Wednesday, May 29, 2024
homeہندوستان30سال کے بعدمنی پور میں شراب سے پابندی ختم ۔۔سول سوسائٹی کا...

30سال کے بعدمنی پور میں شراب سے پابندی ختم ۔۔سول سوسائٹی کا احتجاج

30 سال بعدمنی پور حکومت نے آمدنی میں اضافہ کیلئے شراب پرپابندی ختم کردی ہے ۔20 ستمبر کو حکومت نے اعلان کیا کہ تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز، سیاحتی مقامات، 20 سے زیادہ بیڈروم والے ہوٹلس اور منی پور کی راجدھانی امپھال شہر میں شراب کی فروخت اور استعمال پر پابندی کو ختم کردیا جائے گا۔ سیکورٹی فورسز کے اداروں اور کیمپوں سے بھی پابندی ہٹا دی جائے گی۔پابندی ہٹانے کے پیچھے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد شراب کی غیر قانونی تجارت کے تباہ کن اثرات کو روکنے کے علاوہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور 600 کروڑ روپے تک کی سالانہ آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ منی پور میں 1991میں شراب پرپابندی عائد کی گئی تھی ۔یہ الگ بات ہے کہ پابندی کے باوجود منی پورمیں شراب وسیع پیمانے پر دستیاب ہے یہی صورت حال بہار ، گجرات اور دیگر ریاستیں جہاں شراب پر پابندی ہے وہاں بھی شراب بڑے پیمانے پر آسانی سے دستیاب ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس پابندی سے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے ذریعہ تیار کی جانے والی دیسی شراب مستثنیٰ تھی۔2002 میںاس پالیسی میں جزوی تبدیلی بھی کی گئی اور پابندی سے پانچ اضلاع کو مستثنیٰ کردیاگیا ۔میانمار سے متصل علاقے میں غیر قانونی شراب کی درآمد کی وجہ سے منی پور میں شراب کی بھرمارہے۔علامتی پابندی ہی سہی مگر قانونی طور پر شراب سے پابندی ہٹائے جانے کے خلاف منی پور کی سول سوسائٹی کی تنظییں ،خواتین کی تنظیمیں اور کولیشن اگینسٹ ڈرگز اینڈ الکحل اس فیصلے کے خلاف تحریک چلاری رہی ہے۔
شراب کے خلاف کئی دہائیوں سے مہم چلانے والی خواتین کی تنظیمیں، ’’کولیشن اگینسٹ ڈرگز اینڈ الکحل ‘‘اور دیگرتنظیمیں حکومتی اقدامات کے خلاف تحریک چلارہے ہیں۔ منی پور میں شراب مخالف تحریک کی جڑیں کافی گہری ہیں ۔شراب مخالف تحریک کا تعلق 20ویں صدی میں معاشی پالیسی اور نوآبادیاتی حکومت کے خلاف تحریک سے جڑتی ہیں۔ ’’میرا پائی بیس‘‘(خواتین مشعل بردار منی پور)نے نوآبادیاتی جبر اور خواتین کے استحصال کے خلاف 20ویں صدی میں جو تحریک چلائی اس میں شراب مخالف تحریک بھی شامل تھی۔ 1970میں منی پور میںسیاسی سورش کے واقعات میں اضافہ کے بعد ’’میرا پائی بیس‘‘ایک بار پھر متحرک ہوئی اور سماجی برائی شراب نوشی کے خلاف ’’نوپی سماج‘‘ کی بنیاد رکھی۔70کی دہائی کے بعد عسکریت پسندوں کی سرگرمی میں اضافہ، سیکورٹی فورسیس کی جوابی کارروائیوں کی وجہ سے حقوق انسانی کی تلفی عام سی بات ہوگئی تو۔’’میرا پائی بیس‘‘نے اس دور میں ریاستی جبر کے خلاف تحریک چلانے پر مرکوز کردیا۔اس دور میں عسکریت پسند جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ نوجوانوں کے انقلابی بننے سے روکنے کیلئے حکومت منشیات اور شراب جیسی نشہ آور اشیاء کے استعمال کو فروغ دے رہی ۔عسکریت پسندوں کے یہ بیانات عوامی سطح پر انہیں مقبول بنانے لگی تھی ۔چناں چہ حکومت پابندی پر غور کرنا شروع کردیا۔1990میں جب شراب پر پابندی کی تجویز پر کام جاری تھا اس وقت سیکورٹی فورسیس نے یہ کہتے ہوئے مخالفت کی تھی کہ اس کی وجہ سے غیر قانونی شراب کے کاروبار کا فروغ ہوگا۔مگر عسکریت پسندوں کے بیانیہ کو شکست دینے کیلئے حکومت علامتی طورپر ہی سہی شراب پر پابند ی عائد کردی ۔1991میں شراب پر پابندی عائد کی جانے والی انتظامیہ کا حصہ رہے سابق بیوروکریٹ آر کے نیمائی کہتے ہیں کہ ریاست کے بڑے حصوں نے کبھی شراب پینا بند نہیں کیا، لیکن شراب کی سیاسی مخالفت سے حوصلہ افزائی ہوئی۔
’’نوپی سماج‘‘نے شراب پر پابندی دوبارہ عائد کرنے کیلئے10اکتوبر کو ڈیڈ لائن دی تھی مگر یہ ڈیڈلائن ختم ہوئے دس دن گزرجانے کے باوجود حکومت اور مظاہرین کے درمیان تعطل برقرار ہے۔وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ نے منی پور میں شراب کی ممکنہ قانونی حیثیت سے متعلق ایک وائٹ پیپر جاری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔2015 میںکانگریس کی سابقہ حکومت اورسابق وزیر اعلیٰ اوکرم ایبوبی سنگھ نے شراب کی تیاری اور فروخت پر سے پابندی ہٹانے پر غور کیا تھا، لیکن احتجاج کے بعد اس تجویز کو واپس لے لیا تھا۔2018 میں، برین سنگھ نے منی پور شراب پر پابندی (دوسری ترمیمی بل) پیش کیا لیکن اسے سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنا پڑا کیونکہ خواتین کی تنظیمیں اور دیگر گروپ نے اس کی مخالفت کی۔ قانون ساز اسمبلی کی مدت ختم ہوتے ہی یہ بل بھی ختم ہو گیا۔20ستمبر کو شراب پر پابندی میں نرمی لانے کیلئے دو صفحاتی گائیڈ لائن جاری کرکے یہ پنڈورا باکس دوبارہ کھول دیا ہے۔حکومت کا موقف ہے کہ ان اقدامات سے شراب کی فروخت منظمہوگی،غیر قانونی اورآسانی سے شراب کی دستیابی کا خاتمہ ہوگا ،ملاوٹ شدہ شراب پر روک لگے گی ۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا کے ذریعہ تصدیق شدہ شراب ہی فروخت کرنے کی اجازت ہوگی۔
2006سے شراب مخالف تحریک چلانے والی تنظیم’’کولیشن اگینسٹ ڈرگس اینڈ الکوحل‘‘حکومتی اقدامات کی تنقید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ شراب پرپابندیوں میں ڈھیل ’’جلدبازی‘‘میں اٹھایا گیا فیصلہ ہے۔’’میرا پائی بیس‘‘اور دیگر اسٹیک ہولڈرس سے با ت تک نہیں کی گئی ہے۔’کولیشن اگینسٹ ڈرگس اینڈ الکوحل‘‘کے جنرل سیکریٹری گیت چندر منگانگ کہتے ہیں کہ حکومت نے شراب نوشی کے فروغ کو روکنے کیلئے کوئی میکانزم تیار نہیں کیا ہے۔حکومتی اقدام سے شراب کی کھپت میں اضافہ ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ 2019-20 کے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے اعداد و شمار کے مطابق منی پور سب سے زیادہ شراب پینے والی ریاستوں میں پانچویں نمبر پر ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی حکومت یہ بات کیسے کہہ سکتی ہے کہ اچھی شراب پینے سے اچھی صحت رہے گی۔
حکومت کے ذریعہ آمدنی میں اضافے کے دعوے پرسوالیہ نشان لگاتے ہوئے مصنف اور صحافی پردیپ فنجوبم کہتے ہیں کہ ایکسائز ڈیوٹی کے تعلق سے حکومت بہت زیادہ پر امید ہے۔منی پور میں بڑی تعداد مقامی شراب پیتے ہیں جو کہ ایکسائز ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہے۔مگر نئی پالیسی شراب کی روایتی صنعتوں کو متاثر کرے گی جیسے اینڈرو اور سیکمائی میں، جہاں چاول سے شراب تیار کی جاتی ہے۔ جنرل سیکریٹری گیت چندر منگانگ کہتے ہیں کہ حکومت میعاری شراب کی بات کرتی ہے مگر کیا اس نے شراب کے استعمال کے خطرات کے بارے میں بیداری لانے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا ہے ۔حکومت کے اس قدم سے منی پور کے نوجوان تباہ و برباد ہوجائیں گے اور انہیں شراب پینے کا قانونی جواز مل جائے گا۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین