دوسال بعد صحافی صدیق کپن جیل سے رہا

0
50

کلکتہ 2 فروری(انصاف نیوز آن لائن)
بغیر کسی گناہ اور جرم کے دو سال تک اترپردیش کی جیل میںقیدرہنے والے کیرالہ کے صحافی صدیق کپن کو آخر تک جیل سے رہائی مل گئی اور آج صبح وہ اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ کھلے آسمان میں آزادی کے ساتھ سانس لیتے ہوئے نظر آئے۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ان دوسالوں میں وہ کبھی بھی خوف زدہ نہیں ہوئے ۔کیوں کہ میں نے کوئی جرم ہی نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق اگلے 6ہفتے تک وہ دہلی میں ہی رہیں گے اور نظام الدین پولس اسٹیشن میں رپورٹنگ کریں گے۔
دوسال قبل صدیق کپن کو اترپردیش کی پولس نے اس وقت گرفتار کیا تھاجب وہ ہاتھرس میں دلت لڑکی کی عصمت اور اس کے بعد ہلاکت کے معاملے کی رپورٹنگ کرنے کےلئے جارہے تھے۔اترپردیش پولس نے ان کے خلاف یوپی اے کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔صدیق کپن کے خلاف سنگین الزامات عائد کئے گئے تھے۔پولس نے الزام عائدکا تھا کہ صدیق کپن رپورٹنگ کرنے کےلئے نہیں بلکہ فرقہ واریت پھیلانے کےلئے آرہے ہیں ۔

ممنوعہ تنظیم پی ایف آئی سے تعلق ہونے کاالزام عائدکیا گیا تھا۔جب کہ پی ایف آئی کے خلاف اس وقت کوئی پابندی نہیں تھی اور وہ ایک رجسٹرڈ ادارے کے طور پر کام کررہی تھی ۔جب کہ صدیق کپن صرف صحافی تھے اور ان کا تعلق پی ایف آئی سے نہیں تھا ۔

لکھنؤ کے سینئر جیل سپرنٹنڈنٹ آشیش تیواری نے تصدیق کی کہ کپن کو جمعرات کی صبح 8.30بجے رہا کیا گیا ہے۔ تیواری نے کہاکہ اس کے تمام کاغذی کارروائی مکمل ہو گئی، اور پھر اسے رہا کر دیا گی۔کپن کی رہائی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے دائر منی لانڈرنگ کیس میں الہ آباد ہائی کورٹ سے 23 دسمبر کو ضمانت ملنے کے ایک ماہ سے زیادہ کے بعد ہوئی ہے۔

2021میں صدیق کپن کے خلاف ای ڈی نے کیس درج کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے پی ایف آئی سے رقم حاصل کی ہے۔

اپنی رہائی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے، کپن نے کہا کہ ضمانت حاصل کرنے اور رہا ہونے کے لیے یہ ایک طویل لڑائی تھی۔ 28 مہینے اور ایک طویل لڑائی کے بعد، میں آج باہر ہوں. مجھے میڈیا سے بہت سپورٹ ملااور میں خوش ہوں
پولیس کی طرف سے ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ میں وہاں (ہاتھرس میں) رپورٹنگ کرنے گیا تھا۔ اس میں غلط کیا ہے؟…مجھ سے میرے لیپ ٹاپ اور موبائل فون کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ میرے پاس دو قلم اور ایک نوٹ بک بھی تھی۔
ہائی کورٹ نے جسٹس دنیش کمار سنگھ کی طرف سے دیے گئے ایک حکم میں کہا تھا کہ ان الزامات کے علاوہ کہ شریک ملزم عتیق الرحمن کے بینک اکاؤنٹ میں 5000 روپے منتقل کیے گئے، ملزم کے بینک اکاؤنٹ میں کوئی دوسرا لین دین نہیں ہے۔ -درخواست گزار یا شریک ملزم کے بینک اکاؤنٹ میںکوئی دوسرا مالی لین دین کے ثبوت نہیں ہے ۔کپن ضمانت کاکا حقدار ہے کیونکہ جرم کی آمدنی ایک کروڑ روپے سے کم ہے اور کپن کے “مستقبل میں ایسا ہی جرم کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے”۔
کپن کو گزشتہ سال 9 ستمبر کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کیس میں ضمانت دی تھی جب یوپی پولیس نے بنیاد پرست پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے ساتھ مبینہ تعلق کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔
ضمانت دیتے ہوئے، سپریم کورٹ نے دریافت کیا کہ اس کے خلاف اصل میں کیا پایا گیا ہے، اور یہ بھی نوٹ کیا کہ حراست کی مدت گزر چکی ہے۔
دسمبر میں، لکھنؤ کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت کیس میں کپن اور چھ دیگر کے خلاف الزامات طے کیے تھے۔ دیگر ملزمان میں کے اے رؤف شریف، عتیق الرحمان، مسعود احمد، محمد عالم، عبدالرزاق اور اشرف خدیر شامل ہیں۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمان ممنوعہ پی ایف آئی اور اس کے طلبہ ونگ کیمپس فرنٹ آف انڈیا (سی ایف آئی) کے رکن ہیں۔