عالیہ یونیورسٹی کی عمارتیں خستہ حا ل ہورہی ہیں۔ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کےلئے فنڈ کی قلت۔۔۔مگر عالیشان دروازے کی تعمیر پر کروڑ روپے خرچ کردئیے گئے

0
132

کلکتہ :انصاف نیوز آن لائن

گزشتہ ہفتے عالیہ یونیورسٹی کے راجر ہاٹ کیمپس میں صدر دروازہ کا افتتاح ریاستی وزیر اقلیتی امور غلام ربانی کے ذریعہ ہوا ۔گرچہ دروازہ ڈپلومیسی ممتا بنرجی کا سیاسی حربہ ہے۔کلکتہ شہر اور ریاست کے دیگر علاقوں میں بڑے بڑے دروازے تعمیر گزشتہ12سالوں میں کرائے گئے ہیں ۔اسی کو ترقی کا نام دیدیا گیا ہے۔تاہم گزشتہ کئی سالوں سے بحرانی دور سے گزررہے عالیہ یونیورسٹی کے صدر دروازہ کی تعمیر اور اس افتتاح پر سوالیہ نشان لگ گیا ہےکہ ممتا حکومت اوریونیورسٹی انتظامیہ کی ترجیحات کیا ہیں؟ گزشتہ دو سالوں سے پارک سرکس کیمپس میںا نٹرنیٹ سروس نہیں ہے، فیکلٹی ممبران کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔2020میں آئے امفان طوفان سے ہونے والے نقصانات کی بھرپائی اب تک نہیں ہوسکی ہے۔

راجرہاٹ کیمپس، پارک سرکس کیمپس میں کے کلاسیس روم کی حالت خراب ہورہے ہیں ، بیشتر کلاسیس روم میں فرش خراب ہوگئے ہیں ۔ایسے میں ایک کڑو ڑ روپے کی مالیت سے دروازے کی تعمیر پر سوالیہ نشان لگنا لازمی ہے۔ریاستی وزیر اقلیتی امور نے افتتاحی تقریر میں عالیہ یونیورسٹی کی بنگال میں کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ بنگال اقلیتوں کی تعلیمی ترقی میں عالیہ یونیورسٹی اہم کردار ادا کررہی ہے۔اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ مغربی بنگال میں عالیہ یونیورسٹی مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کےلئے سنگ میل ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں عالیہ یونیورسٹی کی تعلیمی ترقی کےلئے کیا کیا اقدامات کئے گئے؟۔اگر اس سوال کا تجزیہ کیا جائے تو کسی کے پاس بھی سوال کا جواب نہیں ہے۔ریاستی وزیر نے مرکزی حکومت کےبجٹ اقلیتی محکمہ کے بجٹ میں کٹوتی کی شکایت تو کی ہے مگروہ اس سوال کا جواب دینے سے گریز کرگئے آخر ریاستی بجٹ میں اقلیتی محکمہ کےلئے مختص فنڈ میں درمیان سال میں نصف کٹوتی کیوں کی گئی ؟

کیا ریاستی وزیر اقلیتی امورغلام ربانی کے پاس اس سوال کا جواب بھی نہیں ہے کہ عالیہ یونیورسٹی کے نام پر مختص فنڈ کا نصف سے بھی کم حصہ خرچ کیوں ہوا ؟

کوئی بھی یونیورسٹی اپنے تعلیمی معیار کی وجہ سے نیک نامی حاصل کرتی ہے،مگرعالیہ یونیورسٹی کے ساتھ معاملہ اس کے برعکس ہے۔، عالیہ یونیورسٹی میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کےلئے حالیہ برسوں میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے۔لائبریری میں معیاری کتابیں کی قلت کا سامنا ہے۔ریسرچ جرنل لائبریری میں نہیں آرہے ہیں ۔انتظامیہ کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ فنڈ کی قلت ہے۔سوال یہ ہے کہ ایک طرف انتظامیہ کے پاس انٹرنیٹ سروس بحال کرنے ، عمارت کے رکھ رکھائو، لائبریری میں کتاب منگوانے کےلئے روپے نہیں ہے تو دوسری طرف صدر دروازہ کی تعمیر کی ضرورت کیا ہے۔فنڈز کی کمی کی وجہ سے NAAC کے دورے نہیں ہو رہے ہیں۔ ضروری تعلیمی عمارتوں اور ہاسٹلز ہے۔

عالیہ یونیورسٹی کے کارگزار وائس چانسلر ابو طاہر قمر الدین نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ یونیورسٹی کی عمارت کی خستہ حالی کے بارے میں بھی وہ خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

کلکتہ ہائی کورٹ نے گورنر کی اجازت کے بغیر وائس چانسلر کی تقرری کو باطل قرار دیدیا ہے۔اس کے باوجود ابو طاہر قمر الدین جو کارگزار وائس چانسلر ہیں اپنے عہد پر برقرار ہیں ۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ استعفیٰ دے رہے ہیں، عالیہ یونیورسٹی کے کارگزاروائس چانسلر ابو طاہر قمر الدین نے بتایاکہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

دوسال قبل عالیہ یونیورسٹی میں مالی گڑبڑی پر ایک وزارت کی سطح پر ایک کمیٹی بنائی گئی تھی مگر آج تک اس کمیٹی کی رپورٹ کو نہ عام کیا گیا ہے اور نہی اس گھوٹالے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ۔
خیال رہے کہ کارگزار وائس چانسلر کے عہدہ پر ابوطاہر قمرالدین تقرری اپنے آپ میں سوالوں کی زد میں تھا۔کیوں کہ وائس چانسلر بننے کےلئے جو معیار ہے اس پر ابوطاہر قمرالدین نہیں اترتے ہیں ۔چوں کہ ان کے سیاسی تعلقات مستحکم ہیں ۔اس لئے انہیں مدرسہ بورڈ کے چیرمین کے ساتھ عالیہ یونیورسٹی کا کارگزار وائس چانسلر بنادیا گیا ۔