!یکساں سول کوڈ: ’’ایک ملک ایک قانون ‘‘ کے پرفریب نعرے کی قلعی کھلنے لگی— نور اللہ جاوید

ہ ملک کے دیگر طبقات اور قبائلیوں کے عائلی قوانین یا پھر پرسنل لاز مقامی روایات پر مشتمل ہیں جب کہ مسلمانوں کے عائلی قوانین کا مآخذ قرآن و احادیث ہیں اور مسلمانوں کا عقیدہ اور ایمان ہے کہ قرآن و حدیث میں ذرہ برابر تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

0
253

نور اللہ جاوید

’یکساں سول کوڈ‘ کے نفاذکا مطالبہ کوئی نیا نہیں ہے، آزادی سے قبل 1940کی دہائی میں شادی، طلاق،نگہداشت، وراثت اور گود جیسے عائلی مسائل میں تمام شہریوں کے لیے یکساں قوانین سازی کی تحریکیں اور مطالبات شروع ہوگئے تھے۔1990کی دہائی تک خواتین کے حقوق کے لیے جدو جہدکرنے والی خواتین کی تنظیمیں اس کے لیے تحریکیں چلاتی تھیں اور ان کایہ خیال تھا کہ ملک میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کےلیے یکساں سول کوڈ کانفاذ ناگزیر ہے۔ تاہم 1990 کی دہائی میں رام جنم بھومی تحریک اور بابری مسجد کی شہادت کے بعد دائیں بازوں کی تنظیموں کے عروج کے ساتھ ہی یکساں سول کوڈ بی جے پی اور آر ایس ایس کا سیاسی ایجنڈابن گیا۔چنانچہ بائیں بازو کے زیر سایہ چلنے والی خواتین تنظیمیں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئیں اور پرسنل لاز میں اصلاحات کے مطالبے پر واپس آگئیں۔آئین ساز اسمبلی میں مسلم ممبران پارلیمنٹ کی شدید مخالفت کے باوجود دلتوں، قبائلیوں اور کمزور طبقات اور ان کی مذہبی آزادی کے تحفظ کے چیمپئن باباصاحب امبیڈکر نے آئین میں رہنمایانہ دفعات کے تحت دفعہ 44کو آئین کا حصہ بنادیا۔ 90کی دہائی تک ’’یکساں سول کوڈ ‘‘ کے نفاذ کا سوال سیکولر اور لبرل طبقے کی بدولت زندہ رہا اور وقتاً فوقتاً اس کے نفاذ کی طرف قدم بڑھانے کا ارادہ کیا گیا۔ پنڈت نہرو کے کابینہ کے پہلے وزیر قانون پاٹسکر آزادی کے ابتدائی سالوں میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی پرزور وحامی اور وکیل بن کر سامنے آئے تھے۔ 25اگست 1955 میں وزیر قانون مسٹر پاٹسکر نے آل انڈیا ریڈیو پر اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ’’پارلیمنٹ سے ہندو میرج ایکٹ ،سیول میرج ایکٹ اور اب ہندو قانون وراثت کو قانونی شکل دینے کا مقصد یہ ہے کہ آہستہ آہستہ ملک میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لیے راہ ہموار کی جائے‘‘۔
یہ سوال کافی اہم ہے کہ بابا صاحب امبیڈکر یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے حامی کیوں تھے، جبکہ برہمن وادی ذہنیت اور اس کی زہرناکی سے وہ واقف تھے۔ دوسری طرف اپنے شدت پسند خیالات کی وجہ سے مشہور آر ایس ایس کے دوسرے اور سب سے طویل (1940-1973) سرسنچالک رہے گرو گولوالکر یکساں سول کوڈ کے شدید مخالف تھے۔ گولوالکر نے آر ایس ایس کے انگریزی اخبار آرگنائزر کے مشہور ایڈیٹر کے آر ملکانی کو یکساں سول کوڈ سے متعلق انٹرویومیں جن خیالات کا اظہار کیا ہے آج اس پر کوئی یقین نہیں کرسکتا کہ یہ خیالات آر ایس ایس کے سرسنچالک کے ہیں۔آر ایس ایس آج ملک کی یکجہتی اور اتحاد کے لیے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کو ناگزیر سمجھتی ہے۔ ویسے یہ پورا انٹرویو پڑھنے کے قابل ہے۔ 25 اگست 1972 کے آرگنائزر کے شمارے میں شائع ہونے والے اس انٹرویو میں گولوالکر کہتے ہیں کہ ’’یکسانیت پیدا کرنے کی کوششیں کرنا زوال پذیر قوموں کا شیوہ ہے‘‘۔ملکانی سوال کرتے ہیں کہ کیا قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے یکسانیت کی ضرورت نہیں ہے؟ اس کے جواب میں گولوالکر کہتے ہیں ’’ہم آہنگی اور یکسانیت دو مختلف چیزیں ہیں۔ ہم آہنگی کے لیے یکسانیت ضروری نہیں ہے۔ ہندوستان میں ہمیشہ لامحدود تنوع رہا ہے۔ اس کے باوجود ہماری قوم زمانہ قدیم سے مضبوط اور منظم ہے۔ اتحاد کے لیے ہم آہنگی کی ضرورت ہے، یکسانیت کی نہیں۔میرا پختہ یقین ہے کہ یکسانیت قوموں کے زوال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ فطرت یکسانیت کو قبول نہیں کرتی۔ میں زندگی کے متنوع طریقوں کے تحفظ کے حق میں ہوں۔ ساتھ ہی ہمیں اس بات پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ یہ تنوع قوم کے اتحاد کو پروان چڑھائے۔ وہ قومی یکجہتی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے‘‘۔

ہمیں اس سوال پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اس وقت آر ایس ایس یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالف کیوں تھی اور آج حامی کیوں ہے؟ اپنے نظریاتی قائد کے خیالات سے انحراف کیوں کرنا پڑا ہے۔دراصل اس وقت یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا سوال سماجی اور معاشرتی اصلاحات سے جڑا ہوا تھا ۔اس لیے اس کے مطالبے کی قیادت خواتین کی تنظیمیں کرتی تھیں مگر آج یہ سوال سیاسی بن گیا ہے۔اگرچہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس کا مقصد خواتین کے ساتھ صنفی انصاف ہے دراصل اس کو سیاسی موضوع بنانے کے پیچھے دائیں بازو کے نفسیاتی خوف اور نظریاتی بالادستی کا خواب کارفرما ہے۔وہ یہ سمجھتے ہیں مسلمانوں میں ایک سے زائد شادی کا عام رواج ہے اس کی وجہ سے ان کی آبادی میں ہندوؤں کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہورہا ہے ۔دوسرا خوف مسلمانوں کا مذہبی شناخت پراصرار ہے۔برہمن وادیوں نے حکمت عملی کے ذریعہ ملک کی کئی دیگر اقلیتوں بالخصوص سکھ، جین، بدھشٹ اور اب قبائلیوں کی شناخت کو ختم کرنے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے بعد ان کی مذہبی شناخت کو ختم کیا جاسکتا ہے جب کہ یہ خیام خالی ہے۔جہاں تک ایک سے زائد شادی کا سوال ہے تو پروپیگنڈے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔مسلمانوں کے خلاف یہ نعرے لگائے گئے ’’ہم پانچ، ہمارے پچیس ‘‘ یا ہم چار، ہمارے چلے (چالیس) لاء کمیشن کی رپورٹ ہمیں بتاتی ہے کہ ملک کے تمام برادریوں میں تعدد ازدواج ہے، لیکن مسلمانوں میں سب سے کم ہے۔ قبائلیوں میں15.25فیصد، بدھسٹ میں 9.7 فیصدجین میں 6.72 ہندوؤں میں 5.8فیصداور مسلمانوں میں 5.7فیصد ۔سوال یہ بھی ہے کہ باضابطہ طور پر ایک سے زائد شادی کرکے دوسری بیوی کو مکمل حقوق دینا بہتر ہے یا پھر کسی خاتون س خفیہ شادی یا پھر ناجائز تعلقات قائم کرکے چھوڑ دینا بہتر ہے؟ شادی شدہ شخص کے لیو ان ریلیشن شپ سے متعلق سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس کے فیصلے خود تضادات کے شکار ہیں۔ حقوق نسواں کی وکیل فلاویا ایگنس کہتی ہیں کہ ’’یونیفارم سول کوڈ اگرچہ مسلمانوں کے خلاف ٹول کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ’’مسلم خواتین کی حالت ہندو عورتوں کی حالت سے زیادہ افسوسناک نہیں ہے۔‘‘ جس طرح کی خبریں آرہی ہیں کہ یکساں سول کوڈ سے قبائلیوں اور عیسائیوں کو الگ رکھنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے، اس سے صاف واضح ہوگیا ہے کہ ’’ایک ملک اور ایک قانون ‘‘کا نعرہ کھوکھلا اور صریح مسلم دشمنی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ابھی تو شروعات ہے جیسے جیسے لوک سبھا انتخابات کی تاریخ قریب آتی جائے گی ویسے ویسے ویسے ان کی نیت اور ان کا عمل بے نقاب ہوتا جائے گا۔

گزشتہ چھ دہائیوں سے ملک میں ہندو میرج ایکٹ نافذ ہے اور اس میں کئی مرتبہ ترامیم بھی ہوچکی ہیں مگر آج بھی یہ ایکٹ مکمل طور پر نافذ نہیں ہوسکا۔آج بھی ہندو خواتین کو اپنے والدین کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد میں وراثت کے حصول کے لیے جدو جہد کرنی پڑرہی ہے۔شمالی بھارت میں شادی کے لیے گئوتر کا ہونا لازمی ہے جب کہ جنوبی ہند میں شادی بیاہ کے الگ قوانین ہیں۔ماموں اور بھانجی کے درمیان نہ صرف شادی درست ہے بلکہ اگر ماموں نے رشتے کی پیش کش کردی تو اسے ٹھکرایا نہیں جا سکتا۔ اسی طرح قبائل کے یہاں شادی بیاہ، وراثت اور حضانت کے الگ قوانین ہیں ۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ملک کے الگ الگ حصوں میں آباد قبائلیوں کے اپنے اپنے پرسنل لاز ہیں ۔سنتھالی قبیلے کے لوگوں کے رسوم و رواج الگ ہیں اور شمال مشرقی ریاستوں میں آباد قبائل کے اپنے قوانین ہیں ۔چنانچہ یہی وہ حقائق ہیں جن کی وجہ سے سیاسی جماعتیں آج تک یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے سوال کو ٹالتی رہی ہیں۔کیوں کہ 142.86 کروڑ شہریوں کو ایک پرسنل لا پر متحد کرنا ممکن نہیں ہے۔لا کمیشن نے بھی 2018 میں واضح طور پر کہا کہ یونیفارم سول کوڈ نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی یہ مطلوب ہے۔اب جبکہ لوک سبھا کے انتخابات کو ایک سال سے بھی کم وقت رہ گیا ہے مرکزی حکومت نے لا کمیشن کو ایک بار پھر یکساں سول کوڈ کے لیے سرگرم کردیا ہے۔حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ اس نے اپنے دو بنیادی ایجنڈے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور کشمیر کے خصوصی اختیارات کو ختم کر دیا تو اب وہ اپنے تیسرے ایجنڈے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی طرف قدم بڑھا رہی ہے۔ایسے میں کئی بنیادی سوالات ہیں جن پر آج غور کیا جارہا ہے ۔پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ایک جامع یونیفارم سول کوڈ کی تدوین ممکن ہے جو معاشرے کے تمام طبقات کے لیے قابل قبول ہو اور جس میں کسی بھی مذہب کی بالادستی کی عکاسی نہ ہوتی ہو؟ سوال یہ بھی ہے کہ بی جے پی نے تبدیلی مذہب اور بین المذاہب شادیوں کو ’لو جہاد‘ کا نام دے کر ملک میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر رکھا ہے، ایسے میں کیا وہ ایسے یونیفارم سول کوڈ کو قبول کرے گی جس میں بین المذاہب شادیوں کی اجازت ہو گی؟ کیا مسلم خواتین کی طرح ہندو خواتین کی سوشل سیکورٹی کے لیے مہر کو لازمی کیا جائے گا؟ کیا طلاق دیے بغیر بیوی کو چھوڑ دینے کو جرائم میں شامل کیا جائے گا؟ کیا ہندو خواتین کو غیر منقولہ جائیداد میں بھی وراثت ملے گی؟

غور طلب بات یہ ہے کہ جب یکساں سول کوڈ سے ملک کی دیگر اقلیتیں عیسائی، بدھ، سکھ اور قبائلی متاثر ہوں گے تو اس کی مخالفت شدت کے ساتھ مسلمان ہی کیوں کرتے ہیں؟ کیا مسلمانوں کی مخالفت کی وجہ سے ہی بی جے پی کو اس کے نام پر پولرائزیشن کرنے کا موقع نہیں مل رہا ہے؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کو روکنے اور منطقی اور عقلی بنیادوں پر قائل کرنے کے لیے مسلم تنظیموں کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے اور جبکہ لا کمیشن نے ابھی صرف تجاویز مانگی ہیں اور جب کوئی مسودہ اس کے سامنےنہیں آیا ہے تو اس کے خلاف تحریک، جلسے جلوس اور نامنظور جیسی مہمات چلانے کی ضرورت کیا ہے؟ کیا اس کی وجہ سے فرقہ پرست قوتوں کو پولرائزیشن کا موقع فراہم نہیں ہوگا؟ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے یہ تو واضح ہے کہ ملک کے دیگر طبقات اور قبائلیوں کے عائلی قوانین یا پھر پرسنل لاز مقامی روایات پر مشتمل ہیں جب کہ مسلمانوں کے عائلی قوانین کا مآخذ قرآن و احادیث ہیں اور مسلمانوں کا عقیدہ اور ایمان ہے کہ قرآن و حدیث میں ذرہ برابر تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی سے قبل بھی اور اس کے بعد بھی عائلی قوانین کے تعلق سے مسلمان حساس رہے ہیں اور آئین کی رو سے حاصل کردہ اپنی مذہبی آزادی کابھر پور دفاع کیا ہے۔اگر صدق دلی کے ساتھ ملک میں دیگر تمام اقوام کے پرسنل لاز اور مسلم پرسنل لا کا تجزیاتی اور معروضی مطالعہ کیا جائے کہ کس پرسنل لا میں سب سے زیادہ صنفی مساوات ہیں تو ہر انصاف پسند شخص یہ اعتراف کرے گا مسلم پرسنل لا میں ہی صنفی مساوات کا سب سے زیادہ لحاظ رکھا گیا ہے۔ 1955 سے قبل تک ہندوؤں میں خواتین کو وراثت میں حصہ نہیں ملتا تھا۔اسی طرح اسلام میں شادی کو سوشل معاہدہ قرار دے کر خواتین کو بھی شوہر سے علیحدگی کے اختیارات دیے گئے ہیں ۔اسلام خواتین کو صرف والدین کی جائیداد میں وراثت نہیں دیتا بلکہ شوہر، بھائی اور بہن کی جائیداد میں بھی وارثت دیتا ہے اور اس ضمن میں شرائط اور ضابطے موجود ہیں۔

آزاد خیال سیکولر اور لبرل دانشوروں کی جانب سے سوالات کیے جا رہے ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ پر ابھی کوئی مسودہ سامنے نہیں آیا ہے تو پھر اس کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟ اسی طرح جب ایک سے زائد شادی کا رواج مسلم کمیونیٹی میں سب سے کم ہے تو اس کے لیے مسلمانوں کی جانب سے اصرار کیوں کیا جا رہا ہے؟ اس کے جواب میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس کہتے ہیں کہ مسلم تنظیمیں اس وقت کوئی تحریک نہیں چلا رہی ہیں۔ چونکہ لاکمیشن نے شہریوں سے یکساں سول کوڈ پر رائے طلب کی ہے اس لیے ہم پر امن شہری ہونے ناطے اپنے جذبات و خیالات سے کمیشن کو آگاہ کر رہے ہیں۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ جب مسودہ سامنے نہیں آیا تو اس یکساں سول کوڈ کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟ تو یہ سوچ اور نظریہ کسی فراڈ سے کم نہیں ہے۔ہم تو سرے سے ہی یکساں سول کوڈ کے مخالف ہیں تو مسودہ کا سوال کہاں سے اور کیسے آسکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ مسلم پرسنل لا کوئی رسم و رواج پر مبنی نہیں ہے کہ ہم مسودہ آنے کے بعد یہ کہیں گے کہ ہم دو قدم پیچھے ہٹ رہے ہیں اور آپ بھی دو قدم پیچھے ہٹیں اور اس میں ہمارے بھی چند قوانین شامل کرلیں۔ حکم راں جماعت کے لیڈروں اور اعلیٰ قائدین کے بیانات سے اب مطلع صاف ہوگیا ہے کہ ان کی منشا کیا ہے اور وہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ میں اتنی جلدی کیوں کر رہے ہیں۔ اس سوال پر کہ ایک سے زائد شادی مسلمانوں میں سب سے کم ہے تو اس کی بقا کے لیے مسلمان سب سے زیادہ تحریک کیوں چلارہے ہیں؟ قاسم رسول الیاس کہتے ہیں کہ اسلام ایک سے زائد شادی کو فروغ نہیں دیتا ہے بلکہ خاص مواقع اور حالات میں شرطوں کے ساتھ اس کی اجازت دیتا ہے ۔ایک سے زائد شادی کے بعد مرد کی ذمہ داری اور جواب دہی دگنی ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں ایک سے زائد شادی کی شرح سب سے کم ہے ۔مگر چونکہ مخصوص حالات اور مواقع پر سخت شرائط کے ساتھ مسلم پرسنل لا میں اس کی اجازت ہے اگر اس میں مزید شرائط عائد کردی جائیں تو معاشرہ میں جنسی بے راہ روی کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔قاسم رسول الیاس کہتے ہیں کہ مسلم پرسنل لا بورڈ صرف لا کمیشن کو اپنے احساسات سے آگاہ کرنے پر اکتفا نہیں کر رہا ہے بلکہ ہم سیاسی فضا ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی دیگر اقلیتوں اور قبائلیوں کے ساتھ اشتراک عمل کی بھی کوشش کررہے ہیں ۔

’’ایک ملک ایک قانون‘‘ کا نعرہ حقیقت یا فریب!

یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے پیچھے ایک سوچ کار فرما ہے کہ ایک ملک میں ایک سے زائد قوانین کی ضرورت کیوں ہے؟ آج ’’ایک ملک ایک قانون‘‘ کانعرہ دائیں بازو کی تنظیموں کا سب سے پسندیدہ نعرہ ہے۔اس پرفریب نعرے کی زد میں لبرل دانشور میں آجاتے ہیں اور وہ دائیں بازو کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اس کی آڑ میں ثقافتی اور تہذیبی بالادستی کے خواب کی تعبیر تلاش کی جارہی ہے۔ اس سوال کو بھی فراموش کر دیتے ہیں کہ آیا اس طرح کے نعرے بھارت کے آئین کے مطابق ہیں۔کیا بھارت کے آئین میں تحفظات کا کالم نہیں ہے؟ کیا عائلی قوانین کے علاوہ دیگر تمام قوانین ملک کے تمام شہریوں کے لیے یکساں طور پر نافذ ہیں؟ ان سوالوں کے تناظر میں ہم بھارت کے آئین کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ نعرہ فریب اور فراڈ سے کم نہیں ہے۔ دراصل بھارت کا آئین ہم آہنگی، اتحاد اور مذہبی آزادی کا متقاضی ہے۔ بھارت کے آئین میں کئی اہم برادریوں، طبقات اور بعض ریاستوں کو خصوصی تحفظات فراہم کیے گئے ہیں۔ آج جو منی پور فرقہ واریت کی آگ میں جل رہا ہے اس کے پیچھے بھی تحفظات کو ختم کرنے کے خدشات کار فرما ہیں۔ منی پور میں کوکی اور ناگا قبائلیوں کو خصوصی تحفظات حاصل ہیں۔ شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب کے لیے آئین میں جو ریزرویشن دیا گیا ہے اور بعد میں صدارتی آرڈی نینس کے ذریعہ اس کے تحت ریزرویشن پانے والوں کی جو تشریح کی گئی ہے اس میں واضح طور پر تفریق ہے تو پھر یہاں ایک ملک اور ایک قانون کا نظریہ نافذ کیوں نہیں ہوتا ہے؟ یہ جاننا ضروری ہے کہ جائیداد اور وراثت کے حقوق سے متعلق مختلف قوانین نہ صرف مختلف مذہبی برادریوں کے لیے ہیں بلکہ مختلف ریاستوں کے لیے بھی ہیں۔ شمال مشرقی ریاستوں جیسے ناگالینڈ اور میزورم کے اپنے ذاتی قوانین ہیں جو ان کے رسم و رواج کی پیروی کرتے ہیں۔آئین کے چھٹے شیڈول میں کئی ریاستوں کو کچھ تحفظات فراہم کیا گیا ہے۔آرٹیکل 371 (A) سے (I) اور چھٹا شیڈول عائلی قانون کے حوالے سے ریاست آسام، ناگالینڈ، میزورم، آندھرا پردیش اور گوا کو کچھ تحفظات یا مستثنیات فراہم کرتا ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ضابطہ فوجداری طریقہ کار (CrPC) 1973 ریاست ناگالینڈ اور قبائلی علاقوں پر لاگو نہیں ہوتا۔ کچھ قبائلی قوانین در حقیقت خاندانی تنظیموں کے مادری نظام کی حفاظت کرتے ہیں، ان میں سے کچھ ایسی دفعات کو بھی محفوظ رکھتے ہیں جو خواتین کے مفاد میں نہیں ہیں۔ مزید دفعات ہیں جو عائلی قوانین کے معاملات پر مکمل خود مختاری کی اجازت دیتی ہیں۔ ان کا فیصلہ مقامی پنچایتیں بھی کر سکتی ہیں۔ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے حامی گوا کی مثال دیتے ہیں کہ وہاں گزشتہ دو دہائیوں سے یکساں سول کوڈ کا نفاذ ہے۔اسی طرح ایک فریب یہ بھی دیا جاتا ہے کہ گوا میں 1867سے ہی یکساں سول کوڈ نافذ ہے تو ملک کے دیگر حصوں میں کیوں نہیں؟

مگر یہ نصف سچائی ہے کیونکہ عیسائیوں کو کچھ تحفظات حاصل ہیں۔ لا کمیشن نے 2018 میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ثقافتی تنوع پر اس حد تک سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا کہ یکسانیت کی ہماری خواہش خود ہی قوم کی علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ بن جائے۔کیا ایک جامع یونیفارم سول کوڈ کی تدوین ممکن ہے؟ہم نے ابتدا میں یہ سوال قائم کیا تھا کہ کیا ایک جامع یونیفارم سول کوڈ کی تدوین ممکن ہے؟ گزشتہ ستر سالوں اور نوآبادیاتی دور کے تجربات بتاتے ہیں کہ بھارت جیسے متنوع تہذیب و ثقافت کے حامل ملک میں جامع یونیفارم سول کوڈ کا نفاذ ممکن ہی نہیں ہے۔

اگرچہ میڈیا کے ذریعہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ مودی حکومت کے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت صرف مسلمان کر رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں سے کہیں زیادہ ملک کی آٹھ فیصد قبائلی اس کی پرزور مخالفت کررہے ہیں۔ سکھ برادری نے یکساں سول کوڈ کو اپنی شناخت اور تہذیبی بالادستی سے جوڑ دیا ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے جو رد عمل دیے ہیں اس سے بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ شاید میڈیا میں یہ خبر بڑے پیمانے پر نہیں چلائی گئی ہے کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کو لے کر آر ایس ایس کا ایک ذیلی ادارہ ’’وانواسی کلیان آشرم‘‘ جو ملک کے دور دراز علاقوں میں درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے، اسی کو تحفظات حاصل ہیں۔ ونواسی کلیان آشرم اپنے سرپرستوں کی پالیسی کے خلاف لا کمیشن کو خط لکھنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ونواسی کلیان آشرم کو اندیشہ ہے کہ اگر یکساں سول کوڈ کا نفاذ ہوتا ہے تو اس نے گزشتہ کئی سالوں سے قبائل میں جو کام کیے ہیں اور انہیں ہندو تہذیب و ثقافت کا حصہ بنانے کے لیے جو محنتیں کی ہیں ان سب پر پانی پھر جائے گا اور قبائلی اپنی تہذیبی و ثقافتی شناخت کے سوال پر ہندوتوا سے متنفر ہو جائیں گے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ قبائلی خواتین کی حالت قابل رحم ہے، بالخصوص وراثت کی تقسیم صنفی امتیازات پر مبنی ہیں۔ قبائلیوں میں کم عمری میں شادی کا عام مزاج ہے۔ ایک خاتون سے کئی کئی مردوں کی شادی کی قبیح رسم بھی ان کے یہاں موجود ہے مگر ماہرین بتاتے ہیں کہ اگر یہ اصلاحات قانون کے ذریعہ کی جائیں گی تو قبائلیوں مزاحمت پر آمادہ ہوجائیں گے۔قبائلیوں کی مشترکہ تنظیم راشٹریہ آدیواسی ایکتا پریشد نے سپریم کورٹ میں دائر عرضی میں کہا ہے کہ اس وقت ملک بھر میں 6,743 قبائلی برادریاں ہیں جن کے اپنے عائلی قوانین ہیں اور یہ قوانین و روایات ان کی تہذیبی شناخت سے وابستہ ہیں۔ ان میں سے کسی بھی شناخت پر ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ قبائلیوں کے لیے ناقابل قبول ہوگا۔ شمال مشرقی ریاستوں میں ناگالینڈ، میزورم اور میگھالیہ کے وزرائے اعلیٰ نے جو بیانات جاری کیے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قبائلی اس کے خلاف سخت مزاحمت کریں گے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ منی پور فرقہ واریت کی آگ میں جھلس رہا ہے، دو مہینے سے زائد عرصہ ہوا، قتل و غارت گری کا سلسلہ نہیں رک رہا ہے، حکومت شمال مشرقی ریاستوں کو مزید فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے کی متحمل ہوسکتی ہے؟ اس سوال پر کہ جب بھی یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کے امکان پر بحث ہوتی ہے تو شمال مشرقی ریاستوں میں قبائلیوں کی طرف سے مزاحمت کیوں ہوتی ہے؟ پروفیسر ٹوپی بسر کہتی ہیں کہ شمال مشرق میں قبائل کے سماجی و ثقافتی سیاق و سباق ہر قبیلے کے لیے بہت منفرد اور مخصوص ہیں۔ یہاں تک کہ زمین کے عمومی قوانین کے بتدریج متعارف ہونے سے بھی موجودہ نظام میں خلل نہیں پڑا ہے۔جب تنازعات کے حل کی بات آتی ہے تو قبائلی روایتی قوانین کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ طریقہ کار ان غریبوں کے لیے انصاف کے حصول کا ایک آسان اور سستا ذریعہ ہے۔ وہ مہنگی قانونی راہ اختیار نہیں کرسکتے ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ اروناچل پردیش میں آزاد عدلیہ کی موجودگی کے باوجود، گاون براس اور گاون برِس جیسے ولیج کونسل ہیں۔ یہی کونسل عدلیہ کا کام کرتی ہے۔یہ صورت حال روایتی قوانین کی سماجی قبولیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

سکھ کمیونیٹی اس وقت اپنی تہذیبی اور مذہبی شناخت کے حوالے سے بہت ہی زیادہ حساس ہے، کیوں کہ گزشتہ دہائیوں میں سکھ کمیونیٹی کی تہذیبی و ثقافتی شناخت کو ہندوازم میں ضم کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے اور یہ باور کرایا گیا ہے کہ سکھ کمیونیٹی ہندوازم کا ایک ذیلی مذہب ہے جبکہ یہ حقائق کے برخلاف ہے۔چنانچہ وزیرا عظم مودی کے ذریعہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ اور لا کمیشن کے ذریعہ رائے طلب کیے جانے کے بعد سکھوں کا سب سے بڑا گرودوارہ کمیونیٹی شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی نے جو رد عمل دیا ہے اس سے مرکزی حکومت ششدر ہے۔ کمیٹی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اس کو قبول نہیں کرے گی۔کولکاتا میں مقیم سکھ کمیونیٹی کے سینئر رہنما اور صحافی اوتار سنگھ نے ہفت روزہ دعوت کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے عائلی قوانین اور ہندوؤں کے عائلی قوانین میں بہت زیادہ مماثلت ہے مگر اس کے باوجود کچھ معاملات میں ہماری اپنی روایات اور شناخت ہے جو ہمیں ہندو ازم سے الگ کرتی ہے۔اس کے علاوہ ہمارا ماننا ہے کہ کسی بھی مذہب کے عائلی قوانین اس کی تہذیبی اور سماجی شناخت سے وابستہ ہوتے ہیں، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کی ہرمحاذ پر مخالفت کریں گے اور ہم ملک کی دیگر اقلیتوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

عیسائی تنظیموں نے بھی بیک آواز یو سی سی کو رد کیا ہے۔ پونے میں مقیم ایڈیٹر، استاد جوزف ایم پنٹو کہتے ہیں کہ جب تک حکومت پادریوں اور عام شہریوں سے مشورہ نہیں کرتی، یو سی سی کو عیسائی پرسنل لا میں ایک مسلط اور مداخلت کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یو سی سی، وراثت، اقلیتی تعلیمی اداروں کو چلانے کے حق اور آئین کے ذریعے محفوظ تمام اقلیتوں کو متاثر کرے گا۔ اسے کسی کے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی چھیننے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ پروٹسٹنٹ عیسائی فرقے کے پادری جیمز رینبھیس کے مطابق ان فرقوں میں سے ہر ایک کی اپنی الگ ثقافت اور روایات ہیں۔ ان کی عبادت کے طریقے بھی مختلف ہیں۔ اگر یو سی سی کو لاگو کیا گیا تو بہت بڑی رکاوٹیں آئیں گی۔ ہم اس پر اعتراض کریں گے۔ عیسائی فرقے سے تعلق رکھنے والے مشہور وکیل سبرینا ڈیوڈ کہتی ہیں کہ اس وقت یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس سے ملک میں متنوع کمیونٹیز کی ثقافت اور رہن سہن کے انداز متاثر ہوں گے۔ ملک مختلف ثقافتوں اور روایات کا متنوع امتزاج ہے۔ یو سی سی تنوع میں اتحاد کو ختم کردے گا، وہی دھاگہ جو ملک کو باندھ رہا ہے۔ ہندوستان جیسے متنوع ملک میں ایسا قانون کام نہیں کرے گا۔ دنیا اپنی کثیر تنوع کی وجہ سے ہندوستان کی طرف دیکھتی ہے۔ ایسا قانون چرچ کے قوانین میں مداخلت کرے گا جہاں شادی کو ایک رسم کے طور پر دیکھا جاتا ہے نہ کہ ایک معاہدے کے طور پر۔ میں ایسے قانون کی حمایت نہیں کرتی۔ ہمیں ایک دوسرے کی ثقافت کا احترام کرنا چاہیے۔ دوسری ثقافتوں کی انفرادیت کو ختم کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ یہ کئی دہائیوں سے ایک ساتھ موجود ہیں۔

مذکورہ بالا حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ یکسانیت قائم کرنے کی کوئی بھی کوشش ملک میں اتحاد و سلامتی کے بجائے انتشار اور اقلیتوں اور قبائلیوں کے درمیان عدم تحفظ کے احساسات پیدا کرے گی جو ملک کی سالمیت کے لیے کسی بھی صورت میں جائز ثابت نہیں ہوگا ۔یونیفارم سیول کوذ کے نفاذ کی وکالت کرنے والوں سے یہ سوال بھی پوچھانا چاہیے کہ دستور ہند کے بنیادی آرٹیکل زیادہ اہم ہے یا پھر ہدایتی دفعات؟ اگر ہدایتی دفعات کے نفاذ کی وجہ سے دستور ہند کے ذریعہ فراہم کردہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو پھر کس کو ترجیح دی جائے گی؟ تیسرا اور آخری سوال یہ بھی ہے کہ ملک میں گزشتہ ستر سالوں سے یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کے بغیر ہم دنیا کے بہترین جمہوری ملک کا درجہ حاصل کرسکتے ہیں تو پھر اب کیوں اس کی پرزور وکالت کی جا رہی ہے؟ کیا پر امن معاشرہ کے قیام کے لیے یونیفارم سول کوڈکا نفاذ ہی واحد ذریعہ ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جس کا جواب دیے بغیر ہی یونیفارم سیول کے نفاذ کی وکالت کی جارہی ہے۔
***