ہندوستان میں مسلمانوں کی روحانیت کی ضابطہ کشی— ہندوتو گروپ کی جارحیت اورانسانیت دشمنی

0
54

تحریر : ہلال احمد
مسلمانوں کی مذہبیت خاص طور سے روزہ اور نماز ایک طے شدہ ایشو(Settled issue) ہے۔ اسلام پر اعتقاد اور عمل کے لحاظ سے یہ صداقت تسلیم شدہ ہے کہ دنیا بھرمیں مسلمان دیگر مذاہب کے مقابلے میں زیادہ مذہبی ہوتے ہیں اور ان کا سماجی زندگی کا پہلو خاص طور پر عالمی سیاسی نظریہ اسلام کی روشنی میں متعین ہوتا ہے۔سخت قسم کا مفروضہ دو مختلف انداز سے اختیار کیا جاتا ہے۔ ایک منفی انداز سے مسلم مذہبیت ہمیشہ کمزور رجحان (Destablizing Phenomenon) ہوتا ہے جیسے ایک سخت قسم کا سیکولر دماغ ہوتا ہے اور دوسرا سخت قسم کا پابند اسلام جو جدت پسندی کو قبول کرنے سے احتراز کرتا ہے۔ دوسری ہندوتو گروپ اس کے بر عکس سوچتا ہے کہ ہندو مت کے لئے مسلم مذہبیت خطرہ کی گھنٹی ہے۔ ہندوتو گروپ یہ بھی کہتا ہے اور سوچتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر جو اجتماعی عبادت کا عمل اور اتحاد اور بھائی چارہ پایا جاتا ہے وہ در اصل ہندوں کو کمزور اور غیر مستحکم بنانے کے لئے ایک فرقہ وارانہ حکمت عملی ہے۔ ہندوتو کے لوگوں کا ایک پرانا نعرہ اسی لئے تھا کہ ”فخر سے کہو میں ہندو ہوں“ اس سے ان کی پریشانی اور حیرانی کا پتہ چلتا ہے۔
اس کے برعکس مسلمانوں کے اندر مثبت پہلو کی تاویل اور تشریح کی جاتی ہے کہ اپنی ہندوتو کی حالیہ شناخت کو بچائے رکھنے کے لئے روحانیت کے اندر پناہ لینے پر مجبور کیا دوسرے لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ہندوتو کے خطرہ مسلمانوں کو اسلام سے زیادہ قریب کر دیا۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ دور حاضر کے مسلمانوں کا تصور اسلام اور مذہبی عمل(Practices) بالکل مختلف ہے۔ بہت سے سروے جیسے سی ایس ڈی ایس لکنیتی اور آل انڈیا اسٹڈی پیو ریسرچ سینٹر(CSDS Lokniti and All India Study by Pew Research Centre 2021) اور نسلی جغرافیائی ریسرچ سے مسلمانوں کی حالت کا پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی مذہبیت ایک جامد رجحان کی عکاسی نہیں کرتی جیسے دیگر مذاہب کے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ مسلمان مختلف طریقے سے مذہبی فرائض کی انجام دہی کرتے ہیں۔

اسلام میں متنوع اور اجتہاد در حقیقت مسلم مذہبیت کی فطرت مختلف سیاق و سباق کا سبب ہے۔Indian Youth: Aspiration and Vision for future(ہندوستانی نوجوان- مستقبل کے لئے جذبہ اور ویژن) کے موضوع CSDS-Lokniti and konrad Adeneur Stiffing Germany) کے ذریعہ جو مشاہدہ اور مطالعہ ہوا ہے وہ کافی حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے اور آج کے حالات کی عکاسی کرتا ہے مسلم نوجوانوں کے بدلتے ہوئے رجحانات کو بھی پیش کرتا ہے۔6277 نوجوانوں(15 سے34برس کے) نے جواب دیا اور16 ریاستوں کو کور(Cover) کیا گیا۔رپورٹ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت پابندی کے ساتھ نماز ادا کرتی ہے۔(86 فیصد جمعہ کی نماز پڑھتے ہیں جب کہ 45 فیصد پنجگانہ نماز کی ادائیگی کرتے ہیں)۔ یہ رپورٹ تصدیق کرتی ہے کہ نماز آج ہندوستانی مسلمانوں کی مذہبیت کی خاص علامت ہے۔ نمازپڑھنے کاحوصلہ اور جذبہ مقابلتاً زیادہ پایا جاتاہے۔2016 میں CSDS-Lokniti نے سروے سے بتایا تھا کہ97 فیصد مسلمان نماز کی پابندی کرتے ہیں اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ 5سال میں نمازیوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔ یہی چیز روزہ کے سلسلے میں بیان کی جاتی ہے ۔ 85 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ وہ پابندی کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں یہ تعداد کافی متاثر کن ہے۔ لیکن2016 سے جب اس کا موازنہ کیا جاتا ہے تو ایک دوسری تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔93فیصد نوجوان جواب دیتے ہیں کہ وہ رمضان کے مہینے میں پابندی کے ساتھ روزہ رکھتے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم نوجوان مذہبیت سے آہستہ آہستہ دور ہو رہے ہیں۔ مسلم نوجوانوں کے مقابلے میں مسلم نوجوان عورتیں کم مذہبی ذہن رکھتی ہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ اس تحقیق کو عمومی کہنا غلط ہوگا کہ مسلمانوں کے اندر سیکولر ذہن کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے مسلم نوجوان کے ذہنوں کا کچھ ضرور پتہ چلتا ہے۔
پہلی چیز جو سامنے آتی ہے کہ مسلم مذہبیت کے اندر سنگین بحران برپا ہے۔ بیسویں صدی میں جو اصلاحات کی مہم شروع ہوئی تھی اب وہ روبہ زوال ہے۔ یہ تحریکات مسلمانوں کے اندر سماجی اور ثقافتی اصلاحات کی صلاحیت سے یکسر محروم ہوتی جا رہی ہیں۔ مثال کے طور پر تبلیغی جماعت کو لے لیجئے جو سنی فرقہ سے تعلق رکھتی ہے وہ اپنی تحریک کو دعوت الی الاسلام (اسلام کی طرف دعوت) کہتی ہے اور نمایاں انداز سے پیش کرتی ہے۔ وہ مسلمانوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ روحانیت کے فولڈ میں پورے طور پر آجائیں۔

یہ غیر متنازعہ دعوت مصیبت زدہ مسلمانوں کے لئے نہایت پرکشش ہے ۔خاص طور سے شمالی ہندوستان میں تقسیم ہند کے بعد تبلیغی جماعت کا غلبہ آہستہ آہستہ سنی مسلمانوں میں بڑھنتا گیا۔ تبلیغی جماعت اپنے اندرونی مسائل میں سنگین طور پر مبتلا ہو چکی ہے۔ نماز جیسی عبادت کی تبلیغ و اشاعت جو غیر متنازعہ فیہ ہے جماعت کے لیڈران بحث و مباحثہ کی اجازت نہیں دیتے یہاں تک کہ سختی سے روحانیت کے موضوع پر بھی غور و فکر اور بحث و مباحثہ سے حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔جماعت کے عالمی پس منظر یا منظر نامہ میں جدید خیالات اور عمل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس طرح یہ مذہبی تحریک یا اصلاح کی حیثیت سے ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہو چکی ہے۔ اس طرح رفتہ رفتہ یہ کمزوری اور عدم استحکام کی طرف رواں دواں ہے۔ یہ اس وقت بھی اپنی مسلمانیت دکھانے کے لئے نماز اور روزہ کی ادائیگی کرتے ہیں مگر یہ انتہائی درجہ میں مایوسی کامظاہرہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف 18فیصد نوجوانوں نے کہا کہ مسلمانوں میں مذہبیت بڑھ رہی ہے ، دوسری نازک اور سنگین ترین بات ہے وہ مشاہدہ جو مسلمانوں نے ہندوتو جارحیت کے بارے میں ظاہر کیا ہے۔ مسلمان خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے مایوس ہیں۔ ایک قابل لحاظ تعداد کا کہناہے کہ ان کو اپنے دوستوں کے درمیان متعصب ذہنیت کے لوگ ملتے ہیں اور امتیازی سلوک کرتے ہیں۔اس کا اظہار مذہبی طور پر نہیں کیا جا تا ہے۔ مسلمان اس کا اظہار جو ملک میں عدم تحمل کی صورت حال ہے اسے سیاسی رجحان اور فینو مینن کے طور پر بیان کرتے ہیں جو اکثر انتخابی مقاصد کے لئے متحرک کئے جاتے ہیں۔

یہ دو ایسے مشاہدوں اور تجربوں کی پیچیدگی اور سنگینی ہے جسے مسلمانوں کو روزمرہ کی زندگی میں پیش آتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان روحانیت کے لئے ایک پتلی لائن کھینچ رہے ہیں اور دوسرا غلبہ سیاست سے جھوج رہے ہیں۔ جہاں تک روحانی مسائل ہے اسے وہ اسلام کے اصولوں اور ضابطوں کے مطابق ٹھیک کرلیں گے یا اس کی مناسب اصلاح ہوجائے گی۔دوسری طرف ہندوتو کی کھلم کھلا مسلم دشمنی اور عداوت ہے جو سیاسی حلقہ اثر میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔ جس کے خاتمہ کے لئے نیی قسم کی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ (دی ٹیلی گراف،31جنوری 2022)+

تبصرہ : مسلمانوں کی مذہبیت اور ہندوتو کی جارحیت میرے خیال سے دوالگ چیزیں ہیں۔ ہندوتو گروپ مسلمانوں کو مغلوب اور محکوم بنانے کی پالیسی رکھتی ہے۔ تبلیغی جماعت کے طریقہ کا ر اور دائرہ کار پر صاحب مضمون نے بحث کی ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ ان کے لیڈران حالات کے پیش نظر بہت کم سوچتے ہیں اور اپنے رفقاءکو بحث و مباحثہ کی اجازت نہیں دیتے ہیں اگر کوئی اس طرف ان کے لیڈران کی توجہ مبذول کراتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے اسلاف اور بزرگوں نے جو طے کیا ہے اس سے وہ رتی برابر بھی فرق کرنا گوارا نہیں کر سکتے اورنہ اپنے کاموں کا دائرہ بڑھا سکتے ہیں۔ علامہ اقبال نے سچ کہا تھا:
آئین نو سے ڈرنا ، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

– ترجمہ و تبصرہ عبد العزیز