مولانا عامر عثمانی:آج بھی میرے خیالوں کی تپش زندہ ہے

0
233

مہتاب عزیز

آپ نظم “بغاوت” سے تو واقف ہی ہوں گے، یعنی
“آج بھی میرے خیالوں کی تپش زندہ ہے
میرے گفتار کی دیرینہ روش زندہ ہے”
آج اس نظم کے خالق مدبّر اسلام ، شہنشاہِ قلم ، نقاد اعظم حضرت مولانا امین الرحمٰن عامر عثمانی (1920 تا 1975) نوراللہ مرقدہٗ کا یوم وفات ہے۔

عالمِ بے بدل،محقق، صحافی،شاعر اور ادیب۔ ایک نابغہ روزگار شخصیت۔قلم انکا غلام، اردوزبان ان کی باندی ،الفاظ ان کے اسیر، حق بیانی انکی پہچان اور تحقیق انکی تحریروں کا خاصہ ہے۔

وہ کسی ایک فن اور کسی ایک خوبی کے مالک نہیں تھے بلکہ بے شمار ذاتی خوبیاں اور علمی رعنائیاں ان کے قلب وقالب میں رچی ہوئی تھیں۔ بظاہر وہ ایک انسانی ڈھانچہ ہی تھے لیکن در حقیقت وہ ایک مکتب تھے ایک لائبریری تھے ایک کتب خانہ تھے ایک یونیورسٹی تھے۔ان کی ہمہ جہت شخصیت آج بھی اپنا جواب نہیں رکھتی۔

تحریر والفاظ کی صورت میں علم وادراک کا جو سرمایہ انھوں نے امت مسلمہ کو بخشا ہے وہ اتنا قیمتی اور انمول ہے کہ دل ودماغ میں اپنی جان سے زیادہ اس کی حفاظت کرنے کا تقاضہ پیدا ہوتا ہے ۔ان کی تحریر پڑھنے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مولانا عامر عثمانی صاحبؒ شاعر بھی تھے، ادیب بھی تھے ، فقیہہ بھی تھے، مفسر بھی تھے، مبصّر بھی تھے، مدبر بھی تھے ،محقق بھی تھے ،نقاد بھی تھے اور محاذ تحریر کے مجاہد بھی تھے۔

30؍نومبر 1920ء کو پیدا ہوئے۔آپ کے والد ماجد کا نام مطلوب الرحمن تھا ، جو دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل (1938ء) ہونے کے ساتھ ساتھ دیوبند کے مایہ ناز فرزند علامہ شبیر عثمانی کے برادر زادے تھے۔

آپ بھی دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہوئے۔ لیکن کبھی مذہبی تعلیم کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا۔ پرچون کی دکان پر کام کیا، پتنگیں بنا کر بیچیں، شیشے پر خطاطی کو وسیلہ روزگار بنایا۔
وہ دور بھی آیا کہ ان کا قلم ممبئی کی فلم نگری کی طرف مڑ گیا، مگر یہ دنیا مولانا کی طبیعت سے میل نہیں کھاتی تھی۔اس لیے جلد پلٹ آئے۔
صحافت کو اوڑنا بھچونا بنایا۔ ماہنامہ “تجلی” کا اجراء 1949ء میں کیا۔ جو آپ کی وفات یعنی 25 سال تک مسلسل شائع ہوتا رہا۔ حالات و آزمائشوں کے باوجود اس رسالے نے علمی و ادبی دنیا میں بہت کم مدت میں لازوال شہرت حاصل کی، منظر عام پر آتے ہی ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا، اس کے سلسلہ مضامین کا اہل علم و ذوق شدت سے انتظار کرتے تھے۔

شعر و سخن کا ذوق ورثے میں ملا تھا ، شاعری میں شہنشاہِ غزل جگرؔ مراد آبادی سے خصوصی تعلق تھا خاص کر غزل گوئی میں انہی کا تتبع بھی فرماتے ، تحریر و تقریر میں لب و لہجے کی شستگی اور انوکھا نرالے اسلوبِ بیان کے ساتھ ساتھ تنقید و تبصروں میں بے باکی آپ کی تحریروں کا خاصہ ہے۔

آپ کو اللہ نے “سید ابو اعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کے صبر کا میٹھا پھل بنایا تھا۔ تا عمر دیوبند میں بیٹھ کر دیوبندیوں کی در فتنیوں کا دندان شکن جواب دیتے رہے۔
جب حسین احمد مدنی نے ” مودودی دستور و عقائد ” میں سید مودودی پر ناروا تنقید لکھی تو مولانا عامر عثمانی نے اس کا قرار واقعی تحریری جواب دیا۔ محمد میاں دیوبندی نے خلافت و ملوکیت کے “رد” میں ” شواہد تقدیس” لکھی تو حضرت مولانا عامر عثمانی نے اس کا جواب ”تجلیات صحابہ” کے نام سے دیا۔ احمد رضا بجنوری اور انظر شاہ کشمیری سے مولانا عامر عثمانی رحمہ اللہ کےتحریری مناظرے ہوئے جن میں مولانا عامر عثمانی نے ان کی علمی بددیانیتوں کے پول کھول کر رکھ دیے۔ یہی مناظرہ بعد میں ”تفہیم القرآن پر اعتراضات کی علمی کمزوریاں” کے نام سے شائع شدہ موجود ہے۔
مولانا عامر عثمانی نے جب ناقدین سید مودودی کا علمی محاسبہ کیا تو مخالفین کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ ان کے زورِ قلم کا ایک زمانہ قائل ہو گیا۔
جب دیوبند کی پوری لاٹ مولانا مودودی پر بلاوجہ کے اعتراضات اور فتویٰ بازی کی دلیل پیش کرنے میں ناکام ہو گئی۔ تو پھر اہل باطل کے روایتی طریقے پر عمل کرتے ہوئے تشدد کا راستہ اپنایا۔ ان کے مکتبہ کو دو بار آگ لگائی گئی۔ ان کے روزگار کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ دارلعلوم دیوبند میں مولانا عامر عثمانی کی تحریر پڑھنے کے الزام میں طلبہ ہی نہیں اساتذہ کی بھی برطرفیاں ہونے لگیں۔ مگر مولانا عامر عثمانی کی طبیعت میں ذرا سی مصالحت و مفاہمت دیکھنے میں نہ آئی۔

پونے کے ایک مشاعرے میں اپنی مشہور نظم ’’جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں‘‘ سنانے کے دس منٹ بعد ہی جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ انا للہ وانا اليه راجعون۔
ہمیں آخرت میں عامرؔ وہی عمر کام آئی
جسے کہہ رہی تھی دنیا غم عشق میں گنوا دی