بنگال میں مساجد بھی سیاست کا اکھاڑہ بن گیا —-”ترنمولی مسلمانوں“نے آئی ایس ایف کے ممبر اسمبلی کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روکنے کی کوشش کی

0
45

کلکتہ2دسمبر (انصاف نیوز آن لائن)
آئی ایس ایف کے ممبر اسمبلی نوشاد صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ ہوڑہ کے مشرقی الوبیڑیا میں پارٹی پروگرام میں شرکت کرنے کے بعد جب نماز کی ادائیگی کیلئے مسجد میں گئے تو ترنمول کانگریس کے حامی نعرے بازی کرے لگے اور نماز پڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔
نوشاد صدیقی نے بتایا کہ 29 نومبر کو الوبیڑیا مشرقی اسمبلی حلقے میں پارٹی کے ایک پروگرام میں شرکت کی۔پروگرام میں شرکت کرنے کے بعد مغرب کی نماز کیلئے پوربا پارا کے کھالسانی کے ایک مسجد میں گئے۔لوگوں کو جب خبر ہوئی کہ میں مغرب کی نماز کیلئے میں مسجد میں آیا ہوا ہوں تو ترنمول کانگریس کے حامی جمع ہونے لگے اور مسجد کے باہر نعرے بازی کرنے لگے۔
نوشاد صدیقی نے بتایا کہ چند مقامی نمازیوں کی وجہ سے مجھے جسمانی طور پر کوئی نقصان نہیں پہنچا مگر بڑی تعداد میں مسجد کے باہر ترنمول کانگریس کے حامی جمع تھے۔ان لوگوں کا کہنا تھا کہ مجھے مسجد میں داخل ہونے کیوں دیاگیا۔نوشاد صدیقی نے کہا کہ مسجد کے باہر کھڑی میری گاڑی کو ہٹادیا گیا۔میرے ڈرائیور نے بتایا کہ گاڑی کو ہٹادیا گیا ہے۔مجھے موٹر سائیکل سے نکلنا پڑا کیوں کہ میری گاڑی کو کافی دورتک ہٹوا دیا گیا تھا۔

نوشاد صدیقی نے بتایا کہ جب میں مسجد کے باہر نکلا تو ترنمول کانگریس کے حامی نعرے بازی کرنے لگے۔بہت ہی مشکل سے میں وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہا۔آئی ایس ایف کے حامیوں نے مجھے جلد سے جلد یہاں سے نکلنے کو کہا۔نوشاد صدیقی نے کہا کہ مسجد کے قریب ایک گلی سے کچھ لوگ نکل میرے ساتھ گالی گلوج کرنے لگے۔انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ بدسلوکی کی خبر پھیلنے کے بعد آئی ایس ایف کے حامی نیشنل ہائی وے کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کردیا۔مگر میں نے منع کیا اور اپنے حامیوں سے کہا کہ مسجد کے نام پر جولوگ سیاست کرتے ہیں انہیں کرنے دیں۔آئی ایس ایف کسی بھی صورت میں مسجد کو بدنام کرنے کی کوشش کامیاب ہونے نہیں دیا۔
نوشاد صدیقی نے کہا کہ مسجد سیاست سے پاک ہوتا ہے۔مسجد کے نام پر کسی بھی سیاسی جماعت کو سیاست کرنے کا حق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس بنگال میں ایسے حالات پیدا کردیا ہے کہ مسجد بھی سیاست زدہ ہوگیا ہے۔نوشاد صدیقی نے مغربی بنگال کے علما سے اپیل کی ہے کہ مسجدوں کو سیاست سے پاک کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس وقت اس صورت حال پر کنٹرول ہیں کیا گیا تو مستقبل میں ہمارے سیاسی اکھاڑہ بن جائے گا اور اس وقت حالات کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجائے گا۔