قدیم اور جدید شاعری کا موازنہ

0
171

فراز منیر

شاعری ادب کی ایک قسم ہے جو خیالات، احساسات کا اظہار کرتی ہے یا کسی مخصوص شکل میں کہانی سناتی ہے۔ جس میں عموماً سطروں اور بندوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ شاعری ایک فن ہے جو تال کی ساخت میں لکھی اور بولی جاتی ہے۔ شاعری کا مقصد کسی خوبصورت یا تخلیقی خیال کو تخلیق کرکے دل بہلانا ہے۔ دو سب سے زیادہ مقبول مضامین جو اکثر شاعری میں استعمال ہوتے ہیں وہ ہیں محبت اور فطرت۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شاعری اپنے اسلوب، انداز اور مختلف زاویے بدلتی رہتی ہے۔ آج کل پسندیدہ شاعر کا انتخاب زیادہ تر ذاتی پسند اور ناپسند کا معاملہ ہے۔ کلاسک شاعری میں بڑے نام مرزا غالب، علامہ محمد اقبال اور فیض احمد فیض ہیں۔ مرزا غالب کی شاعری کو مغلیہ عہد کا آخری عظیم اور بااثر شاعر سمجھا جاتا ہے۔ وہ خالص اردو کے الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں اور اپنے عہد میں اپنا معیار برقرار رکھتے ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی شاعری جیسے علامہ محمد اقبال نے خودی کے تصور کے لیے شاعری کا استعمال کیا۔ اور لوگوں کو زیادہ غوروفکر کرنے کی طرف راغب کیا کہ کیسے وہ اپنے اور اپنی قوم کے بارے میں سوچیں۔
اگر کسی کو پہلی بار محبت ہو جائے تو فیض احمد فیض کی شاعری اس شخص کے لیے واقعی تحفہ ہے۔ایک اور کلاسک شاعر جس کا نام ساقی امروہی ہے، ان کی شاعری بھی محبت، جذبہ اور اداسی پر ہے۔ محفل میں اشعارکہنے کا انداز بہت شاندار، سننے والوں کے لیے دلکش اور پرکشش ہے۔ شاعر کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ اپنے شعر کے ذریعے اپنا پیغام کیسے پہنچاتا ہے۔
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے
تم اچھے ہو مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے
فیض احمد فیض

احمد فراز، منیر نیازی اور جون ایلیا جیسے مشہور شاعروں کی وجہ سے کلاسک شاعروں کی شاعری نوجوانوں میں بہت مشہور ہے۔ سب سے مشہور شاعر جون ایلیا ہیں جو اپنے کلاسک دور میں بھی مشہور ہیں اور جدید دور میں بھی۔ ان کے الفاظ بہت واضح، سادہ اور سمجھنے کے لیےآسان ہیں۔ جون ایلیا کی شاعری کلاسک اور جدید شاعری کی بہترین مثال ہے۔ ماضی میں لوگ ان کی شاعری سننا پسند کرتے تھے اور آج کل کے جدید لوگ اور نوجوان واقعی ان کی طرح ہیں۔ اکثر لوگ ان کی شاعری پر تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ایک افسردہ شاعر تھے۔ آج جون ایلیا اردو کے سب سے زیادہ گوگل کیے جانے والے شاعروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں اور ان کی زیادہ تر مشہور غزلیں اور نظمیں لوگوں کی گیلری میں موجود ہیں۔

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو
جون ایلیا

شاعر اپنے خیالات کو فروغ دینے اور مختلف موضوعات کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لیے اپنے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں، جن میں بعض معاملات میں سیاست بھی شامل ہے۔ شاعروں کے ہاں موقع، تخیل اور واقعات کی واقعی خوبصورت بیانات ہیں۔ ہم عصر شعراء اردو کا استعمال کفایت شعاری سے کرتے ہیں۔ مزید برآں، ان کی شاعری کا اظہار اس قدر روانی سے نہیں ہوتا جتنا کہ کلاسک شاعروں نے کیا ہے۔ تہذیب حافی اور علی زریون دو ہم عصر شاعر ہیں جن کی شاعری بہت ہموار ہے اور جن سے آپ جیسے لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں، خاص طور پر تہذیب حافی۔
تہذیب حافی ایک ایسے شاعر ہیں جن کی شاعری میں جدید جمالیاتی اور دلکش لہجہ ہے۔ تہذیب کی تحریر میں فطری بے ساختگی کی وہی آسانی ہے جو اس کے طرز عمل اور ہیئت سے جھلکتی ہے۔ تہزیب حافی کی شاعری لوگوں کے دلوں کو چھوتی ہے اور وہ جس طرح سے اپنی نظموں کو ترتیب دیتا ہے اور اپنے آپ کو بیان کرتا ہے اس میں ایک خوبصورتی کا احساس ہوتا ہے جو کہ پڑھنے اور سننے والے دونوں کے حواس کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ وہ اس وقت نوجوان نسل میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے شاعر ہیں۔ انہوں نے اپنی زیادہ تر شہرت ویڈیو ایپ ،ٹک ٹاک اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام کے ذریعے حاصل کی۔

تجھ کو پانے میں مسلہ یہ ہے
تجھ کو کھونے کے وسوسے رہیں گے
تہذیب حافی
تاہم موجودہ دور میں سب سے زیادہ معروف شاعر علی زریون ہیں جو معاشرے میں قبولیت، محبت، ہم آہنگی اور احترام کی وکالت کرتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی شہرت رکھتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ انہوں نے اپنے کلام اور نظموں کے ذریعے لوگوں کے دل جیت لیے۔ لوگ اپنے جذبات کے اظہار کے لیے علی زریون کی خوبصورت شاعری کا استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ ایک کثیر لسانی مصنف ہیں جو پنجابی، انگریزی، فارسی اور اردو میں لکھتے ہیں۔ وہ اپنی نظموں کے ذریعے بڑے موثر انداز میں معاشرے کو چیلنج کرتے ہیں اور قاری کو اپنے بارے میں بھی آگاہ کرتے ہیں۔

تہمت تو لگا دیتے ہو بیکاری کی ہم پر
پوچھو تو سہی کس لیے بیکار ہوئے ہیں
علی زریون
ہر شاعر کی شاعری ہماری پرجوش داد کی مستحق ہے۔ متعدد خواتین شاعرات ہیں جن کا کام کلاسک اور جدید شاعری دونوں میں مہارت رکھتا ہے، ان میں پروین شاکر، کشور ناہید، ادا جعفری، زہرہ نگاہ اور سارہ شگفتہ سمیت شاعرات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سامعین ان کی شاعری سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔ لوگ ان کی شاعری سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور انہیں سننا چاہتے ہیں۔

آخر میں، جدید شاعری سامعین کے سمجھنے میں آسان ہے، لیکن کلاسیکی تالوں میں ایک مٹھاس ہے جو غا ئب ہے۔ امید ہے کہ کچھ جدید شاعر کلاسیکی تال کے انداز میں لکھیں گے تاکہ لوگوں کے سامنے مزید گہرائی سے اظہار کیا جا سکے۔ جدید شاعر اپنی شاعری میں معاشرتی مسائل پر بھی گفتگو کرتے ہیں جو شاعری کے ذریعے معاشرتی مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔