Thursday, May 30, 2024
homeاہم خبریںپنجاب میں مذہبی ہم آہنگی کی عظیم مثال ،غیر آباد مسجدوں کو...

پنجاب میں مذہبی ہم آہنگی کی عظیم مثال ،غیر آباد مسجدوں کو بحال کر رہے ہیں سکھ

میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک 165 سے زائد مساجد بحال کر کے مسلمانوں کو دی جا چکی ہیں۔ بہت سے معاملات میں، سکھوں اور ہندوؤں نے اپنی زمینیں دیں اور ان دیہاتوں میں نئی ​​مساجد کی تعمیر کے لیے فنڈز کا بندوبست بھی کیا جہاں مسلمان غریب، بے زمین ہیں اور ان کے پاس نئی مسجد بنانے کے لیے خاطر خواہ فنڈز جمع کرنے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔

نئی دہلی ،11جولائی :۔

پنجاب ریاست یوں بھی اپنی مذہبی ہم آہنگی،بھائی چارے اور لاچاروں،مجبوروں کی مدد کے لئے بہت معروف ہے۔خدمت خلق کا جو مظاہرہ سکھ قوم پیش کرتی ہے اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی ہے ،دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو مصیبت زدہ اور پریشان حال عوام کےد رمیان خدمت خلق کے جذبے سے کام کرتے ہوئے سکھ قوم نظر آتی ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ اگر کسی کو باہمی خیر سگالی اور مذہبی ہم آہنگی دیکھنا ہوتو پنجاب چلا جائے ۔ جہاں ایک طرف آسام ،مدھیہ پردیش ،اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں غیر قانونی ہونے کے نام پر مساجد اور مدارس اور مسلم اسکولوں کو زمیں دوز کیا جا رہا ہے وہیں پنجاب میں سکھوں اور ہندوؤں نے ایک اعلیٰ درجے کی مثال پیش کی ہے ۔خستہ حال مساجد کو بحال کر کے مسلمانوں کے حوالے کر کے ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔اس کار خیر میں سکھوں کی عبادتگاہیں گرودوارےمرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک 165 سے زائد مساجد بحال کر کے مسلمانوں کو دی جا چکی ہیں۔ بہت سے معاملات میں، سکھوں اور ہندوؤں نے اپنی زمینیں دیں اور ان دیہاتوں میں نئی ​​مساجد کی تعمیر کے لیے فنڈز کا بندوبست بھی کیا جہاں مسلمان غریب، بے زمین ہیں اور ان کے پاس نئی مسجد بنانے کے لیے خاطر خواہ فنڈز جمع کرنے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔

انڈیا ٹو مارو کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی ہند (جے آئی ایچ) کے پنجاب یونٹ کے صدر عبدالشکور کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تقریباً 36 سال قبل ان کی تنظیم نے شروع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے دیہات میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے کیونکہ مسلمان تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کر گئے تھے۔ اس لیے مساجد لا وارث اور غیر آباد رہیں ۔ ان کو استعمال کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ کچھ مساجد کو دوسری برادریوں کی عبادت گاہوں میں بھی تبدیل کر دیا گیا۔ پھر بھی، بہت سی مساجد ایسی تھیں جنہیں مقامی لوگوں نے مذہبی مقام ہونے کے خیال سے ان کی تعظیم کے طور پر محفوظ کر رکھا تھا حالانکہ ان کے آس پاس کوئی مسلمان نہیں تھا جو ان کی دیکھ بھال کر سکے یا انہیں نماز کے لیے استعمال کر سکے۔

تاہم، پنجاب میں مساجد کی ضرورت میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب مسلم گجر برادری ہماچل پردیش کے جنگلات سے جنگلاتی حکام اور انتہا پسند ہند تنظیموں کی ظلم زیادتی سے پریشان ہو کر ہجرت کر کے پنجاب میں پہنچی۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں اتر پردیش اور بہار کے مسلمان مزدور اور تاجروں کی شکل میں روزی روٹی کی تلاش میں پنجاب آئے۔ اس دوران جب امریکہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں بیرون ملک مقیم سکھ ان ممالک کے مسلمانوں سے رابطے میں آئے تو انہوں نے محسوس کیا کہ غیر آباد مساجد ان مسلمانوں کو واپس کر دی جائیں جو دوسری ریاستوں سے پنجاب آئے تھے۔ اس سے مقامی آبادی کو مساجد کو فعال بنانے کی ترغیب ملی۔

چونکہ مہاجر مسلمان غریب تھے اور ان کے پاس ان مساجد کو بحال کرنے کے لیے مناسب فنڈز نہیں تھے جو دہائیوں سے نظر انداز ہونے کی وجہ سے خستہ حال ہو چکی تھیں، اس لیے انھوں نے مقامی رہنماؤں – سکھوں اور ہندوؤں سے رابطہ کیا۔ جلد ہی، گرودوارے پنجاب کے قصبوں اور دیہاتوں میں اس سرگرمی کا مرکز بن کر ابھرے ۔ گرودواروں کے مسلمانوں کی مدد کے لیے آگے آنے کی وجہ یہ ہے کہ سکھ برادری سکھ گروؤں کی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی تعلیم کی وجہ سے تقسیم کے دنوں کے زخم کو بھول چکی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ تقسیم ہند کے دوران پورے پنجاب میں مالیرکوٹلہ واحد جگہ ہے جہاں سے مسلمانوں نے ہجرت نہیں کی کیونکہ جب پورے پنجاب کو تشدد اور قتل و غارت کا سامنا تھا تو سکھوں نے مالیر کوٹلہ کے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا تھا۔ ملیرکوٹلہ اس وقت امن کا جزیرہ رہا جب دونوں طرف کا پورا پنجاب فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے جل رہا تھا۔

جن دیہاتوں میں مسجد کو کسی اور استعمال کے لیے تبدیل کیا گیا تھا اور مسلمانوں کے پاس نئی مسجد کے لیے زمین نہیں تھی، وہاں سکھوں اور ہندوؤں نے مفت زمین فراہم کی ۔ انہوں نے اس کے لیے چندہ اکٹھا کرنے اور ان کے لیے مساجد تعمیر کرنے میں مسلمانوں کی بھی مدد کی۔

عبدالشکور بتاتے ہیں کہ سب سے پہلے 1985 میں جے آئی ایچ نے یہ پہل کی تھی۔ بعد ازاں بہت سے دوسرے مسلم گروہوں نے بھی اس تحریک میں ہاتھ بٹایا۔ تبلیغی جماعت کے ارکان کے بار بار آنے سے بھی مسجد کی بحالی کی مہم کو تقویت ملی۔ کیرالہ کے کچھ مسلم گروپوں نے بھی اپنے فنڈز سے کئی مساجد تعمیر کیں۔

فی الحال، بھٹنڈہ ضلع کے بخت گڑھ گاؤں میں سکھ کسان امن دیپ سنگھ کی طرف سے عطیہ کردہ 250 مربع میٹر زمین پر ایک نئی مسجد کی تعمیر جاری ہے۔ اس مسجد کی تعمیر کے لئے بخت گڑھ کے رہائشیوں نے 2 لاکھ روپے جمع کئے ۔ پڑوسی دیہات کے مکینوں نے سیمنٹ اور اینٹیں فراہم کیں۔ امندیپ نے کچھ دن پہلے میڈیا والوں کو بتایا تھا کہ مسجد اگلی عید تک تیار ہو جائے گی۔

کانگریس کے ایک لیڈر جگ میل سنگھ نے جیتوال کلاں گاؤں میں مسجد کے لیے 1200 مربع گز زمین عطیہ کی ہے۔ خود ان کے خاندان نے بھی 2021 میں اس مسجد کی تعمیر کے لئے 51،000 روپے عطیہ دیا۔ جگمیل سے متاثر ہو کر دوسرے گاؤں والوں نے بھی اجتماعی طور پر پانچ لاکھ روپے عطیہ دیا۔ فی الحال یہ مسجد وقف بورڈ یا کسی دوسری تنظیم کی مدد کے بغیر زیر تعمیر ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین