بی جے پی ممبر پارلیمنٹ کا مسلمانوں کی بایکاٹ اپیل کرنے کی اپیل

0
67

نئ دہلی :بی جے پی کے بڑے لیڈروں کی طرف سے بے روک ٹوک ہیٹ اسپیچ اور مسلمانوں کے خلاف ہندو کمیونٹی کو بھڑکانے کا سلسلہ جاری ہے اور دوسری طرف سنگھ پرمکھ مسجد و مدرسہ جاکر امن کا پیغام دے رہے ہیں۔

وشو ہندو پریشد نے اتوار کو دہلی کے سندر نگری میں ایک ہندو نوجوان منیش کے قتل کے خلاف احتجاجی پروگرام ‘وراٹ ہندو سبھا’ کا انعقاد کیا۔ اس دوران اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مغربی دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرویش ورما نے ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ منیش کی موت جہادی عناصر کی وجہ سے ہوئی ہے۔

واضح رہے یہ آپسی دشمنی کا معاملہ تھا جس کو ہندو مسلم رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ابی جے پی کے ایم پی نے ہندؤوں کو اکساتے ہوۓ کہا کہ منیش کا قتل کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس کے لیے انہوں نے مسلمانوں کو سبق سکھانے کے لیے بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔ اس دوران وہاں موجود لوگوں نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اس اپیل کی حمایت کی۔دینک ہندوستان’ کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ جب تک تمام ہندو متحد نہیں ہوتے اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ‘جہادی عناصر’ دہلی میں ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہاں ان کی حکومت ہے۔

ہندو اور پولیس چاہیں تو ایسے لوگوں کو 24 گھنٹے میں سبق سکھا سکتے ہیں۔پرویش ورما نے کہا کہ اگر ان کے دماغ اور صحت کو ٹھیک کرنا ہے تو اس کا ایک ہی علاج ہے، اور وہ ہے مکمل بائیکاٹ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مسلمانوں کی دکانوں سے سبزی خریدنا بند کردیں، ان سے کوئی سامان نہ خریدیں اور انہیں کسی قسم کی اجرت نہ دیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ریہڑیاں لگا رہے ہیں، لوگوں کو ان سے سبزی خریدنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ گوشت اور مچھلی کی دکانیں اور ریستوراں کھولتے ہیں، ایم سی ڈی سے بات کرکے ایسی دکانوں کو بند کرنے کی ضرورت ہے، جن کے پاس لائسنس نہیں ہے۔ یہ لوگ جہاں بھی نظر آئیں ان کا بائیکاٹ کریں۔