آسام کے وزیرا علیٰ نے پوری دنیا کے سامنے وزیرا عظم مودی کو رسوا کیا

امریکہ میں بھارت میں مذہبی آزادی اور جمہوریت کے حوالے سے وزیرا عظم کے بیان کے محض 24گھنٹے بعد ہیمانت بسواشرما نے جس طریقے سے مسلمانوں کو دھمکی دی ہے ۔اس کے بعد دنیا کے سامنے سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ وہ وزیر اعظم مودی کے قول پر یقین کرے یاسرما کی دھمکی پر یقین کرے

0
219

امریکہ میں ہندوستانی جمہوریت اور مذہبی آزادی کی یقین دہانی کرانے کے وزیرا عظم نریندر مودی کے بیان کے محض 24گھنٹے بعد ہی آسام میں بی جے پی کے وزیرا علیٰ ہیمانت بسواس شرمانے بارا ک اوبا کے حوالے سے شرمانک بیان کردے کر دنیا کے سامنے سوال کھڑا کردیا ہے کہ وہ مودی کے بیان پر یقین کریں یا پھر بی جے پی کے وزیر اعلی ٰ کی جو مسلمانوں کو کھلے عام دھمکی دے رہے ہیں ۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسو سرما ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز تبصرے اور بیانات کے لئے بحث میں رہتے ہیں ۔آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرمانے جمعہ کو سابق امریکی صدر براک اوباما کے ہندوستان میں مسلمانوں کے تحفظ پر تبصرہ کرنے کے بعد ایک ٹوئٹ کیا جس میں واضح طور پر مسلمانوں کو دھمکی دی ہے ۔انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ملک میں بہت سے حسین اوباما‘‘ ہیں اور ریاستی پولیس یہاں اپنی ترجیحات کے مطابق کارروائی کرے گی۔ اس تبصرے کے بعد اپوزیشن نے آسام کے وزیر اعلیٰ پر فوری تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ در اصل سرما کا ٹویٹ جمعرات کو سی این این کو اوباما کے انٹرویو پر ایک صحافی کی پوسٹ کے جواب میں تھا۔امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے جمعرات کو سی این این کو دیئے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ اگر میں آج وزیر اعظم مودی سے امریکی صدر کے حیثیت سے ملاقات کرتا تو میں ہندوستان میں اقلیتوں کے تحفظ پر بات ضرور کرتا ۔

اوبامہ کے اس بیان پر ایک صحافی نے ٹوئٹ کیا کہ کیا گوہاٹی میں اوبامہ کے خلاف جذبات مجروح کرنے پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے؟ کیا آسام پولیس اوباما کوگرفتار کرنے واشنگٹن جائے گی؟ یہ ٹوئٹ در اصل ملک میں کے مختلف حصوں میں اپوزیشن لیڈروں کے تبصرہ پر ر آسام میں درج ایف آئی آر کی طرف اشارہ تھا۔ اس کے جواب میں سرما نے لکھا، ’’خود ہندوستان میں بہت سے حسین اوباما ہیں۔ ہمیں واشنگٹن جانے پر غور کرنے سے پہلے ان کی دیکھ بھال کو ترجیح دینی چاہیے۔ آسام پولیس ہماری اپنی ترجیحات کے مطابق کارروائی کرے گی۔‘‘

واضح رہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ کا یہ تبصرہ وزیر اعظم نریندر مودی کے صدر بائیڈن کے ساتھ وائٹ ہاؤس کی مشترکہ پریس کانفرنس کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے، جس میں وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ “ہندوستان میں ذات پات یا مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہے، ان کی حکومت آئین کی پیروی کرتی ہے، جمہوریت کی بنیادی اقدار پر حکومت قائم ہے۔

این سی پی نے جمعہ کو کہا کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کا حسین اوباما کا تبصرہ ناگوار تھا اور امریکی دورے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے اس دعوے کو نقصان پہنچاتا ہے کہ ہندوستان میں مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہے۔

سرما کو معافی مانگنی چاہیے تاکہ دنیا وزیر اعظم پر یقین کرے۔

ایک صحافی کے اس ٹویٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہ کیا آسام پولیس اب سابق امریکی صدر براک اوباما کو ہندوستان میں اقلیتوں کےخطرے کے بارے میں ان کے ریمارکس پر گرفتار کرنے کی کوشش کرے گی، سرما نے جمعہ کو کہا کہ بھارت میں بہت سے حسین اوباما ہیںاور ان کو ترجیحی بنیاد پر نمٹا یاجائے گا

صحافی کے ٹویٹ میں بظاہر ملک کے مختلف حصوں میں کیے گئے تبصروں پر اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف آسام میں درج ایف آئی آر کا حوالہ دیا گیا تھا۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ترجمان کلائیڈ کرسٹو نے کہا، ’’یا تو اس نے (سرما) نے ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی جی کے امریکہ میں دیئے گئے بیان کو نہیں سنا، یا وہ بے عزتی کے ساتھ ان کی بات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔‘‘

مودی نے کہا تھا کہ ہندوستان میں ذات پات، عقیدہ، مذہب، جنس سے قطع نظر، امتیازی سلوک کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ یہ ایک پیغام ہے جس پر بی جے پی اور اس کے کیڈر بشمول بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کو عمل کرنا چاہیے۔ ورنہ، ہمارے وزیر اعظم نے امریکہ میں جو کہا اس پر دنیا یقین نہیں کرے گی۔”

این سی پی کے ترجمان نے کہا کہ آسام کے چیف منسٹر کے بیان نے اوبامہ کی بھی توہین کی، جو دنیا کے بہترین لیڈروں میں سے ایک ہیں اور کسی ایسے شخص کو مودی نے ’’قریبی دوست‘‘ قرار دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ’’اب بی جے پی کے سی ایم مسٹر سرما کو معافی مانگنی چاہیے تاکہ دنیا کو یقین ہو جائے کہ مودی جی نے جو کہا وہ سچ ہے۔‘‘

دوسروں کے علاوہ، آسام پولیس نے فروری میں کانگریس لیڈر پون کھیرا کو ڈیپلان کرکے گرفتار کیا تھا اور گزشتہ سال گجرات کے اس وقت کے آزاد ایم ایل اے جگنیش میوانی کو گرفتار کیا تھا۔

جمعرات کو سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اوباما نے کہا تھا کہ اگر مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری نہیں کی گئی تو ہندوستان ’علحدگی اختیار کر سکتا ہے‘ اور اگر وہ مودی سے بات کریں گے تو وہ اس معاملے کو اٹھائیں گے۔

ہیمنت سرما کے اس متنازع تبصرہ پر کانگریس کی ترجمان اور سوشل میڈیا کی سربراہ سپریا شرینیٹ نے ٹویٹ کیاکہ ”میرے دوست براک اب حسین اوباما ہیں! دراصل ہیمنت نے وائٹ ہاؤس میں پی ایم مودی سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیا ہے۔ صدر اوباما کے مسلمان ہونے کے بارے میں اور ہندوستانی مسلمانوں کو سبق سکھانے کی ضرورت کے بارے میں ان کا یہ اعتراض سوال کی بنیاد تھا۔ اس پر پی ایم، ایم ای اے اور حکومت ہند کا کیا موقف ہے؟”

ترنمول کانگریس کے ترجمان ساکیت گوکھلے نے ہیمنت سرما کے بیان کو بین الاقوامی سطح پر پی ایم مودی کی منافقت اور جھوٹ کو واضح طور پر بے نقاب کرنے والا قرار دیا ہے۔