بہار کے تعلیمی اداروں میں بھی حجاب پر تنازع

0
57

کرناٹک کے کالجوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف سپریم کورٹ کی ڈویژن بنچ کے دو نوں ججوں کے الگ الگ فیصلے پر مختلف پہلوئوں سے بحث و مباحثہ کا سلسلہ ہی جاری تھا کہ بہار کے مظفر پور ضلع کے ایک گرلس کالج میں حجاب کا تنازع سامنے آگیا۔16اکتوبر کو مہنت درشن داس مہیلا کالج میں امتحان دینے پہنچیں طالبا ت کو کالج داخل ہونے سے اس لئے روک دیا گیا کہ وہ اپنے سرپر حجاب پہن رکھا تھا۔بہار میں حجاب پر تنازع کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے ۔اس سے قبل اسی سال فروری میں ’’یوکو بینک کے بیگوسرائے برانچ ‘‘ میں حجاب پہن کر آنے والی ایک خاتون صارف کو یہ کہتے ہوئے بینک سے رقم نکالنے کی اجازت دینے انکار کردیا کہ جب تک وہ حجاب نہیں اتاریں گی اس وقت تک رقم نہیں دیا جائے گا۔اسکولوں و کالجز اور دیگر عوامی مقامات پر بہار میں حجاب پہننے یا نہیں پہننے سے متعلق کوئی قانون نہیں ہے۔کرناٹک کے کالجوں میں جب حجاب پر تنازع کھڑا ہوا تو اس وقت بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار جو بی جے پی کی حمایت سے حکومت چلارہے تھے نے کرناٹک میں حجاب پر پابندی اور اس کو لے کر جاری بحث و تکرار کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہار میںا س طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ ہی اس کو لے کر کسی کو بھی سیاست کرنے کی اجازت دی جائے گی۔بہار حکومت کے اس واضح موقف کے باوجود بہار میں وقتاً فوقتاًحجاب پر تنازع کھڑا ہوتا رہتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ یہ تنازعات اتفاقا پیدا ہورہے ہیں یا پھر کسی منصوبہ بندکوششوں کا تسلسل ہے۔ایک ایسے وقت میں جب نتیش کمار بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر راشٹریہ جنتادل کی حمایت سے حکومت چلارہے ہیں ایسے میں بہار میں پولرائزیشن کی کوششوں کے تناظر میں بھی اس پورے واقعے کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
دراصل مہنت درشن داس مہیلا کالج (MDDM) میں بارہویں جماعت کیلئے انٹرنل امتحانات چل رہے ہیں۔16اکتوبر کو امتحان کا آخری دن تھا۔یہ مسلم طالبات جب اتوار کو جب کالج پہنچیں توانگریزی کے استاذ ششی بھوشن نے کالج کے گیٹ پر ہی حجاب میں ملبوس مسلم طالبات کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اسکارف کو اتار کر چیکنگ کرائیں کہ کہیں بولو توتھ ڈیوائس یا پھر کوئی الیکٹرانک سامان چھپایا تو نہیں رکھا ہے۔مسلم طالبات نے کہا کہ وہ کسی خاتون نگراں یا گارڈکی نگرانی میں چیکنگ کرانے کو تیار ہیں مگر ششی بھوشن خود جانچ کرنے پر مصر تھے۔مجبور ہوکرطالبات نے حجاب نکال کر جانچ کرایا کہ اس نے کوئی الیکٹرانک سامان چھپا نہیں رکھا ہے۔اس کے بعد یہ طالبات دوبارہ حجاب پہننا شروع کردیا۔استاذ ششی بھوشن نے دوبارہ حجاب پہننے سے طالبات کو منع کرتے ہوئے کہا کہ ’’دیش کا کھاتی ہو اور پاکستان کا گانا گاتی ہو‘‘۔شہریت پر سوال اٹھائے جانے پر طالبات چراغ پا ہوگئیں اور احتجاج کرنا شروع کردیا۔کالج کے باہر طالبات کے احتجاج کی خبر ملتے ہیں مقامی پولس اسٹیشن مٹھا پورہ کے ایس ایچ او نے خواتین کانسٹیبلوں کے ہمراہ جائے وقوع کا دورہ کرکے حالات کو پرامن بنانے کی کوشش کی ۔ کالج کی پرنسپل ڈاکٹر کنو پریا جو کالج سے باہر تھیں وہ کالج پہنچ کر حالات حالات کو پرسکون کیا۔مگر اس واقعے کے بعد کالج کی پرنسپل صاحبہ نے اس پورے معاملے میں مسلم طالبات کوہی کٹہرا میں کھڑا کرنے کی کوشش شروع کردی۔جب کہ پرنسپل کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری تھی وہ اس پورے معاملے کی آزادانہ جانچ کراتی ۔ طالبات کو پاکستانی ہونے کا طعنہ دینے والے استاذ کو کلین چٹ دینے کے بجائے معاملے کی تہہ تک پہنچتی مگر امتحان کے دوران کالج سے غائب رہنے اور ہنگامہ کے بعد بھی کافی دیر سے پہنچنے والی پرنسپل صاحبہ نے خود پر سوال نہ اٹھے اس کیلئے انہوں نے طالبات کو ہی ذمہ دار ٹھہرادیا
پرنسپل ڈاکٹر پریا کہتی ہیں کہ امتحان سے قبل ان طالبات کو موبائل جمع کرنے اور بلیو ٹوتھ ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی۔مگر یہ طالبات پورے معاملے کو مذہبی رنگ دیدیا۔احتجاج کرنے والی طالبات کی کم حاضری کا ذکر کرتے ہوئے، ڈاکٹر پریا نے کہا کہ یہ بہت شرمناک بات ہے۔ ان طالبات کی حاضری 75 فیصد سے کم ہے۔ وزیر تعلیم اور یونیورسٹی کی ہدایت ہے کہ75فیصد سے کم حاضری پرفائنل امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ استاذ کے خلاف الزام سراسر غلط ہے ۔حجاب کی کوئی بات نہیں ہوئی انہوں نے ملک دشمن اور پاکستان جانے جیسی کوئی بات نہیں کہی۔ یہ لوگ غیر ضروری دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ کالج انتظامیہ ان کے مطالبات کے آگے جھک جائے۔
کالج کی پرنسپل کا یہ بیان تضادات پر مبنی ہے۔ایک طرف وہ کہہ رہی ہیں ان طالبات کو امتحان ہال میں موبائل فون اور بولو ٹوتھ ڈیوائس نہیں لے جانے کیلئے چیکنگ کرانے کی ہدایت دی گئی تھی تو دوسری طرف دعویٰ کررہی ہیں کہ ان طالبات کی 75فیصد حاضری نہیں تھی اس لئے وہ دبائو بنانے کیلئے اس طرح کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔مگرسوال یہ ہے کہ جب ان کی 75فیصد حاضری کم تھی تو یہ طالبات دیگر پرچوں کے امتحان کیسے دیا۔کیوں کہ 16اکتوبر کو امتحان کا آخری دن تھا۔ طالبات کا کہنا ہے کہ انہوں نے طالبات کا موقف سنے بغیر ہی یہ دعویٰ کردیا کہ ملک دشمن اور پاکستانی ہونے کا طعنہ نہیں دیا گیا۔ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ ان طالبا ت کا مطالبہ تھا کہ اگر ان پر شک ہے کہ حجاب کی آڑ میںوہ کان میں بولو ٹوتھ ڈیوائس لگارکھا ہے تو اس کی جانچ کیلئے خاتون نگراں کو بلایا جائے تو اس میں غلط کیا بات تھی؟۔سوال یہ بھی ہے کہ لڑکیوں کے کالج میںامتحانات میں چوری روکنے کیلئے جانچ کی اس پوری کارروائی ایک مرد ٹیچر کیسے انجام دے سکتے ہیں ۔خواتین ٹیچر موجود کیوں نہیں تھی۔خود پرنسپل کی غیر حاضری پر بھی سوال اٹھنا چاہیے
بہار ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین پروفیسر یونس حسین حکیم بتاتے ہیں کہ فروری میں جب بینک کا معاملہ سامنے آیا تھا تو ہم نے یوکے بینک کے ایم ڈی کو خط لکھ کر قصوروار عملے کے خلاف کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایاجائے اس طرح کے معاملات دوبارہ پیش نہ آئے اور اس معاملے میں ایڈوائزری جاری کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ہی بینک نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’’بینک شہریوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرتا ہے اور اپنے معزز صارفین کے ساتھ ذات پات یا مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتا۔ بینک اس معاملے پر حقائق کی جانچ کر رہا ہے۔اسکول و کالج میں حجاب کو لے کر تنازع پر انہوں نے کہا کہ بہار حکومت کا موقف اس معاملے میں واضح ہے ۔اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی اور مظفر پور کالج میں ہوئے واقعات پر ہم نوٹس لے رہے ہیں ۔
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا تھا کہ بہارمیں حجاب ایک نان ایشو ہے۔ یہ بہار میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہمیں ایسی چیزوں پر توجہ نہیں دینی چاہیے۔ یہ بیکار ہے۔جنتاکے دربار میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’بہار کے اسکولوں میں، بچے تقریباً ایک ہی قسم کا لباس پہنتے ہیں۔ اگر کوئی سر پر کوئی چیز رکھ دے تو اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ ہم ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں۔نتیش کمار کی صاف گوئی اپنی جگہ مگر اس طرح کے تنازعات کا تسلسل ان کے قول و عمل کے تضادات کو عیاں کرتے ہیں ۔انہیں بیان دینے سے قبل عملی طور پربھی مذہبی آزادی کو نافذ کرنا ہوگا۔