مہاراشٹرکے ستارہ میں فرقہ وارانہ تشدد۔ایک کی موت۔بی جے پی لیڈر پر دنگا بھڑکانے کا الزام

اتوار کی رات بھڑکے تشدد میں ایک مسلم نوجوان کی موت ،دس سے زائد افراد زخمی،قابل اعتراض پوسٹ کے بعد شروع ہوا تنازعہ

0
75

اتوار کی رات مہاراشٹر کے ستارہ ضلع میں “قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹ” سے شروع ہونے والے فرقہ وارانہ تنازعہ کے دوران ایک مسلم نوجوان کی موت ہو گئی، جبکہ دس دیگر زخمی ہوئے۔متاثرہ نوجوان کے اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے اس پورے تشدد کے لئے بی جے پی کے ریاستی نائب صدر کو ذمہ دار قرار دیا ہے ۔

فرقہ وارانہ تشدد کا یہ واقعہ ج ستارا ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 50 کلومیٹر اور پونے سے 160 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پوسیساولی گاؤں کا ہے۔

مکتوب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق علاقے کے لوگوں اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہندوتوا گروپوں نے، ایک بی جے پی لیڈر کی حمایت سے، جان بوجھ کر مسلم اکثریتی علاقے پر حملہ کیا۔ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سوشل میڈیا پوسٹ کے حوالے سے مقدمہ درست ہے، جب کہ اس میں اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ ملزم کا فون ہیک کر کے کسی اور نے پوسٹ کیا ہو۔

خاندان کے افراد اور مقامی مسلمانوں نے نوجوان کی لاش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، تشدد کے سلسلے میں بی جے پی کے ریاستی نائب صدر وکرم پااسکر سمیت پانچ ہندوتوا لیڈروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

مقامی لوگوں کے مطابق، دائیں بازو کے گروپ نے ایک مسجد پر بھی حملہ کیا، جس میں ایک مسلمان گروپ کو نشانہ بنایا گیا جو دوسرے شہر سے آئے تھے۔ مسجد میں حملہ کرنے والے ایک مسلمان لڑکے کو کراڈ ٹاؤن کے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اس دوران ہجوم نے مسلمانوں کے دو گھروں کو بھی آگ کے حوالے کر دی۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ریاستی ورکنگ پریزیڈنٹ ڈاکٹر غفار قادری نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا، “ایک ہندوتوا ہجوم نے سوشیل میڈیا پوسٹ پر پوسیوالی میں مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنایا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس حملے میں ایک مسلم نوجوان کی موت ہو گئی ، جبکہ تین دیگر شدید زخمی ہیں اور فی الحال اسپتال میں داخل ہیں۔

قادری نے تشویش کا اظہار کیا کہ اس طرح کے واقعات کا مقصد برادریوں کے درمیان دشمنی اور نفرت کو ہوا دینا ہے۔

مزید برآں، قادری نے اس واقعہ میں بی جے پی لیڈر وکرم پاوسکر کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اے آئی ایم آئی ایم کا ایک وفد گاؤں کا دورہ کرے گا اور متوفی کے اہل خانہ سے تعزیت کرے گا۔

واضح رہے کہ ستارہ ضلع انتظامیہ نے احتیاطی اقدام کے طور پر خطے میں انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا ہے۔انتظامیہ نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر عوام سے اپیل بھی پوسٹ کی ہے۔

ستارہ کے ضلع کلکٹر جتیندر دودی اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیر شیخ نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “ستارا ضلع میں کشیدگی کے پس منظر میں، ضلع انتظامیہ ستارہ ضلع کے شہریوں سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ کسی بھی افواہ پر یقین نہ کریں۔ لوگ سوشل میڈیا پر کوئی بھی ایسا مواد پوسٹ کرنے سے گریز کریں جو ممکنہ طور پر فرقہ وارانہ فساد کا باعث بن سکتا ہے اور امن و امان میں خلل ڈال سکتا ہے۔ لوگ ہوشیار رہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا علم ہونے پر انتظامیہ اور پولیس کو اطلاع دیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک مقامی شخص نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ، “حالیہ دنوں میں، کچھ مسلم لڑکوں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس کو ہیک کیا گیا تھا، اور ان سے ’ہندو مخالف مواد‘ شیئر کیا گیا تھا۔ تاہم، ہیکرز کی شناخت غیر مصدقہ ہے۔اے آئی ایم آئی ایم مہاراشٹر کے ریاستی ورکنگ صدر ڈاکٹر غفار قادری نے بھی ایسا ہی الزام لگایا۔