اگنی پتھ :سماج کا ملٹرینایزیشن کہیں یہ ساور کر کے خواب کی تکمیل تو نہیں

0
33

نوراللہ جاوید

’’جمعہ کا ہے انتظار اور بلڈوزر بھی ہے تیار‘‘مگر جمعہ کا انتظار بھی نہیں کرنا پڑا، جمعرات سے ہی ملک بھر میںتوڑ پھوڑ ، ہنگامہ آرائی ، آتش زنی، ٹرین کے ڈبوں پر حملے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔مگرنہ ٹی وی چینلوں پر شور شرابے ہورہے ہیں اور نہ ہی بلڈوزرچلانے کی دھمکیاں سنائی دے رہی ہے۔دراصل توہین رسالت کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کے خلاف نام نہاد قومی نیوز چینلوںنے جو ہنگامہ برپا کیا تھا وہ نہ صرف صحافت کیلئے شرمناک تھا بلکہ ہندوستانی سماج کا بھی بدنما چہر ہ سامنے آیا ۔کیا کوئی مہذب سماج و معاشرہ اپنے ہی ملک کے اقلیتوں کے خلاف اس طرح جارحانہ مہم کی اجازت دیتا ہے۔مگرہرایشو ز پر حکومت کی واہ واہ کرنے والی میڈیا کو بھی معلوم نہیں تھا کہ اگلے چند دنوں میںانہیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا ان کے منھ کے جملے ان کے چہروں پرزور دار طمانچے ثابت ہوں گے۔ہندوستانی افواج میں چار سالوں کیلئے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کی مرکزی حکومت کی ’’اگنی پتھ‘‘ اسکیم کے خلاف ملک بھر میں نوجوانوں کے پرتشدد احتجاج ، ہنگامہ آرائی کو وہ عنوان دینے سے قاصر ہیں ۔کیوں کہ انہی نوجوانوںکے درمیان وہ گزشتہ 8سالوں سے مذہبی نفرت کا چورن پیچ کر انہیں خواب غفلت شکار بنادیا تھا۔’’ون رینک ،ون پنشن‘‘ کے نعرے سابق فوجی خاندان کی حمایت حاصل کرنے والی مودی حکومت آج ہندوستانی افواج کو اس راہ پر کیوں گامزن کررہی ہے جہاں ’’نہ رینک ہوگا اور نہ ہی پنشن ‘‘ہوگی ۔سوال یہ بھی ہے کہ اس اسکیم ایسا کیا ہے جس کے خلاف اتنے بڑے پیمانے پر نوجوان سڑکوں پر آگئے ہیں،اس اسکیم سیکے پس منظر مقاصد کیا ہے اور اس سے ہندوستانی افواج پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اس کے علاوہ یہ سوال بھی اہم ہے کہ ہر چار سال جب اتنے بڑے پیمانے پر نوجوان ریٹائرڈ ہوجائیں گے اس وقت نہ ان کے پاس اعلیٰ تعلیم ہوگی، نہ روزگار کی گرانٹی ہوگی اس وقت سماج پراس ملٹرائزیشن کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟۔بڑے پیمانے پرجنگی تربیت یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی موجودگی کہیں نئی قسم کے بحران کا سبب نہ بن جائے۔اس سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کہیں سماج کا ملٹرینایزیشن ساور کر کے خواب کی تکمیل تو نہیں ہے؟-

ملٹرینائزیشن کے سماجی اثرات۔کیا یہ ساورکر کے خوابوں کی تعبیر تو نہیں ہے؟

اگنی پتھ اسکیم کے جہاں مختلف پہلوئوں پر بات ہورہی ہے وہیں سماج پر ملٹرینائزیشن کے اثرات پر بھی بات ہورہی ہے۔اس حوالے جو خدشات اور اندیشوں کا اظہار کیا جارہا ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ملٹرینائزیشن کے سماجی اثرات کے حوالے سے صرف اقلیت ہی نہیں ملک کا تعلیم یافتہ اور ماہرین بھی خدشے کا اظہار کررہے ہیں ۔تو اس کے تاریخی وجوہات بھی ہیں ۔دراصل 1904میں گاندھی اور ساورکر کے درمیان رام کے کردار پر زور دار بحث ہوئی ۔ایک طرف گاندھی جہاں رام کے عدم تشدد کے کردار کے حامی تھے وہیں ساورکر راون کے ساتھ رام کی جدو جہد کا حوالہ دے کر ہندو سماج کو تربیت یافتہ بنانے کی پرزور وکالت کررہے تھے۔ساورکر کی سوچ کا محور یہ تھا ہندئوں کے غیر تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ کئی صدیوں سے ہندوسماج شکست و ریخت کاشکار ہے اگر ہمیں طاقت کا محور بننا ہے تو ہر ایک ہندو نوجوان کو فوجی تربیت یافتہ ہونا چاہیے۔چناں چہ اس کے بعد سے ہی ، جن سنگھ، آر ایس ایس ، بجرنگ دل، وشو ہندوپریشد ہندو سماج کا ملٹرینائزیشن کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔چار سال بعد ریٹائرڈ منٹ کے بعد نوکری سے محروم رہ جانے والے سابق نوجوان فوجیوں کے آر ایس ایس، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسی دائیں بازو کی جماعت سے وابستہ ہونے اور ان کے اقلیتوں کے خلاف استعمال ہونے کا خدشہ کا اظہار غیر معقول نہیں ہے۔
یہ بھی نہیں ہے اس طرح کے خدشات کا اظہار صرف مسلم تنظیمیں، ادارے اور شخصیات کررہے ہیں بلکہ کئی غیر مسلم دانشور ، صحافی اور سماجیات کے ماہرین کررہے ہیں۔یہ دلیل دی جارہی ہے دوسری عالمی جنگ کے دوران بھی مختصر وقفے کیلئے انگریزی افواج میں نوجوانوں کی بھرتی ہوئی تھی ۔مگر یہ نوجوان سماج کیلئے نقصان دہ ثابت نہیں ہوئے ۔تو پھر یہ نوجوان سماج کیلئے خطرہ کیسے ثابت ہوسکتے ہیں؟ماہرین کہتے ہیں ماضی کے اس مثال کو اس وقت منطبق نہیں کیا جاسکتا ہے۔اس وقت حالات کافی تبدیل ہوچکے ہیں۔سماج مذہبی بنیادو پر منقسم ہیں ،حکمراں جماعت کی سرپرستی میں فرقہ واریت بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت کو فروغ دیا جارہا ہے اور انہیں دشمن کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سماجیات کے پروفیسر آنند کمار کہتے ہیں کہ اگر 23سال کی عمر میں اگر کوئی ملازمت نہیں ملتی ہے تو ایسے نوجوانوں کا فریسٹریشن کی سطح کافی بلند ہوگی ۔ایسے میں ایک معمولی لالچ بھی انہیں غلط راہ پر گامزن کرسکتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ضروری نہیں ہے کہ یہ صرف آر ایس ایس اور بجرنگ دل سے ہی وابستہ ہوں گے۔بلکہ مائونواز ،پنجاب اور شمال مشرقی ریاستوں میں علاحدگی پسند گروپوں کے بھی ہتھے چڑھ سکتے ہیں۔اس لئے ضرورت ہے کہ جنگی تربیت یافتہ نوجوانوں کے ذریعہ پیدا ہونے والے بحران پر پہلے ہی نظر ثانی کی جائے۔ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر ونود شرمانے آج ہی آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت کے ایک بیان ’’آر ایس ایس صرف تین دن میں ہی فوج کھڑی کرسکتی ہے‘‘۔کا لنگ شیئر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ موہن بھاگوت کے بیان کے تناظر میں ہمیں دیکھنا چاہیے کون چار سال بعد اپنی فوج کھڑا کرے گا؟۔اگر ان خدشات کو جینوسائڈ واچ کے خدشات کے تناظر کو دیکھا جائے تو پھر یہ سوال لازمی ہے کہ ہندوستان اقلیتوں کے قتل عام کی راہ پر تیزی سے گامزن ہوجائے گا؟

ایک اہم سوال -کیا اقلیتو ں کو حصہ داری مل سکے گے؟

اگر اس پورے اسکیم کو سماجی انصاف کے تناظر میں اگر جائزہ لیا جائے تو یہ سوال لازمی ہے کہ اگنی پتھ کیلئے ہر سال جو بحالیاں ہوگی اس میں سماج کے پسماندہ طبقات، دلت اور اقلیتوں کی حصہ داری کیا ہوگی؟ ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ اگنی ویر میں سے ہر سال 25فیصد نوجوانوںکو فوج میں مستقل طور پر لیا جائے گا اس میں کیا اقلیت ، دلت اور پسماندہ طبقات کو آگے بڑھنے کا موقع دے گی۔گرچہ ہندوستانی افواج کو اس تناظر میں نہیں دیکھا جاتا ہے ۔اس کیلئے حکومتی سطح پر کوئی اعداد و شمار نہیں ہے۔مگر فوج میں افسران کے عہدے پر فائز افراد کے سماجی پس منظر کے تناظر میں اس کو دیکھا جانا چاہیے۔ گرچہ فوج سے متعلق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے پورے فوج کی تشکیل سیکولر اقدار پر ہوتی ہے ۔فوج کو مذہب ، سماجی تفریق اور ذات پات سے اوپر اٹھ کر تربیت دی جاتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ ریٹائرڈ فوجی افسروں کی بڑی تعداد آر ایس ایس اور بجرنگ دل جیسی تنظیموں سے وابستہ کیوں ہوجاتے ہیں۔اس صورت حال کو ریسرچ اسکالر خالد عمری مرحوم کی کتابKhaki and the Ethnic Violence in India: Army, Police and Paramilitary Forcesکے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے یہ کتاب 2002میں گجرات فسادات کے بعد لکھی تھی۔انگریزی نیوز پورٹل ’’انڈیا ٹومورو‘‘پر سید خلیق احمد نے اس کتاب کے حوالے سے لکھا ہے ۔
خالدی کی کتاب کئی ریٹائرڈ فوجی اور پولیس افسران کے ساتھ بات چیت پر مبنی ہے جن میں آنجہانی فیلڈ مارشل سیم مانیک شا، آنجہانی جنرل کے سندر جی، لیفٹیننٹ جنرل ایس کے چبر، سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر آر کے راگھون اور ”سپر پولیس” جے ایف ریبیرو شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی معاشرے کی بڑھتی ہوئی فرقہ واریت اور ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان مذہبی تقسیم نے مسلمانوں کے تئیں فوج اور پولس کے رویے کو متاثر کیا ہے۔
خالدی نے جنرل کے ایم کریپا کے 1964 میں آر ایس ایس کے ترجمان آرگنائزر میں شائع ایک مضمون کا حوالہ دیا ہے۔جنرل کریپا نے لکھاہے کہ’’ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم شیخ عبداللہ نے ان سے سوال کیا کہ ہندوستانی افواج میں کشمیریوں کو بحال کیوںنہیں کیا جاتا ہے۔تو ہم نے جواب دیا کہ ’’مسلمانوں کی وفاداری بنیادی طور پر پاکستان کے ساتھ ہے۔ اکثر غیر مسلم دانشوروں کی یہی سوچ ہے۔اس لئے گارگل کے مسلمانوں کو ہندوستانی فوج میں بھرتی کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔تاہم، 1965 کی ہند-پاک جنگ میں جموں و کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں تعینات راجپوت رجمنٹ کی ایک مسلم اکثریتی بٹالین نے ہندوستانی مسلمانوں کی پاکستان کے تئیں وفاداری کے بے بنیاد تصور کو غلط ثابت کر دیا کیونکہ مسلمان فوجیوں نے بہادری سے لڑا اور پاکستانی افواج کو شکست دی‘‘۔خالدی نے آنجہانی جنرل مانیکشا کا یہ بھی حوالہ دیا ہے کہ سابق وزرائے دفاع سورنا سنگھ اور بابو جگجیون رام نے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدہ پر دو مسلم افسروں کی ترقی کی شدید مخالفت کی۔انہوںنے جارج فرنانڈس کا بھی حوالہ دیا ہے۔ انہوںنے خالدی کو بتایا تھا کہ ”مسلمان مسلح افواج میں مطلوب نہیں ہے کیونکہ وہ ہمیشہ مشتبہ رہتے ہیں – چاہے ہم اسے تسلیم کرنا چاہیں یا نہ کریں۔ زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستان کے لیے پانچواں کالم سمجھتے ہیں۔خالدی نے یکم اپریل 2001 کو جموں میں پریس انفارمیشن بیورو کے دفاعی ونگ کے ذریعے فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک ہینڈ آؤٹ کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا تھاکہ ’’اس بحالی میں مسلمانوں اور تاجروں کے لیے کوئی جگہ خالی نہیں ہے‘‘۔مصنف کا کہنا ہے کہ فاروق عبداللہ اور مسلمانوں کے احتجاج کے باوجود کشمیر میں فوج نے اس بیان کی تردید نہیں کی‘‘۔
ایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ کیا ہندوستانی افواج کی ذہنیت مسلمانوں کے حوالے تبدیل ہوچکی ہے۔ایک سوال یہ بھی ہے کہ فوج میں امتیازی سلوک کے خاتمے اور زیادہ سے زیادہ مسلم نوجوانوں کی بحالی کیلئے مسلم اداروں کو کس طرح کردار ادا کرنا چاہیے۔یہ بات سچ ہے کہ ہندوستانی افوج اور نیم فوجی عسکری دستے میں مسلمانوں کی نمائندگی صفر کی حدتک ہے مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ مسلم نوجوانوں میں فوج میں جانے کا رجحان ہے گرچہ کچھ ٹھوس وجوہات ہیں مگر ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ اگر اگنی پتھ اسکیم نافذ ہوتی ہے تو اس کا مسلم نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ فائدھ اٹھانا چاہیے۔

ہندوستانی افواج کو درپیش چیلنجز

دنیا کے تمام ممالک اپنے فوج کے اسٹریکچراور اس کی ضروریا اور اس کو جدید تکنالوجی سے لیس کرنے کیلئے اصلاحی اقدمات کرتی رہی ہے۔چناں چہ ہندوستانی افواج میں تبدیلی اور زمانے و حالات کے مطابق اس میں انقلابی اقدمات اٹھانا فی نفسہ کوئی برائی نہیں ہے۔مگر یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہندوستانی افواج اس وقت کن چیلنجوں سے گزررہی ہے۔ان میں کیا تبدیلی ناگزیر ہے؟۔وزارت خزانہ 22-23سال کے بجٹ میں دفاعی بجٹ میں 9.8فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے کر تے ہوئے وزارت دفاع کیلئے5.25لاکھ کروڑ روپے مختص کئے گئے ۔دفاعی ماہرین بتاتے ہیں کہ ان میں سے ایک بڑی رقم تنخواہ اور پنشن میں چلاجاتا ہے اور اس کی وجہ سے ہندوستانی افواج کی جدید کاری ، اصلاحات اور نئے ہتھیاروں کی خریداری متاثر ہورہی ہے۔ہندوستان افواج کی جدید کاری نہیں ہورہی ہے۔جب کہ دنیا تیزی سے انٹی جنس پر مبنی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔اب جنگیں کھلے میدان میں نہیں بند کمرے میں جدید انٹللی جنس کے ذریعہ ہوں گے۔اس کیلئے وزارت دفاع کو فنڈ کی شدید ضرورت ہے۔
ہندوستان اس وقت مالی بحران سے گزررہا ہے، گرچہ حکومت اس کا کھلے دن سے اعتراف نہیں کررہی ہے اس کے اقدامات یہ بتاتے ہیں کہ حکومت اندرونی طور اس بحران پر قابو پانے میں بے بس نظر آرہی ہے۔چناں چہ گزشتہ چند سالوں میں مرکزی حکومت کے بڑے سیکٹر افواج، ریلوے ، نیم عسکری دستے اور دیگر مرکزی حکومت کے شعبوں میں نئی بحالیاں نہیں ہوئی ہے۔کارپوریٹ سیکٹر کو ٹیکس میں بڑے پیمانے پر چھوٹ دینے کے باوجود کارپوریٹ سیکٹر میں نئی نوکریاں پید اہونے کے بجائے ملازمتیں ختم کی جارہی ہے۔گزشتہ تین سالوں میں نہ صرف بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔اپریل 2022کی رپورٹ کے مطابق 22سال سے 27سال کے نوجوانوں میں 50فیصد بے روزگاری کی شرح ہے۔گرچہ حکومت کی کسی بھی ایجنسی کے پاس کارپوریٹ سیکٹر میں ملازمت ختم ہونے اور نوکری سے نکالے گئے افراد کی صحیح اعداد و شمار نہیں ہے تاہم ماہرین بتاتے ہیں کہ 30فیصد نوکریاں ختم ہوئی ہیں اور نوکری سے لوگ نکالے گئے ہیں ۔چناں چہ ہرسال دو کروڑ افراد کو نوکری دینے کا وعدہ کرنے والے مودی حکومت روزگار فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔اپنے کارپوریٹ سیکٹرکے دوستوں کے زیر ملکیت نیوز چینلوں اور اخبارات کے ذریعہ نوجوانوںمیں مذہبی جنون کا چورن فروخت کرکے الجھائے رکھنے کی کوششیں بھی ناکام ہوتی ہوئی نظر آرہی تھیں تو پہلے یہ شوشہ چھوڑا گیا کہ موودی نے اگلے ڈیڑھ سالوں میں 10لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا ماسٹر پلان تیار کیا ہے۔مگر اس ماسٹر پلان بھی سوالوں کی زد میں آگیا کہ آپ نے تو ہر سال دو کروڑ روزگار کی بات کی تھی اور اب دس لاکھ کیسے آگئے ۔یہ نوکریا کس سیکٹرمیں پیدا ہوں گی۔اس کی سوشل سیکورٹی کیا ہوگی۔یہ وہ سوالات تھے جن سے مودی کو سامنا تھا چناں چہ انہوں نے ایک اور نئی اسکیم ’’اگنی پتھ‘‘ نوجوانوں کے سامنے پیش کردیا ۔اس اسکیم کو اس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ اس سے ہندوستانی افواج میں انقلابی تبدیلی آگئی اور فوج کی طاقت میں اضافہ ہوگا اور نوجوانوں کو نوکری ملے گی ۔مگر اس اسکیم کے اعلان کے فوری بعد گزشتہ دو سالوں سے فوج میں مستقل نوکری کا انتظار کررہے نوجوانوں کا غصہ ایسا ابلا کہ ہندوستان کی ایک نئی تصویر دنیا کے سامنے آنے لگی۔ہرطرف آتشزنی ، ٹرین کے جلتے ہوئے ڈبے اور پولس افسران پر حملے اور حکمراں جماعت کے لیڈران خود کو ان نوجوانوں سے بچتے ہوئے نظر آنے لگے۔گزشتہ تین دنوں میں ملک میں جو کچھ ہوا ہے وہ ہمارے سامنے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ اگنی پتھ اسکیم ہے کیا ؟ نوجوانوں کی ناراضگی کی وجوہات کیا ہیںاور اس کے خلاف بہار، اترپردیش، ہریانہ ،راجستھان اور تلنگانہ میں زیادہ ناراضگی کیوں ہے؟

اگنی پتھ اسکیم سے ہندوستان کی دفاعی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ؟

مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مسلح افواج کے تینوں ونگ کے سربراہوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں اگنی پتھ اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے اسے ہندوستانی افواج اور نوجوانوں کیلئے انقلابی قدم بتایا ۔انہوں نے کہا کہ 17سال کی عمر کے نوجوانوں کو اگلے چار سالوں کیلئے ہندوستانی افواج میں بھرتی کی جائے گی اور اس کے بعد وہ ریٹائٹرڈ ہوجائیں گے۔چار سال کی ملازمت کے بعد نوجوانوں کی زندگی میں نظم و ضبط آجائے گی اور تنخواہ کے علاوہ 11.7لاکھ روپے ملیں گے ۔اس سال 46 ہزار نوجوانوں کو اس اسکیم کے تحت بھرتی کیا جائے گا اور اگلے سالوں میں اس تعداد میں اضافہ کیا جائے ۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس اسکیم کا نفاذ بہت ہی سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے ۔ہم نے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیا ہے مگر سینئر اعلیٰ افسران اور گزشتہ دو دنوں میں اگنی پتھ اسکیم میں ترمیم یہ بتاتی ہے کہ راج ناتھ سنگھ کے دعوئوں اور حقائق میں بہت ہی فرق ہے۔بلکہ پی ایم او آفس کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس اسکیم سے متعلق خود راج ناتھ سنگھ کو بہت ساری معلومات نہیں تھی۔انہیں پریس کانفرنس کے دوران وہ پرچہ تھمایا گیا ہے۔ایک صحافی نے دعویٰ تک کیا ہے کہ مودی حکومت کے کئی سارے فیصلے ایک غیر ملکی ایجنسی کے مشورے پر لئے جاتے ہیں اور یہ اسکیم بھی اسی غیر ملکی ایجنسی کے مشورے کی تخلیق ہے۔
بادی نظر ہی نہیں بلکہ یہ حقیقت عیاں ہوچکی ہے کہ اس اسکیم کے پیچھے اصل مقصد اخراجات کی کٹوتی ہے۔کیوں کہ دفاعی بجٹ کا ایک بڑا حصہ تنخواہ اور پنش میں چلاجاتا ہے ۔چوںکہ اگنی پتھ اسکیم کے تحت تنخواہ بہت ہی زیادہ نہیں ہے اور پنشن بھی نہیں ہے اس کی وجہ سے اگلے چند سالوں میں وزارت دفاع میں بڑی بچت ہوگی ۔دوسرے یہ ہندوستانی افواج میں اس وقت نوجوانوں کی اوسط عمر 32سال ہے ۔اگلے 6اور سات سالوں میں اس اسکیم کی وجہ سے نوجوانوں کی عمر 26-24کے درمیان ہوجائے گی اس کی وجہ سے جوانوں کے قوت ارادی اور عزم کا فائدہ افواج کو سرحد پر ملے گی ۔ ٹیکنالوجی کی زیادہ سمجھ رکھنے والے نوجوانوں کو مستقبل کی جنگ کے لیے شامل کیا جائے گا۔ اگنی پتھ سے نکلنے والے نوجوان سول سوسائٹی کو مزید نظم و ضبط کا پابند بنائیں گے اور ملک کی تعمیر میں بھی اپنا حصہ ڈالیں گے۔ اس اسکیم سے فوج میں بڑھتی ہوئی تنخواہ اور پنشن کے بلوں میں کمی آئے گی۔ کیونکہ اگر جوان طویل عرصے تک سروس میں نہیں رہتا ہے تو حکومت پر پنشن دینے یا تنخواہ بڑھانے کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ تینوں افواج کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے مزید رقم ملے گی۔ کیونکہ اگر پنشن نہ ہو اور تنخواہ میں اضافہ نہ ہو تو بہت پیسہ بچ جائے گا۔ یہی رقم فوج کی جدید کاری پر خرچ کی جا سکتی ہے۔حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے دنیا کے کئی ممالک میں اس طرح کی اسکیم ہے وہاں اس کے بہتر نتائج ہوئے ہیں ۔
مگر حکومت کی جانب سے جو دعویٰ کئے جارہے ہیں وہ اس قدر سرل بھی نہیں ہے ۔چناں چہ جنرل بخشی جیسے مودی نواز اس کی پروجیکٹ کی تنقید کررہے ہیں ۔سینئر جنرلوں میں میجرجنرل اشونی سیواچ اور میجر جنرل یش مور جیسی شخصیات جو ریٹائرڈ منٹ کے بعد نوجوانوں کو فوج میں لانے کیلئے کام کررہے ہیں اس اسکیم کی پرزو مخالفت کررہے ہیں ۔ان کی دلیل ہے کہ اس اسکیم کی وجہ سے فوج کی پیشہ ورانہ مہارت میں کمی آئے گی۔ معاشرے میں فوج کی عزت کم ہوگی اور اس سے دشمن سے لڑنے کا جذبہ کمزور ہوگا۔ تینوں خدمات(بری ، بحری اور فضاء) میں مکمل طور پر تربیت یافتہ جنگ کے لیے تیار سپاہی بننے میں 7-8 سال لگتے ہیں۔جب کہ اگنی پتھ کے تحت بحال ہونے والے نوجوانوں کی محض 6مہینے ٹریننگ ہوگی اور اتنے کم ٹرینڈ یافتہ نوجوان سرحدوں پر دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔دفاعی تجزیہ نگار اس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت پنش اسکیم کیلئے طویل مدتی منصوبہ بناسکتی تھی، جیسا کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں ہے۔ہندوستان میں نئی پنشن اسکیم میں بھی ہے۔وزارت دفاع یہ کرسکتی تھی۔ہندوستان ٹائمز کے سابق ایڈیٹر ونود مہتا کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کیلئے الیکٹرولر بائونڈ اورکارپورٹ سوشل رسپانس سے فنڈ لینے کے انتظامات ہیں تو وزارت دفاع کیلئے کوئی نہیں ہے۔کیا دفاع کیلئے کارپوریٹ گھرانوں سے دفاعی بائونڈ نہیں لے جاسکتے ہیں۔اس کے علاوہ حکومت کی یہ دلیل کم عمر نوجوانوں سے فوجی کی طاقت میں اضافہ ہوگا اس دلیل کو بھی ماہرین اس لئے مانتے ہیں کہ ان کے سامنے روس اور یوکرین کی حالیہ جنگ ہے۔روس کی بڑی فوجی طاقت ہونے کے باوجود گزشتہ چا رمہینوں میں روس ایک چھوٹے سے ملک یوکریں پر فتح حاصل نہیں کرپائی ہے۔دراصل روس میں بھی مختصر ٹریننگ کے ساتھ مختصر وقت کیلئے فوج میں نوجوانوں کی بحالی کی جاتی ہے۔یہ کم تریافتہ نوجوان یوکرین کے تریافتہ فوج کے چل کو سمجھنے میں ناکام رہے ۔اس لئے روسی افواج کی ہلاکت بھی بڑے پیمانے پر ہوئی ہے۔اسرائیل کی مثال جو دی جارہی ہے ۔دراصل اسرائیل کا مقابلہ کسی طاقتور ملک سے نہیں ہے بلکہ وہ نہتے فلسطینی نوجوانوں کیلئے تعینات کئے جاتے ہیں اور ہم بارہا دیکھتے ہیں ایک نہتا فلسطینی نوجوان کئی مسلح اسرائیلی فوجی جوانوں کا مقابلہ کرتا ہوا نظرآتا ہے۔ ایک نہتے فلسطینی نوجوان کے عزم و ہمت کے سامنے یہ سب بونے نظر آتے ہیں ۔اسرائیلی اخبار’’دی یروشلم ‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق مختصر مدت کیلئے اسرائیلی فوج میں خدمات میں انجام دینے کے بعد اسرائیلی نوجوان ذہنی مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور نشے کے عادی بن جاتے ہیں اور ان کی تربیت کیلئے یہودی ربیوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہے۔جہاں تک امریکہ کی بات ہے توامریکہ عام طور پر اپنے تمام شہریوں کو سوشل سیکورٹی فراہم کرتا ہے ۔سابق فوجیوں کیلئے اس کے پاس بڑے بڑے اسکیم ہے ایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ کیا چار سال کی خدمات انجام دینے کے بعد یہ نوجوان روزگار نہیں ملنے کی صورت میں وہ کس ذہنی کیفیت سے دوچار ہوں گے ؟اس وقت کے حالات سے نمٹنے کیلئے حکومت کے پاس کوئی ایجنڈہ ہے۔جنرل یش مور کہتے ہیں کہ فوج میں کوئی اصلاحات نافذ کرنے سے قبل کچھ تجربات کئے جاتے ہیں مگر اس اسکیم کے نفاذ سے قبل اس کا تجربہ کیوں نہیں کیا گیا؟
نوجوانوں میں ناراضگی کے اسباب
اسی سال وزارت دفاع نے پارلیمنٹ کے ساتھ جو معلومات شیئر کئے ہیں اس کے مطابق جونیئر کمشنر اور دیگر عہدہ پر فوج میں ایک لاکھ سے زاید عہدے خالی ہیں ،گزشتہ کئی سالوں سے کوئی بھرتی ہوئی نہیں ہے۔اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2015 اور 2020 کے درمیان، فوج نے ہر سا ل صرف 50,000 سے زیادہ فوجیوں کی خدمات حاصل کیں۔2015-2016 میں، فوج نے ملک بھر میں 71,804 افراد کو بھرتی کیا، جو 2016-217 میں کم ہو کر 52,447 رہ گیا۔ 2017-2018 میں، فوج نے اس سے بھی کم لوگوں کو 50,026کو بھرتی کیا ۔تاہم2018-2019 میں بڑھ کر 53,431 بھرتی ہوئے۔ اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ 2015 سے اب تک فوج میں ہونے والی تمام بھرتیوں میں صرف آٹھ ریاستوں کا حصہ 60 فیصد سے زیادہ ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2015 سے لے کر اب تک پنجاب، ہریانہ، بہار، اتر پردیش، مہاراشٹر، راجستھان، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ سے 186,795 افراد کو فوج میں بھرتی کیا گیا ہے۔ ان سالوں میں فوج میں کل بھرتی 308,280 تھی۔ کل بھرتی میں ان ریاستوں کا حصہ 60 فیصد سے کچھ زیادہ تھا۔فوج میں بھرتی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تین چوتھائی سے زیادہ بھرتی دیہاتوں سے آتے ہیں۔چناں چہ اس وقت اگنی پتھ اسکیم کے خلاف انہی ریاستوں میں سب سے زیادہ احتجاج ہورہا ہے۔
بہار میں ہندوستان کی ان ریاستوں میں سے ایک جہاں سب سے کم روزگار کے مواقع ہیں ،پٹنہ کے علاوہ کوئی بڑا شہر نہیں ہے جہاں روزگار کے مواقع ہے، تعلیم کی صوررت حال بھی انتہائی تشویش ناک ہے،ہائی سیکنڈری کوکالج کا درجہ دیا گیا ہے مگر وہاں کلاسیس نہیں ہوتے ہیں ۔مکمل طور پر ٹیوشن پر منحصر ہے۔انڈرگریجوٹ کے امتحانات کبھی بھی تین سال پر مکمل نہیں ہوتے ہیں ۔چار سال سے پانچ لگ جاتے ہیں ۔ایسی صورت میں نوجوانوں کے پاس فوج اور ریلوے میں ملازمت حاصل کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ہندی اخبار پربھارت خبر سے وابستہ سینئر صحافی سمیع احمد کہتے ہیں کہ بہار میں احتجاج کی شدت کی وجوہات ہیں، بہار میں گنگا کنارے اور سڑکوں پر صبح صبح دوڑ تے ہوئے نوجوان بڑی تعداد میں ملیں گے وہ کئی سالوں تک فوج میں بھرتی ہونے کیلئے محنت کرتے ہیں ۔مگر اگنی پتھ اسکیم نے ان کے خوابوں کو چکنا چور کردیا ہے۔محض چار سالوں کی ملازمت کے بعدان کے سامنے مستقبل غیر یقینی صورت حال میں ہوگا۔زیادہ تر افراد غریب فیملی سے آتے ہیں وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے متحمل نہیں ہوں گے۔سنٹرل ریزور پولس میں ریزرویشن کی یقین دہانی کرائی جارہی ہے مگر آپ دیکھیں گے وہاں بھی دو دوسالوں کے بعد بحالی ہوتی ہے۔سمیع احمد کہتے ہیں دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق 122افراد میں سے ایک شخص کی بحالی ہوتی ہے اور 121افراد خالی ہاتھ لوٹ جاتے ہیں ۔
دراصل اگنی پتھ کے خلاف نوجوانوں کا احتجاج صرف ایک اسکیم کے خلاف نہیں ہے، اقتصادی امور کے ماہرین بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں بے روزگاری اور ملازمت کے مواقع کا خاتمہ خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔مودی حکومت اور حکمراں جماعت کی کوشش رہی ہے کہ نوجوانوں کو مذہبی منافرت میں الجھائے رکھے۔ہندوستان ٹائمز کے سابق ایڈیٹر ونود کمار مہتا کہتے ہیں کہ اگنی پتھ اسکیم کے کئی پہلو ہیں ۔ا س اسکیم کا جواقتصادی پہلو ہے ۔وہ حکومت کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ملک میں آمدنی میں اضافے کیلئے صحیح سمت میں اقدامات کرنے کے بجائے کارپوریٹ کے طریقے کار پر گامزن ہوگئے ہیں ۔کٹوتی کی جارہی ہے۔مہتا کہتے ہیں کہ مودی نے ہندوستان میں ’’ہندتو فلاحی اسکیم‘‘کی جو شروعات کی ہے ۔کیلئے فنڈ کی شدید ضرورت ہے ۔اس کیلئے ہر طرف کٹوتی کی جارہی ہے۔

کیا اگنی پتھ اسکیم بھی دیگر اسکیموں کی طرح ناکام ہوگی

سنسنی خیزی ،بلند و بانگ دعوے اور خوبصورتی لفاظی وزیرا عظم نریندر مودی کی شخصیت کا حصہ ہے، ان کے 8سالہ دور اقتدارمیں ہم نے مختلف مواقع پر اس کا نظارہ دیکھا ہے ۔نوٹ بندی ، جی ایس ٹی اور دیگر اسکیمیں بھی اسی سنسنی خیزی کے ساتھ سامنے آئی تھی مگر جب پیچھے موڑ کرمودی جی کی اسکیموں کا جائزہ لیا یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سنسی خیزی اور بلند و بانگ دعوے کے باوجود بیشتر مواقع پر مودی کی اسکیمیں آدھی ادھوری رہی ہیں ۔نوٹ بندی کے جوفوائد گنائے گئے تھے کیا وہ حاصل ہوئے ۔کیا ان باتوں پر مودی جی قائم رہے۔2014میں اقتدار میں آنے کے بعد مودی نے حصول اراضی ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے نوٹی فیکشن کے ذریعہ نافذ کیا گیا ۔اس وقت اس آرڈی نینس کے بے شمار فوائد شمار کرائے گئے تھے ۔مگر کیا ہوا ۔عوامی دبائو کے پیش نظر ا س کو واپس لینا پڑا ۔اب تو اس پر بات بھی نہیں ہوتی ہے۔مودی جی نے کسانو ں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کی بات کی مگر کیا ہو؟اس کیلئے زرعی بل لایا گیا ۔اس کے خلاف کسانوں نے ایک سال سے زاید عرصے تک احتجاج کیا اور پھر انہیں قدم واپس لینا پڑا ؟شہری ترمیمی ایکٹ گرچہ واپس نہیں لیا گیا مگر اب تک نافذ بھی نہیں کیا گیا کیوں کہ یہ اسکیم دراصل فرقہ واریت کو بڑھانے کیلئے لایا گیا تھا مگر آسام اور شمال مشرقی ریاستوں میں احتجاج نے بی جے پی کی زمین کو ہی نقصان پہنچادیا ۔ایسے میں یہ سوال بھی لازمی ہے کہ اگنی پتھ اسکیم کا مستقبل کیا ہے؟
کیوں کہ آج اس ملک کا نوجوان پوچھ رہاہے کہ نئے پارلیمنٹ کیلئے 22ہزار کروڑ روپے خزانے میں ہے ، وزیر اعظم کے خصوصی طیارے کی خریداری کیلئے 800کروڑ روپے ہیں ،ممبران اسمبلی اور ممبران پارلیمنٹ کے پنشن خزانے پر بوجھ نہیں بن رہے ہیں ۔تو دیہات اور غریب کسان کے بچوں کو نوکری دینے کیلئے ملک کے خزانے میں روپے نہیں ہے۔دراصل ’’اگنی پتھ اسکیم ‘‘ملک میں سماجی تفریق میں مزید گہرائی لائے گا۔ایک طرف ہندوستانی افواج میں ہی افسران اور کرنل و جنرل کا طبقہ ہے جنہیں اچھی تنخواہیں بھی ملیں گی اور ریٹائرڈ منٹ کے بعد پنشن بھی ۔دوسری طرف دیہات اور غریب خاندان سے آنے والے نوجوانوں کیلئے محض چار سال کی نوکری اور محض نوکری ختم ہونے پر محض11لاکھ روپے ۔جنرل یش مور کہتے ہیں کہ کسی بھی افواج کیلئے افسران سے زیادہ جوان زیادہ اہم ہوتے ہیں کیوں کہ یہی جوان سرحد پر براہ راست دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہیں ۔تاہم اپنی فوج کے اس اہم حصے کے ساتھ کیا کررہے ہیں؟ایک طرف شہری پس منظر اور سماج کے اعلیٰ طبقات سے آنے والے افسران ہیں جنہیں ہر طرح کی سہولیات حاصل ہے اور انہیں 58سال تک ملازمت کرنے کے مواقع ملتے ہیں اس کے بعد پنشن بھی انہیں ملیں گے مگر دوسری طرف ان جوانوں کو کیا ملے گا؟۔اس سے سماجی تفریق اور ناانصافی کا احساس کا اضافہ ہوگا۔کیاکسی ویلفیئر ریاست اپنے نوجوانوں کو اس طرح بے یارو مدگا ر چھوڑ سکتے ہیں ۔اقتصادی امور کے ماہرین بتاتے ہیں اس اسکیم کے ذریعہ مودی نے11لاکھ کروڑ روپے بچایا ہے۔تشدد کی حمایت نہیں کی جانی چاہیے مگر اس میں کوئی شک نہیں ہے دیہی علاقے کے نوجوان جو سوالات اٹھارہے ہیں اور ان کی جو ناراضگی ہے اس پر کسی قسم کا