی لہر دوڑا دی۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ:
“ہمیں جان بوجھ کر جرائم میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ہماری تحریک کو بدنام کیا جا سکے۔”

بھانگر آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ترقی اور بقا، دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ ایک طرف حکومت کا ترقیاتی ایجنڈا ہے، تو دوسری طرف عوام کا اپنی زمین سے جذباتی اور معاشی رشتہ۔یہ محض ایک انتخابی جنگ نہیں، بلکہ یہ سوال ہے:
’’کیا ترقی کے نام پر زمین چھین لی جائے گی، یا عوام اپنی زمین بچانے میں کامیاب ہوں گے؟‘‘

متعلقہ خبریں

تازہ ترین