Tuesday, April 28, 2026
homeاہم خبریںبنگال انتخابات: دوسرے مرحلے کے ووٹنگ سے قبل ووٹر لسٹ میں 1468مزید...

بنگال انتخابات: دوسرے مرحلے کے ووٹنگ سے قبل ووٹر لسٹ میں 1468مزید نام شامل

صبرانسی ٹیوٹ کے مطابق ووٹر لسٹ سے چھ نام ہٹائے گئے ہیں جن میں سے پانچ مسلمان ہیں اور ایک ہندو خاتون ہے۔

کلکتہ :انصاف نیوز آن لائن

مغربی بنگال میں خصوصی ایس آئی آر کے تحت قائم اپیلٹ ٹریبونلز نے منگل کو ووٹر لسٹ میں1468نام واپس شامل کر دیے۔ یہ فیصلہ اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے صرف ایک دن پہلے کیا گیاہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹریبونلز نے یہ بھی بتایا کہ چھ نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیے جا سکتے۔ کلکتہ میں واقع ریسرچ انسی ٹیوٹ صبر انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، ان چھ ناموں میں سے پانچ مسلمان ہیں اور ایک ہندو خاتون ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار کے مطابق 1468ووٹرز بدھ کو ووٹ ڈال سکیں گے۔

اس اہلکار کے مطابق، “پولنگ سٹیشن کے لحاظ سے جن ووٹرز کے نام شامل یا حذف کیے گئے ہیں، ان کی فہرست ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہے۔ ہم سیاسی جماعتوں، امیدواروں، ریٹرننگ افسران اور ضلعی الیکشن افسران کو بھی اپ ڈیٹ شدہ لسٹ کی کاپی دیں گے۔ انفرادی ووٹرز کو بوتھ لیول افسران کے ذریعے مطلع کیا جائے گا۔

تاہم، بدھ کو شروع ہونے والے دوسرے مرحلے کے پولنگ سے پہلے ٹریبونلز کتنے کیسز سن پائیں گے، اس بارے میں ابھی تک کوئی واضح معلومات نہیں ہیں۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے بتایا تھا کہ 19 اپیلٹ ٹریبونلز کو 34 لاکھ درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ ان میں سے 7 لاکھ درخواستیں ان ناموں کے خلاف تھیں جو لسٹ میں شامل کیے گئے تھے، جبکہ 27 لاکھ درخواستیں ان لوگوں نے دائر کی تھیں جن کے نام لسٹ سے نکال دیے گئے تھے۔

مغربی بنگال انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 142 اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ ہوگی۔ ریاست میں پہلا مرحلہ 23 اپریل کو ہوا تھا۔ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔

پہلے مرحلے کے انتخابات (23 اپریل) سے پہلے، الیکشن کمیشن نے اپیلٹ ٹریبونلز سے منظور شدہ اپیلوں پر 139 ووٹرز کے نام شامل کیے تھے۔ اس کے علاوہ 8 ووٹرز کے نام لسٹ سے حذف کر دیے گئے تھے۔

16 اپریل کو سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ مغربی بنگال میں ایک سپلیمنٹری شائع کیا جائے تاکہ جن ووٹرز کی اپیلوں پر اپیلٹ ٹریبونلز نے حذف کے خلاف فیصلہ دیا ہے، ان کے نام شامل کیے جا سکیں۔

کورٹ نے کہا تھا کہ 21 اپریل سے پہلے ٹریبونلز سے کلیئر ہونے والے افراد کو پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کا حق ہوگا۔ جن کی اپیلیں 27 اپریل تک کلیئر ہو جائیں گی، انہیں دوسرے مرحلے کے لیے حتمی ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے 28 فروری کو مغربی بنگال کی حتمی ووٹر لسٹ شائع کی تھی، جس میں بتایا گیا کہ 61 لاکھ سے زائد ووٹرز کو لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ تاہم یہ عمل جاری رہا اور تقریباً 60 لاکھ “مشکوک اور زیر التواء” کیسز اب بھی فیصلے کے منتظر تھے۔

اس دوران کئی سپلیمنٹری لسٹیں جاری کی گئیں جن میں مزید ووٹرز کے نام شامل کیے گئے۔

6 اپریل کو عدالتی افسران نے 60 لاکھ دعووں اور اعتراضات کا فیصلہ کر کے یہ عمل مکمل کر دیا۔ تاہم جن ووٹرز کو اس فیصلے کے دوران لسٹ سے نکالا گیا تھا، وہ 19 مخصوص ٹریبونلز میں اپیل کر سکتے تھے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین