بھارت اور عرب دنیا میں تعاون کا ایک نیا دور

0
86

عبدالرحمٰن الراشد

مرحوم سعودی وزیر اور ادبی شخصیت غازی القصیبی کے علاوہ میرے ایک اور خاص قریبی دوست، بحرین کے سابق وزیر برائے ترقی و صنعت یوسف الشیراوی بھی انتقال کر چکے ہیں۔ الشیراوی ہمیں باور کرایا کرتے تھے کہ ’’ہندوستان آپ کو حیران کرنے سے باز نہیں آئے گا ، کیونکہ یہ مستقبل کی نمایندگی کرتا ہے‘‘۔ 90 کی دہائی کے اواخر میں، ہم میں سے کسی نے بھی ان کے ویژن کا ادراک نہیں کیا تھا یا ان کی توقعات کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔

الشیراوی کی پیشین گوئی کے بارے میں ہمارے شکوک وشبہات بھارت کو درپیش معاشی چیلنجوں کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے ، خاص طور پر جب یہ پچھلی صدی کے آخر میں آگے بڑھ رہا تھا۔ مزید برآں، ہندوستان کی متنوع لسانی اور مذہبی برادریوں کے درمیان ممکنہ داخلی تنازعات کے بارے میں خدشات تھے جو ممکنہ طور پر ٹوٹ پھوٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔دوسری جانب الشیراوی کی اُمید کی جڑیں 1999 میں بھارتی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اصلاحاتی پروگرام سے وابستہ تھیں۔اب ایک چوتھائی صدی ہونے کو ہے اور الشیراوی کی پیشین گوئی اور اصلاحاتی منصوبے کی کامیابی درست ثابت ہورہی ہے۔

بھارت نے ایک قابل ذکر تبدیلی حاصل کی ہے اور خود کو چین اور امریکا کے ساتھ دنیا کی تین بڑی معیشتوں میں سے ایک میں شامل کر لیا ہے۔ بھارت کی حالیہ کامیابیوں کا موازنہ برطانوی سلطنت کی ایک اہم کالونی کے طور پر اس کے تاریخی کردار سے کرنا واقعی حیرت انگیز ہے ، جس نے کبھی عرب دنیا کے ایک اہم حصے کا انتظام کیا تھا۔

جب میں 9 سے 10 ستمبر، 2023 تک دہلی میں ہونے والے جی 20 سربراہ اجلاس میں شرکت کررہا تھا تو یہ خیالات میرے ذہن پر چھائے ہوئے تھے۔امریکیوں اور چینیوں کے زیادہ بلند آہنگ اورآواز اٹھانے والے نقطہ نظر کے برعکس ، ہندوستانی مختلف شعبوں میں اپنی پیش رفت کے بارے میں نسبتاً خاموشی برقرار رکھتے ہیں۔ایک اور اُبھرتی ہوئی عالمی طاقت چین کی طرح بھارت بھی بیجنگ کے بیلٹ اور روڈ میگا پروجیکٹ کے ہم پلہ پرجوش منصوبوں کو فروغ دے رہا ہے۔

دہلی کے اس اقدام، جسے مشرق مغرب راہداری (ایسٹ ویسٹ کوریڈور) کا نام دیا گیا ہے، کا اعلان وزیراعظم نریندر مودی نے سمٹ کے دوران میں کیا ہے۔اس پرجوش منصوبے میں دہلی کو الریاض، دیگر بڑے عرب شہروں اور یورپ سے جوڑنے والی ریلوے لائن کی تعمیر شامل ہے۔

تاریخی طور پر عربوں نے ہندوستانیوں کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھے ہیں اور آج 80 لاکھ سے زیادہ ہندوستانی جی سی سی (خلیج تعاون کونسل) کے ممالک میں رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں۔ یہ ہندوستانی تارکین وطن خطے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں ، ان کی جانب سے ماہانہ رقم کی منتقلی بھارت کی کل غیر ملکی ترسیلاتِ زر کا قریبا نصف ہے۔

مزید برآں، بھارت، توانائی کا دنیا میں چھٹا سب سے بڑا صارف ہونے کے ناتے، اپنی ایندھن کی درآمدات کے ایک تہائی کے لیے جی سی سی ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ بھارت کی معیشت مستحکم ترقی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور ایندھن کی کھپت میں مزید اضافے کی توقع ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ کامیابیاں اصلاحاتی منصوبے کے ابتدائی نتائج کی نمائندگی کرتی ہیں جس کی میرے مرحوم دوست الشیراوی کی پیشین گوئی کی تھی۔ اس منصوبے کی کامیابی کا ایک اور اہم اشارہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی ہے جو چین اور امریکا دونوں سے آگے ہے۔

سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو امریکامختلف شعبوں میں خاص طور پر اقتصادی اور سیاسی میدانوں میں بھارت کے پرجوش منصوبوں کی فعال طور پر حمایت کر رہا ہے۔ یہ واضح ہے کہ واشنگٹن کا مقصد خاص طور پر مشرقِ اوسط میں چین کے لیے ایک مضبوط عالمی حریف پیدا کرنا ہے۔

دریں اثنا، واشنگٹن کی حوصلہ افزائی کے باوجود، بالخصوص چین کے ساتھ اس کے پیچیدہ تعلقات کے پیش نظر، دہلی اپنے عزائم پر ثابت قدمی سے عمل پیرا ہے۔ سرحدی تنازعات، فوجی جھڑپوں اور معاشی مخاصمت نے بھارت اور چین کے درمیان باہمی عدم اعتماد کے احساس کو فروغ دیا ہے، جس سے ان کے تعلقات میں تناؤ آیا ہے۔

مزید برآں، کئی جغرافیائی سیاسی عوامل چین-بھارت دشمنی کی شدت میں کردار ادا کرتے ہیں۔ بھارت دنیا کا ساتواں سب سے بڑا زمینی رقبہ رکھتا ہے لیکن سب سے زیادہ آبادی کا حامل ہے، جبکہ چین رقبے کے لحاظ سے تیسرے اور آبادی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک سعودی عرب کے ساتھ خصوصی تعلقات استوار کرنے اور برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک اور متعلقہ معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کے بارے میں کافی بحث ہوئی ہے ، جو 2014 سے دہلی میں وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہیں۔ انھیں ایک ہندو بنیاد پرست ہونے اور عربوں اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز رویہ اپنانے کے الزامات کا سامنا ہے۔ تاہم، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ اگرچہ وہ ابتدائی طور پر عرب خطے کے بارے میں کچھ محدود تفہیم رکھتے تھے، لیکن یہ واضح ہو گیا ہے کہ انھوں نے جلد ہی خود کو ڈھال لیا اور عرب دنیا کے سامنے کھل گئے۔لہٰذا اس طرح کے الزامات انتہا پسندوں کی جانب سے لگائے جاتے ہیں جن کا مقصد کسی بھی قیمت پر ان کا تشخص خراب کرنا ہے۔مودی نے جی سی سی ممالک کے ساتھ خاص طور پر قریبی تعلقات استوار کیے ہیں۔اس کا بنیادی سبب تو خطے میں ہندوستانی تارکین وطن برادری اور دہلی اور خلیج عرب کے مابین تجارت کے کافی حجم ہے۔چناں چہ نریندر مودی خطۂ خلیج سے قریب ترین تعلقات رکھنے والے بھارتی عہدہ دار کی حیثیت سے تاریخی طور پر اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور یہ ان کے پیشروؤں کے بالکل برعکس ہے کیونکہ وہ زیادہ تر دور دراز کے تعلقات ہی رکھتے تھے۔

تاریخی طور پر جی سی سی ممالک اور پاکستان کے درمیان مضبوط تعلقات جی سی سی اور دہلی کے درمیان قریبی تعلقات کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ رہے ہیں کیونکہ پاکستان کو بھارت کا روایتی دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ مزید برآں، فرقہ وارانہ کشیدگی کبھی کبھار خود ہندوستان کے اندر بھی پیدا ہوتی ہے، خاص طور پر مسلم اقلیت اور دیگر مذہبی گروہوں کے درمیان۔ اس بات کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کا تصور نے معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ تصوربیرونی ذرائع سے شروع ہوتا ہے لیکن بھارت کے اندر اثر انداز ہوتا ہے۔

اس کے باوجود جی سی سی نے دونوں پڑوسی ممالک اور بھارت نے ایک دوسرے کی سیاسی خودمختاری اور انتخاب کا احترام کرنے میں مشترکہ بنیاد تلاش کی ہے۔ اس نقطہ نظر کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ جی سی سی ممالک کے تعلقات اور اسرائیل کے ساتھ بھارت کے تزویراتی تعلقات نیز اس کے ایران کے ساتھ تعلقات سے ملتے جلتے ہیں۔ اس طرح کے تعلقات کا دہلی اور جی سی سی ممالک دونوں فریقوں کو احترام کرنا چاہیے بشرطیکہ وہ کسی بھی فریق کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچائیں۔

اس کے علاوہ مودی اب سمجھتے ہیں کہ انتہا پسندی کسی ایک مذہبی گروہ تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ان کے ملک میں دیگر نظریات کے پیروکاروں میں بھی پائی جا سکتی ہے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ انتہاپسندی نہ صرف بھارت بلکہ خود مسلمانوں سمیت پوری دنیا کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ان کے خیال میں اس مسئلے کا حل اجتماعی طور پر انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کی عالمی کوششوں میں مضمر ہے۔

یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں سعودی عرب اہم کردار ادا کر سکتا ہے، خاص طور پر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ بھارت دنیا بھر میں مسلمانوں کی تیسری سب سے بڑی آبادی پر فخر کرتا ہے، جس کی مسلم آبادی قریباً 20 کروڑ ہے اور وہ مسلم دنیا میں صرف انڈونیشیا اور پاکستان سے پیچھے ہے۔

بھارت نے اپنے آپ کو ایک مستحکم قوم کے طور پر مضبوطی سے قائم کیا ہے اور وہ اپنی گنجان آباد سرحدوں کے اندر مختلف مذہبی اور نسلی پس منظر کے درمیان کامیاب بقائے باہمی کی روشن مثال کے طور پر کام کر رہا ہے۔اس کے شہریوں نے متعدد اختلافات سے بالاترہو کر اجتماعی طور پر ایک قابل ذکر بیداری کے ساتھ قوم کو آگے بڑھایا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ 1999 کے اصلاحاتی منصوبے سے بہت پہلے ہی بھارت نے اپنی آزادی کے بعد 1950 کی دہائی کے اوائل میں قومی احیاء کے ابتدائی مرحلے کا آغاز کیا تھا۔ اس وقت بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے پہلے سات قومی تکنیکی اداروں کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کے بعد بزنس ایڈمنسٹریشن میں مہارت رکھنے والے چھے اضافی ادارے قائم کیے گئے تھے۔

تاہم، گذشتہ کئی سال سے جاری انتظامی چیلنجوں کے باوصف ان ابتدائی اقدامات کو صرف پچھلی دو دہائیوں میں پھلنے پھولنے کا موقع ملا اور اب یہ ثمربار ہورہے ہیں۔ یہ تبدیلی بھارت کے ہائی ٹیک ماہرین کی ایک بڑی تعداد سے واضح ہے جو اب امریکا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں اہم عہدوں پر فائز ہیں اور ساتھ خود بھارت کے اندر بھی ہائی ٹیک انقلاب برپا ہورہا ہے۔