Thursday, May 30, 2024
homeخصوصی کالمعام آدمی پارٹی بی جے پی سے بھی زیادہ خطرناک کھیل رہی...

عام آدمی پارٹی بی جے پی سے بھی زیادہ خطرناک کھیل رہی ہے

تحریر:انل جین

عام آدمی پارٹی پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی ’بی ٹیم‘ ہونے یا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے گود لیے ہوئے بچے ہونے کے الزام یونہی نہیں لگتے ہیں۔ خود عام آدمی پارٹی بھی موقع -موقع پر اپنے طرز عمل سے ان الزامات کی تصدیق کرتی رہتی ہے۔ اس وقت وہ فرقہ وارانہ فسادات کے بعد تجاوزات ہٹانے کے نام پر دہلی کے جہانگیر پوری علاقے کے مکینوں کے مکانات اور دکانوں کو مسمار کرنے کے معاملے میں بھی یہی کر رہی ہے۔

دہلی میں گزشتہ ساڑھے سات سال سے عام آدمی پارٹی کی حکومت چل رہی ہے۔ مسلم کمیونٹی کی یکطرفہ حمایت نے بھی گزشتہ دو اسمبلی انتخابات میں حاصل ہونے والی بھاری اکثریت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے باوجود اس نے ہر موقع پر اس بات کا خیال رکھا ہے کہ ان پر ایک ہمہ گیر جماعت یا مسلمانوں کا خیر خواہ ہونے کا ’الزام‘ نہ لگے۔ یہی نہیں بلکہ کئی مواقع پر اپنی سیاسی رسومات کے ذریعے یہ ظاہر کرنے میں بھی پیچھے نہیں رہی کہ یہ ایک ایسی جماعت ہے جو ہندو مفادات کا خیال رکھتی ہے اور ان کے مذہبی عقائد کا بی جے پی سے زیادہ احترام کرتی ہے۔

اس بار ہنومان جینتی کے موقع پر عام آدمی پارٹی نے بھی جہانگیر پوری علاقے میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد پر بالکل اسی طرح خاموشی اختیار کی، جس طرح ڈھائی سال قبل شہریت ترمیمی قانون کے خلاف تحریک کے دوران شاہین باغ اندولن کے وقت غیر جانبدار رہی۔یا اس کے بعد دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات پر خاموش رہی تھی یا کورونا وبا کے دوران مرکزی سرکار اور بی جے پی کے سر میں سر ملاتے ہوئے تبلیغی جماعت کے بہانے مسلمانوں کو کورونا پھیلانے کے لئے ذمہ دار ٹھہرارہی تھی ۔

جہانگیر پوری میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد جب بی جے پی کی حکومت والی دہلی میونسپل کارپوریشن نے دہلی پولیس کی مدد سے اس علاقے کے مکینوں کے مکانات اور دکانوں کو بلڈوزر سے روندنا شروع کیا تو عام آدمی پارٹی کی خاموشی برقرار رہی۔ سپریم کورٹ کے حکم پر بلڈوزر کی کارروائی روکنے کے بعد ان کی خاموشی ٹوٹ گئی۔ عام آدمی پارٹی کے سپریمو اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے صرف ٹویٹ کر کے لوگوں سے امن کی اپیل کر کے اپنے فرض کی تکمیل کو سمجھا، لیکن ان کی پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات نے عام آدمی پارٹی کے بی جے پی کے ساتھ سیاسی گٹھ جوڑ کو آسان بنا دیا ہے۔

عام طور پر جب بھی حکومتیں قانون کو کھونٹی پر لٹکا کر کوئی کام کرتی ہیں تو انہیں اپنے عمل کے لیے عوامی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے انہیں ایسے شہری بنانے کی ضرورت ہے جو ہر حال میں ان کا ساتھ دیں۔ دہلی میں یہ تجربہ صرف شہریوں تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ دہلی کی منتخب حکومت نے مختلف انداز میں نہ صرف لوگوں کے مکانات کو بے رحمی سے مسمار کرنے کی حمایت کی بلکہ مرکز میں برسراقتدار بی جے پی حکومت کے منقسم سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے بھی کام کیا۔

بی جے پی نے پولرائزیشن کی اپنی روایتی سیاست کے مطابق ہنومان جینتی کے موقع پر جہانگیر پوری میں پیدا ہونے والی فرقہ وارانہ کشیدگی کے لیے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔

مقامی پولیس اور انتظامیہ کی کارروائی بھی بی جے پی کے ردعمل کے مطابق تھی، لیکن عام آدمی پارٹی نے اس معاملے میں بنگلہ دیشی درانداز اور روہنگیا مسلمانوں کا انٹری کرا دیا۔ ان کی جانب سے اس کے لیڈروں، راگھو چڈھا اور ایم ایل اے آتشی سنگھ کے الگ الگ لیکن ایک جیسے بیانات، جو اس کی طرف سے آئے ہیں، تشویشناک ہونے کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان لیڈروں نے اپنے بیانات میں واضح طور پر کہا کہ بی جے پی نے اپنے ہی ذریعہ بسائے گئے روہنگیا مسلمانوں اور بنگلہ دیشی دراندازوں کے ذریعے جہانگیر پوری میں کشیدگی پھیلائی ہے اور اگر یہ معلوم ہو جائے کہ بی جے پی نے ان روہنگیا مسلمانوں کو کہاں بسایا ہے تو یہ جاننا آسان ہو جائے گا۔ کہاں کہاں فرقہ وارانہ فسادات ہو سکتے ہیں۔

یہ دلچسپ بات ہے کہ مرکزی حکومت اور بی جے پی اپنا چہرہ بچانے کے لیے جہانگیر پوری میں فرقہ وارانہ خطوط پر مکانات اور دکانوں کو مسمار کرنے کو تجاوزات کے خلاف کارروائی بتا رہی ہیں، لیکن عام آدمی پارٹی کی دہلی حکومت نے اس معاملے کو کھلے عام فرقہ وارانہ بنا دیا ہے۔ساتھ ہی بالواسطہ طور پر اسے جائز بھی ٹھہرا رہی ہے ۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ جب مرکز کی بی جے پی حکومت مبینہ طور پر روہنگیا مسلمانوں یا بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو اس علاقے یا دیگر علاقوں میں آباد کر رہی تھی تو دہلی حکومت اور عام آدمی پارٹی کیا کر رہی تھی؟ جہانگیرپوری علاقہ ایک اسمبلی حلقہ ہے جہاں سے عام آدمی پارٹی لگاتار انتخابات جیت رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہاں کے ایم ایل اے کو اس بات کا علم نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے علاقے میں کون سے نئے لوگ آباد ہو رہے ہیں؟ لیکن یہ مسئلہ پہلے کبھی زیر بحث نہیں آیا تو اس معاملے میں روہنگیا مسلمان اچانک کہاں سے آگئے؟

ایسے وقت میں دہلی کی منتخب حکومت کو اپنے ووٹروں اور شہریوں کے درمیان ہونا چاہیے اور مرکزی حکومت کے کسی بھی غیر منصفانہ اقدام کی کھل کر مخالفت کرنی چاہیے۔ لیکن ایسا کرنے کے بجائے، عام آدمی پارٹی اس کشیدگی کو بڑھانے اور اسے مکمل طور پر فرقہ وارانہ شکل دینے کی کوشش کر کے بی جے پی اور اس کی مرکزی حکومت کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔

درحقیقت عام آدمی پارٹی اور بی جے پی دونوں ہی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر روہنگیا مسلمانوں کا ایسے معاملات میں تذکرہ کیا جائے تو لوگوں کی توجہ ہٹائی جا سکتی ہے اور بعد میں تخریب کاری کی ان ناجائز کارروائیوں کو سیاسی ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات سب جانتے ہیں کہ مرکزی حکومت پہلے ہی دہلی حکومت کے کافی پر کتر چکی ہے اور اب تو اس کی حیثیت عملی طور پر تقریباً صفر ہوگئی ہے ۔ تین میونسپل کارپوریشنوں کے پھر سے ایک کر دیے جانے کے بعد دہلی اب عملی طور پر ایک ریاست کے بجائے پھر سے ایک مہانگر(میٹرو سٹی) میں تبدیل ہو گیا ہے ۔ ایک آدھی ادھوری ریاست یا مرکز کے زیر انتظام خطہ کے اختیارات سے زیادہ اختیارات مل گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جس طرح دہلی پولیس کی مدد سے جہانگیر پوری میں تخریب کاری کی کارروائی کی، اس سے دہلی کا ایک نیا چہرہ سامنے آیا ہے۔

’ڈبل انجن کی سرکار‘ وزیر اعظم نریندر مودی کا دیا ہوا سیاسی فارمولا ہے۔ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے مختلف جھنڈوں اور مختلف انتخابی نشانوں کی وجہ سے مرکز کی بی جے پی حکومت اور دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت کے درمیان یہ ڈبل انجن فارمولہ اتنی فعالی سے کام نہیں کرسکا جتنا کہ دہلی میں۔اترپردیش جیسی ریاستیں، مدھیہ پردیش، گجرات، کرناٹک، آسام، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش وغیرہ۔ تین میونسپل کارپوریشنوں کو مضبوط کرنے اور انہیں دہلی حکومت سے زیادہ اختیارات دینے کے بعد اب دہلی کے لوگوں کو بھی ڈبل انجن والی حکومت مل گئی ہے۔

ڈبل انجن والی حکومت اپنے سیاسی ایجنڈے کے مطابق من مانی کارروائیوں اور اقدامات کے لیے بہت موزوں ہے۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں بلڈوزر انتظامیہ کی انتخابی کامیابی کے بعد حکمرانی کا یہ فارمولہ بی جے پی کی حکومت والی دیگر ریاستوں میں بھی تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔ اسے مدھیہ پردیش کے کھرگون اور ملک کی راجدھانی دہلی میں پوری تیاری کے ساتھ آزمایا گیا ہے۔ اس بلڈوزر گورننس ماڈل کو تباہ حال شہری اور نیم شہری طبقوں کی طرف سے وہی حمایت مل رہی ہے، جس طرح مہنگائی اور بے روزگاری کو مستقل حمایت ملتی نظر آتی ہے۔

چونکہ عام آدمی پارٹی کے پاس میدان میں حکمرانی کے اس نئے غیر جمہوری ماڈل کی مخالفت کرنے کی نہ تو ہمت ہے اور نہ ہی اس کا کردار، اس لیے اس کی مخالفت کرنے کے بجائے دہلی میونسپل کارپوریشن کے آنے والے انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے، روہنگیا مسلمانوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جہانگیرپوری کیس کو فرقہ وارانہ شکل دے کر سیاسی بنیاد۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے یہ بھول رہی ہے کہ بی جے پی اپنی ’بی ٹیم‘ سے زیادہ کھیل کی چیمپئن ہے۔

(بشکریہ: ستیہ ہندی )ز

متعلقہ خبریں

تازہ ترین