باندرہ ٹرمینس پر ہندو لڑکی سے بات کرنے پر مسلم نوجوان موب لنچنگ

ممبئی میں ایک چونکا دینے والے واقعے میں یہاں باندرہ ٹرمینس اسٹیشن پر ایک ہندو لڑکی سے بات کرنے پر ایک مسلم نوجوان کو نام نہاد 'اخلاقی پولیس' کے ہجوم نے زد و کوب کیا

0
48

مبئی: ممبئی میں ایک چونکا دینے والے واقعے میں یہاں باندرہ ٹرمینس اسٹیشن پر ایک ہندو لڑکی سے بات کرنے پر ایک مسلم نوجوان کو نام نہاد ‘اخلاقی پولیس’ کے ہجوم نے زد و کوب کیا۔

اس واقعے کی ویڈیوز منگل کو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ اس پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ایم ایل اے رئیس خان اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی ترجمان وارث پٹھان نے اس معاملے میں سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

بغیر تاریخ والی اس ویڈیو میں مکمل بازو والی سرخ ٹی شرٹ اور براؤن ٹراؤزر میں ملبوس نامعلوم شخص کو گالیاں دی جاتی ہیں، تھپڑ مارا جاتا ہے، لاتیں ماری جاتی ہیں اور دھکا دیا جاتا ہے۔ جبکہ نامعلوم لڑکی حملہ آوروں سے رکنے اور ’اسے جانے دو‘ کی التجا کرتی نظر آتی ہے۔

برقع پوش لڑکی نے ہجوم سے التجا کی ’اسے مت مارو‘، جب کہ وہ اسے اس کا کالر اور بالوں سے پکڑ کر اور ‘جے شری رام’ کا نعرہ لگا کر باندرہ ٹرمینس سے باہر لے گئے۔

ویڈیو میں موجود دیگر آوازوں نے دعویٰ کیا کہ لڑکی کی عمر محض 16 سال تھی، جب کہ کچھ دیگر نے سوشل میڈیا پر دلیل دی کہ وہ مبینہ طور پر راجستھان سے ایک ایسے شخص کے ساتھ فرار ہوئی ہے جس کے مذموم عزائم ہو سکتے ہیں۔

تھانے کے بھیونڈی شہر سے ایس پی کے ایم ایل اے پٹھان نے کہا ’’باندرہ اسٹیشن پر لو جہاد کے نام پر ہندوتوا کے غنڈوں نے ایک نہتے مسلم لڑکے کو بے رحمی سے پیٹا۔ آج ہم آزادی کے 76 سال کا جشن منا رہے ہیں! ہمارے شہداء نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مسلمانوں کو یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا۔‘‘

انہوں نے ممبئی پولیس سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کا فوری نوٹس لیا جائے اور اس میں ملوث تمام غنڈوں کو گرفتار کر کے انہیں سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔

شیخ نے کہا ’’باندرہ ٹرمینس میں ہونے والے ہولناک واقعے سے بہت پریشان ہوں۔ ہمارے معاشرے میں تشدد اور نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ مذہب یا کسی اور بہانے سے تشدد کی ایسی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔ حکام کو پہلے ویڈیو کی تصدیق کرنی چاہیے اور مناسب کارروائی کرنی چاہیے۔‘‘

پرتشدد ہجوم میں سے کچھ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک نابالغ ہندو لڑکی کو اس شخص کے چنگل سے آزاد کرایا ہے اور دوسروں نے ‘لو جہاد بند کرو’ جیسے نعرے لگائے۔